نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا تایا زاد بھائی فوت ہو گیا ہے۔ اس کے ورثا ء ایک بیوہ اور دو بہنیں (روبینہ ا ور نگینہ ) اور ایک گود لی ہوئی (لے پالک ) بچی(نور زادہ) ہیں جو شناخت نامہ اور دیگر کاغذات میں اس مرحوم کی طرف منسوب ہے ،اور ایک بھائی اعجاز حسین جو مرحوم سے پہلے فوت ہوچکا ہے ،اس کی بیوہ اور دو بیٹے (علی عباس اور علی مرتضیٰ)اور ایک بیٹی (شان زادہ ) موجود ہیں ،اور جائیداد میں مکان ،گاڑی اور زمیندار کا مکان اور چار کنال گیارہ مرلے زمین جس کی مالیت ایک کروڑ ساٹھ لاکھ ہے۔ورثاء میں کس طرح تقسیم ہوگی ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
صورتِ مسئولہ میں مرحوم نے جو کچھ منقولہ(جیسے:گاڑی وغیرہ) وغیر منقولہ ترکہ(جیسے:مکان،جائیدادوغیرہ) چھوڑا ہے سب سے پہلے اس میں سے ان کے تكفين و تدفين کے متوسط اخراجات نکالے جائیں،تاہم اگر کسی نے اپنی طرف سے تبرعًا اس کا انتظام کیا ہے تو پھر اس كے اخراجات نکالنے کی ضرورت نہیں ،اس کے بعد اگر اس پر کوئی قرض ہو بشمول بیوی کے مہر کے تو باقی ترکہ سے وہ ادا کیا جائے، اس کے بعد مرحوم نے اگر کوئی جائز وصیت کی ہے تو بقیہ ترکہ کے ثلث سے اسکو ادا کیا جائے، آخر میں بچے ہوئے ترکہ کےباره حصے بنا کر ربع( تين حصے) بیوہ کو، ثلثان(آٹھ حصے) دوحقیقی بہنوں کو چار چار حصے دیےجائیں اورباقی ایک حصہ دو بھتیجوں کو دیا جائے ،اور لے پالک کا میراث میں حصہ نہیں ہوتا۔ایسے ہی مرحوم کے فوت شدہ بھائی (اعجاز حسین) کی بیوہ اور بیٹی کو بھی اس صورت میں کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):
(يبدأ من تركة الميت الخالية عن تعلق حق الغير بعينها كالرهن والعبد الجاني) ۔۔۔ (بتجهيزه) يعم التكفين (من غير تقتير ولا تبذير) ككفن السنة أو قدر ما كان يلبسه في حياته ولو هلك كفنه فلو قبل تفسخه كفن مرة بعد أخرى وكله من كل ماله (ثم) تقدم (ديونه التي لها مطالب من جهة العباد) ويقدم دين الصحة على دين المرض إن جهل سببه وإلا فسيان كما بسطه السيد، (وأما دين الله تعالى فإن أوصى به وجب تنفيذه من ثلث الباقي وإلا لا ثم) تقدم (وصيته) ولو مطلقة على الصحيح خلافا لما اختاره في الاختيار (من ثلث ما بقي) بعد تجهيزه وديونه وإنما قدمت في الآية اهتماما لكونها مظنة التفريط (ثم) رابعا بل خامسا (يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة۔
(كتاب الفرائض، ۶/۷۵۹،دار الفكر-بيروت)
الفتاوى الهندية:
الخامسة - الأخوات لأب وأم للواحدة النصف وللثنتين فصاعدا الثلثان، كذا في خزانة
المفتين ومع الأخ لأب وأم للذكر مثل حظ الأنثيين، ولهن الباقي مع البنات أومع بنات
الابن، كذا في الكافي.وللزوجة الربع عند عدمهما والثمن مع أحدهما۔
(الباب الثاني في ذوي الفروض،۶/۴۴۹، دار الفكر)
السراجي في الميراث:
أماّ العصبة بنفسه : فكل ذكر لاتدخل في نسبته إلى الميت أنثى. وهم أربعة أصناف: جزء الميت ،و أصله ،وجزء أبيه،و جزء جده.ألأقرب فالأقرب. يرجّحون بقرب الدرجة،أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي البنون ،ثم بنوهم وإن سفلوا.ثم أصله أي الأب ثم الجد أي أب الأب وإن علا،ثم جزء أبيه أي الإخوة ثم بنوهم وإن سفلوا،ثم جزء جده أي ألأعمام،ثم بنوهم وإن سفلوا.
(باب العصبات:ص:۵۴،مكتبة البشرى)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔