نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںكيا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
1: میں" شاہد اقبال " تقریبا پندرہ سال سے سبزی اور فروٹ کا کاروبار کررہاہوں ،میرے پاس میرا ایک دوست کام کے لئے آیا ،میں نے اسے دیہاڑی پر رکھ لیا۔
میری فروٹ کی سیل بیس ہزار(20،000) سے پچیس ہزار (25،000)کے درمیان تھی ،اتنی سیل میں سے خرچہ نکا ل کے دوہزار روپے بچ جاتا ہے ۔
کچھ دنوں کے بعد میر ے اور دوست کے درمیان طے ہوا کہ وہ فروٹ کا سیٹ اپ سنبھالے گا ،اور مجھے میرے ٹھیہ کا پانچ سو روپے روزانہ دے گا ،اس کے علاوہ دکان کا خرچہ 1/2+1/2 (یعنی دونوں کا آدھا آدھا برابر )ہوگا۔
میں نے اسے بیس ہزار(20،000)روپے بھی دئیے ،اس نیت سے کہ وہ کاروبار کو مزید بڑھائے ،اور جب اس کے پاس ہوں مجھے واپس کردے ۔اس مسئلے میں شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کہاں تک ہماراآپس میں یہ معاملہ درست ہے؟
2:اگر ہم دونوں میں سے کسی ایک کو معلوم تھا ،کہ یہ معاملہ ناجائز ہے ،لیکن اس نے خاموشی اختیار کی ،تو گناہ گار دونوں ہوں گے یا جس کو معلوم تھا کہ معاملہ ناجائز ہے اس کے باوجود معاملہ کرتا رہا ؟
تنقيح :مستفتی(شاہد اقبال ) کے دوست کا بیان کچھ اس طرح ہے :"مجھے میرے دوست (مستفتی)نے بیس ہزار روپے دئیے اس شرط پر کہ میں ہر روز ان پیسوں کے بدلے اس کو پانچ سو روپے دوں گا ،اور اس کے علاوہ دکان کا میرے حصے کا کرایہ اور بجلی کابل بھی میں نے دینا ہے،باقی اخراجات بھی برابر برابر برداشت کریں گے۔جبکہ "شاہد اقبال"کےبیان کے مطابق پانچ سو روپیہ یومیہ ٹھیہ کے لے رہا ہے ،ان پیسوں کے بدلے نہیں لے رہا جو اس نے بطور قرض دوست کو دیئے ہیں،اسی طرح باقی اخراجات مثلا :گاڑی کا خرچہ ،بجلی کابل وغیرہ آپس میں برابر برابر تقسیم کریں گے۔
1:"شاہد اقبال"کے بیان کے مطابق وہ اپنے دوست سے پانچ سو روپیہ یومیہ ٹھیہ کے لے رہاہے ،اور اخراجات مثلا گاڑی کاخرچہ ،بجلی کا بل وغیرہ آپس میں برابر برابر برداشت کرلینا آپس میں طے ہوچکاہے ،اور یہ پانچ سو روپے ان پیسوں کے بدلے نہیں لے رہا جو اس نے دوست کو بطور قرض دیئے ہیں ،تو یہ شرعا درست معاملہ ہے۔
جبکہ شاہد اقبال کے دوست کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ "شاہد ا قبال "اس سے یومیہ پانچ سو روپے ان پیسوں کے بدلے لے رہا ہے، جو اس نے بطور قرض دئیے ہیں ، اور اس کے علاوہ دکان کا کرایہ اور باقی اخراجات کے پیسے بھی آدھے آدھے کرکے آپس میں برداشت کرلینا طے ہوگیا ہے،تو شاہد اقبال کےلئے اپنے دوست سے بیس ہزار روپے قرض دینے پر یومیہ پانچ سو روپے لیناسود اورحرام ہے،اس معاملہ کوختم کرنا دونوں پر واجب ہے ،اگر اس شرط کو ختم کردیاجائے ،تو معاملہ درست ہوجائے گا ،تاہم آج تک قرض پر دوست سے جتنے روپے لئے ہیں ،شاہد اقبال پر اس کے دوست کو واپس کردینا واجب ہے۔
اگر ناسمجھی میں اب تک اس طرح معاملہ رہاہے تو اس پر توبہ و استغفار کرلیں ،اور آئندہ کیلئے اس طرح کے معاملے سے اجتناب کریں۔
2:دونوں میں سے جس کو معلوم تھا کہ یہ معاملہ شرعا درست نہیں ہے اس کے باوجود معاملے کو جاری رکھا تووہ شخص سخت گناہ گار ہوا ہے،اور اللہ تعالی کے ہاں یہ شخص ماخوذ ہوگا ،الا یہ کہ اپنے اس فعل پر توبہ تائب ہوکر اس معاملے کوچھوڑ دیں۔اسی طرح وہ شخص بھی گناہ گار ہو ا جس کو علم نہ تھا ،کہ یہ معاملہ جائز ہے یا ناجائز،لہذا دونوں کو توبہ تائب ہو کر آئندہ کیلئےایسے معاملے سے مکمل اجتناب کرنا ضروری ہے،البتہ جس کو علم تھا اس کا گناہ زیاد ہ ہے اس کو سز ا بھی زیادہ ملے گی۔
قال الله تعالي:{يَاأَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقنَاكُمْ وَاشْكُرُوا لِلَّهِ إِنْ كُنتُمْ إِيَّاهُ تعْبُدُونَ}
[البقرة: 172]
وقال:
{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَينَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنتُمْ تعْلَمُونَ} [البقرة: 188]
وقال:
{يَاأَيهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تفْلِحُونَ} [آل عمران: 130]
وقال:
{اسْتغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا} [نوح: 10]
وفي سنن ابن ماجه:
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لَعَنَ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدِيهِ، وَكَاتِبَهُ»
(باب التغليظ في الربا، 764/2،ط:داراحياء الكتب العربية)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔