نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ سیہا کی دو قسمیں ہیں ایک بڑا ہوتا ہے جس کو عربی میں دلدل کہا جاتا ہے اور ایک چھوٹا ہوتا ہے ، جس کو عربی میں قنفذ کہا جاتا ہے۔قنفذ کے بارے میں تمام حنفی علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ یہ حرام ہے ، لیکن جو صفات آپ نے سوال میں ذکر کی ہیں وہ صفات قنفذ کی نہیں ہیں ،بلکہ وہ دلدل کی کی ہیں جو قنفذ سے بڑا ہوتا ہے۔
اب قنفذ اور دلدل ایک نوع ہے یا الگ الگ، تو قدیم حنفی فقہاءنے ان دونوں میں فرق نہیں کیا ہیں اور مطلقاً حرام کہا ہے۔
کما فی سنن ابی داؤد:
عن عيسى بن نميلة عن أبيه قال كنت عند ابن عمر فسئل عن أكل القنفذ فتلا (قل لا أجد فيما أوحى إلى محرما) الآية قال قال شيخ عنده سمعت أبا هريرة يقول ذكر عند النبى -صلى الله عليه وسلم- فقال « خبيثة من الخبائث ». فقال ابن عمر إن كان قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- هذا فهو كما قال ما لم ندر.
(سنن أبی داؤد:رقم:3801)
وفی الدرالمختار:
( ولا يحل ذو ناب يصيد بنابه ) فخرج نحو البعير ( أو مخلب يصيد بمخلبه ) أي ظفره فخرج نحو الحمامة ( من سبع ) بيان لذي ناب والسبع كل مختطف منتهب جارح قاتل عادة ( أو طير ) بيان لذي مخلب (ولا الحشرات) هي صغار دواب الأرض واحدها حشرة)
وفی الشامية:
قوله ( واحدها حشرة ) بالتحريك فيهما كالفأرة والوزغة وسام أبرصوالقنفذ والحية والضفدع والزنبور والبرغوث والقمل والذباب والبعوض والقراد وما قيل إن الحشرات هوام الأرض كاليربوع وغيره ففيه أن الهامة ما تقتل من ذوات السم كالعقارب
(الدرالمختار مع الرد:6/304 ط سعيد)
وفی حياة الحيوان:
قال الشافعي: يحل أكل القنفذ لأن العرب تستطيبه، وقد أفتى ابن عمر بإباحته وقال أبو حنيفة والإمام أحمد: لا يحل لما روى أبو داود وحده أن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما سئل عنه، فقرأ: " قل لا أجد فيما أوحي إلي محرماً، الآية فقال شيخ عنده: سمعت أبا هريرة رضي الله تعالى عنه يقول: ذكر القنفذ عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: " خبيث من الخبائث " . فقال ابن عمر رضي الله تعالى عنهما: إن كان قد قال رسول الله صلى الله عليه وسلم هذا فهو كما قال.
(حياة الحيوان:2/122)
اسی کو حضرت مفتی کفایت اللہ دہلوی ؒ نے اپنی فتاوی کفایت المفتی میں ذکر کیا ہے، اور مظلقاً حرمت کا فتوی دیا ہے۔
(کفایت المفتی:11/664 ادارۃ الفاروق کراچی)۔
لیکن مفتی رضاء الحق صاحب حفظہ اللہ نے فتاوی دارلعلوم زکریا میں تحریر فرمایا ہے۔کہ قدیم افغانی علماء اور آج کل کے جدید اہل تحقیق دونوں کو الگ الگ نوع سمجھتے ہیں،قنفذ کو حشرات الارض میں سے شمار کر کے حرام قرار دیتے ہیں اور دلدل کو گھاس کھانے والا حیوان سمجھ کر حلال کہتے ہیں۔ ان حضرات نے قنفذ اور دلدل کے درمیان درج ذیل فروق بیان کیے ہیں۔
(1)قنفذ گندگی اور کیڑے مکوڑے کھاتا ہے اور دلدل گھاس وغیرہ کھاتا ہے ۔
(2)قنفذ زمین کے حشرات میں سے ہیں اور دلدل ایسا نہیں ہے ۔
(3)قنفذ ذوناب شکاری جانور ہے اور دلدل اس سے مختلف ہے ۔
(4)قنفذ کتے کی طرح پانی پیتا ہے اور دلدل بکری کی طرح۔
جدید اہل تحقیق کی رائے یہ ہے کہ دلدل خشکی میں رہنے والا جانور ہے ،جس کی خوراک نباتات کی جڑیں ،گٹھلی ،درخت کی چھال اور چھلکاہے۔(جانوروں کی انسائیکلوپیڈیا)
ان فروق سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ قنفذ میں حرام جانوروں کی صفات پائی جاتی ہیں ،اس کے بر عکس دلدل میں حلال جانوروں والے خصائل موجود ہیں ۔
حضرت مفتی فرید صاحب ؒ بھی دلدل کے حلال ہونے کا فتوی دیتے تھے، اور اس کی تائید فتاوی الشیخ عبدالعزیز ابن باز سے بھی ہوتی ہے ، انہوں نے لکھا ہے ۔قد اختلف العلماء رحمهم الله في حكمه فمنهم من أحله ومنهم من حرمه ، وأصح القولين أنه حلال ؛ لأن الأصل في الحيوانات الحل فلا يحرم منها إلا ما حرمه الشرع ولم يرد في الشرع ما يدل على تحريم هذا الحيوان وهو يتغذى بالنبات كالأرنب والغزال وليس من ذوات الناب المفترسة ، فلم يبق وجه لتحريمه ، والحيوان المذكور نوع من القنافذ ويسمى الدلدل ويعلو جلده شوك طويل.
(مجموع فتاوی ابن باز:23/35)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔