سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1448-884 Fatwa no: 1448-884

قرآن پاک کے اوراق پرکچھ تحریر کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: قرآن پاک کے اوراق پر کچھ تحریرکرنا یاداشت کے لئے یاکوئی نشان وغیرہ لگانا،یعنی خوشخبری یاقیامت وغیرہ کے الفاظ تحریر کرناکچی پنسل یابال پین سے،اس کا کیاحکم ہے؟
جواب :

قرآن مجید کے اوراق پر بال پین ، مارکر  یاکچی پنسل سے  کچھ لکھنا یا  کوئی نشان وغیرہ لگانا،یعنی خوشخبری یاقیامت وغیرہ کے الفاظ تحریر کرناضرورت کی بناء پر(حفظ یا تعلیم کی ضرورت کی صورت میں)جائز ہے۔تاہم بغیر ضرورت کے قرآن مجید پر کچھ  لکھنا یانشان وغیرہ ڈالنامکروہ تنزیہی ہے۔
بدائع الصنائع:
ويكره التعشير والنقط في المصحف لقول عبد الله بن مسعود - رضي الله عنهما - جردوا مصاحفكم وذلك في ترك التعشير والنقط ولأن ذلك يؤدي إلى الخلل في تحفظ القرآن لأنه يتكل عليه فلا يجتهد في التحفظ بل يتكاسل لكن قيل هذا في بلادهم فأما في بلاد العجم فلا يكره لأن العجم لا يقدرون على تعلم القرآن بدونه ولهذا جرى التعارف به في عامة البلاد من غير نكير فكان مسنونا لا مكروها.
(كتاب الاستحسان،127/5،ط:دار الكتب العلمية)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 29 Oct 2026