نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہےکہ شرکت ملک میں ہرشریک دوسرےکےلئےبمنزلہ اجنبی ہوتاہے،اس لئےہرشریک اپناحصہ دوسرےشریک کو بیچ سکتاہے،لہذاصورت مسئولہ میں اگر ایک شریک ٹیوب ویل میں اپناحصہ دوسرےشریک کوبیچ کرشرکت سےالگ ہوناچاہئے،تویہ اس کےلئےجائزہے،اس صورت میں دوسراشریک مکمل طورپرٹیوب ویل کامالک بن جائےگا،لیکن اگریہ شرط لگائی جائےکہ تین سال بعدبہرصورت ایک شریک دوسرےکوپیسےدیکرمالک بن جائےگا،تب اس طرح بیع کرناجائزنہیں ہوگا،اس لئےکہ آپﷺنےبیع میں شرط لگانےسےمنع فرمایاہے۔
في البحرالرائق:
قوله ( وأمة على أن يعتق المشتري أو يدبر أو يكاتب.... أو دارا على أن يسكن أو يقرض المشتري درهما أو يهدي له أو يسلم إلى كذا أو ثوب على أن يقطعه البائع أو يخيطه قميصا ) أي لم يجز بيع أمة بشرط منها وهو فاسد لأن بيع وشرط وقد نهى النبي عن بيع وشرط.
(باب البيع الفاسد،ج:6،ص:92،ط:دارالمعرفة)
وفي الدرالمختار:
( وكل ) من شركاء الملك ( أجنبي ) في الامتناع عن تصرف مضر ( في مال صاحبه ) لعدم تضمنها الوكالة ( فصح له بيع حصته ولو من غير شريكه بلا إذن إلا في صورة الخلط ) لماليهما.
(كتاب الشركة،ج:4،ص:298،ط: دارالفكر)
في الجوهرةالنيرة:
فشركة الأملاك : العين يرثها الرجلان ، أو يشتريانها )( قوله : ولا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه وكل واحد منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي ) لأن تصرف الإنسان في مال غيره لا يجوز إلا بإذن أو ولاية.
(الشركةعلى ضربين،ج:3،ص:109،ط:دارالفكر)
وفي اللباب في شرح الكتاب:
فشركة الأملاك: العين يرثها رجلان أو يشتريانها فلا يجوز لأحدهما أن يتصرف في نصيب الآخر إلا بإذنه، وكل واحدٍ منهما في نصيب صاحبه كالأجنبي.
(كتاب الشركة،ج:1،ص:194،ط:دارالكتاب العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 11 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔