سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-99 Fatwa no: 1447-99

صحت اقتداء کیلئے صفوف میں اتصال شرط ہے

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : نمازباجماعت میں اتصال کا کیا حکم ہے اور یہ کتنے فا صلے سے ہوسکتا ہے دلائل کیساتھ ذكر كريں؟ نیز مسجد سے باہر کے نمازیوں کیلئے اتصال کاحکم اور فاصلہ کتنا ہوگا ؟ مسجد سے باہر کسی مکان میں کھڑے ہوکر جماعت کی نماز میں شریک ہو تو مسجد میں مذکورہ جماعت کیساتھ اتصال کی کیا صورت ہوگی؟
جواب :

نمازباجماعت  میں اتصال صفوف شرط ہے،اور  دو صفوں کے درمیان اتنافاصلہ رکھنا چاہیے کہ   حالت رکوع یا سجدے میں جاتے ہوئے ایک نمازی کا سر دوسرے  کیساتھ نہ لگے ۔مسجد سے باہرکھڑے ہوکرجماعت کی نمازمیں شریک نمازیوں  کیلئے  بھی اتصال صفوف  شرط ہے، اسی طرح مسجد سے باہر کسی مکان وغیرہ میں مسجد کے امام کیساتھ باجماعت نماز پڑھنے والوں کیلئےبھی صفوں کا متصل ہونا ضروری ہے،اور اتصال کی مقدار یہ ہے کہ دو صفوں سے کم فاصلہ ہو، لہذا مسجد سے باہر کسی مکان وغیرہ میں نماز پڑھنے والوں اور مسجد میں نماز پڑھنے والوں کے درمیان فاصلہ دوصفوں سے کم ہو تو ان کی اقتدا درست ہوگی اور اگر ان کے درمیان فاصلہ دوصفوں کے بقدر یا اس سے زیادہ ہو تو ان کی اقتدا درست نہیں ہوگی ،اور مسجد سے باہر کسی مکان میں نماز پڑھنے والوں کی اتصال کی صورت یہ ہوگی کہ اگر مسجد اور مکان کے درمیان دو صفوں کے بقدر یا اس سے زیادہ جگہ خالی ہو تو درمیان میں کچھ نمازی (کم ازکم  تین نمازی )کھڑا کرکے صف بنایا جائےتاکہ صفوں کے درمیان اتصال ہوجائے ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَيَمْنَعُ مِنْ الِاقْتِدَاءِ) صَفٌّ مِنْ النِّسَاءِ بِلَا حَائِلٍ قَدْرُ ذِرَاعٍ أَوْ ارْتِفَاعُهُنَّ قَدْرَ قَامَةِ الرَّجُلِ مِفْتَاحُ السَّعَادَةِ أَوْ (طَرِيق تَجْرِي فِيهِ عَجَلَةٌ) آلَةٌ يَجُرُّهَا الثَّوْرُ (أَوْ نَهْرٌ تَجْرِي فِيهِ السُّفُنُ) وَلَوْ زَوْرَقًا وَلَوْ فِي الْمَسْجِدِ (أَوْ خَلَاءٌ) أَيْ فَضَاءٌ (فِي الصَّحْرَاءِ) أَوْ فِي مَسْجِدٍ كَبِيرٍ جِدًّا كَمَسْجِدِ الْقُدْسِ (يَسَعُ صَفَّيْنِ) فَأَكْثَرَ إلَّا إذَا اتَّصَلَتْ الصُّفُوفُ فَيَصِحُّ مُطْلَقًا.
(باب الامامة،ج2،ص400،ط:مكتبة رحمانية)
وفي فتاوى قاضي خان:
وإن كان بين الإمام والمقتدي طريق إن كان ضيقاً لا تمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع الإقتداء وإن كان واسعاً تمر فيه العجلة والأوقار يمنع فإن قام المقتدي في عرض الطريق واقتدى بالإمام جاز ويكره أما الجواز لأنه إذا قام في الطريق لم يبق بينه وبين الإمام طريق تمر به العجلة فإن قام رجل آخر خلف المقتدي وراء الطريق واقتدى به لا يصح اقتداؤه لأن صلاة من قام على الطريق مكروه فصار في حق من خلفه وجوده كعدمه ولو كان على الطريق ثلاثة جازت صلاة من خلفهم لأن الثلاثة صف في بعض الروايات وعند اتصال الصفوف لا يبقى الطريق حائلا.
(فصل فيمن يصح الاقتداءبه وفيمن لا يصح،ج1،ص181،ط:رشيدية)
وفى الهندية:
(منها) طريق عام يمر فيه العجلة والأوقار هكذا في شرح الطحاوي إذا كان بين الإمام وبين المقتدي طريق إن كان ضيقا لا يمر فيه العجلة والأوقار لا يمنع وإن كان واسعا يمر فيه العجلة والأوقار يمنع. كذا في فتاوى قاضي خان والخلاصة هذا إذا لم تكن الصفوف متصلة على الطريق أما إذا اتصلت الصفوف لايمنع الاقتداء.
وفيه أيضا: ويجوز اقتداء جار المسجد بإمام المسجد وهو في بيته إذا لم يكن بينه وبين المسجد طريق عام وإن كان طريق عام ولكن سدته الصفوف جاز الاقتداء لمن في بيته بإمام المسجد. كذا في التتارخانية ناقلا عن الحجة.
   (الفصل الرابع مايمنع من صحةالاقتداءومالايمنع،ج1،ص187،188،ط:رشيدية)
وفى البدائع الصنائع:
وَلَوْ اقْتَدَى خَارِجَ الْمَسْجِدِ بِإِمَامٍ فِي الْمَسْجِدِ: إنْ كَانَتْ الصُّفُوفُ مُتَّصِلَةً جَازَ، وَإِلَّا فَلَا؛ لِأَنَّ ذَلِكَ الْمَوْضِعَ بِحُكْمِ اتِّصَالِ الصُّفُوفِ يَلْتَحِقُ بِالْمَسْجِدِ هَذَا إذَا كَانَ الْإِمَامُ يُصَلِّي فِي الْمَسْجِدِ، فَأَمَّا إذَا كَانَ يُصَلِّي فِي الصَّحْرَاءِ: فَإِنْ كَانَتْ الْفُرْجَةُ الَّتِي بَيْنَ الْإِمَامِ وَالْقَوْمِ قَدْرَ الصَّفَّيْنِ فَصَاعِدًا - لَا يَجُوزُ اقْتِدَاؤُهُمْ بِهِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الطَّرِيقِ الْعَامِّ أَوْ النَّهْرِ الْعَظِيمِ فَيُوجِبُ اخْتِلَافَ الْمَكَانِ.
(فصل في بيان شرائط الاركان،ج1،ص630،ط:قديمي كتب خانة)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب