سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-100 Fatwa no: 1447-100

ہاتھ اور گھٹنے لگائے بغیر صرف پیشانی زمین پررکھ کر سجدہ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : زید نماز فجر پڑھ رہا تھا ، جب دوسری رکعت کے سجدے میں گیا ، تو دونوں ہاتھ اور گھٹنوں کو زمین پر لگائے بغیر صرف چہرہ زمین پر لگا کر سجدہ کیا اور سلام پھیر دیا آیا اسکی نماز اداء ہو گئی یا نہیں ؟
جواب :

 سجدے میں زمین پر پیشانی اور ناک دونوں رکھنا یا عذر کی وجہ سے صرف ناک اور پاؤں رکھنا فرض ہے ، جب کہ سجدے میں دونوں ہاتھوں اور گھٹنوں کا زمین پر رکھنا سنت ہے اور نماز میں کسی سنت کے چھوٹ جانے سے نماز درست رہتی ہے ، لہذا صورت مسئولہ میں صرف چہرہ ، پاؤں کا زمین پر رکھنے سے نماز اداء ہو گئی ، تا ہم بلا عذر  اس طرح سجدہ کرنا مکروہ تنزیہی ہے ، اس لئے اس سے احتراز کرنا ضروری ہے ۔
کما فی فتح القدير :
وَوَضْعُ الْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ سُنَّةٌ عِنْدَنَا لِتَحَقُّقِ السُّجُودِ بِدُونِهِمَا، لأن الساجد إسم لمن وضع الوجه علي الارض وقوله عندنا إحتراز عن قول زفر وهو قول الشافعي ومختار الفقيه ابي الليث أنه واجب لقوله عليه السلام : امرت ان اسجد علي سبعة أعضاء والجواب ماتقدم أن هذا الحديث يدل علي محل السجدة لا علي أن وضع الجميع لازم
( كتاب الصلاة ، فصل في صفة الصلاة ، ج 1 ، ص 311 ، ط : مكتبه رشيديه )
وفي الهندية :
لو كان بموضع سجوده شوك كثير أو قراضات زجاجة فرفع رأسه من موضع السجود ووضع بموضع آخر جاز ولا يكون ذلك سجدة أخرى بل الكل سجدة واحدة كذا في التتارخانية ولو ترك وضع اليدين والركبتين جازت صلاته بالإجماع. 
( كتاب الصلاة ، الفصل الاول في فرائض الصلاة ،ج 1 ، ص 142 ، ط : مكتبه رشيديه )
وفي التاتارخانيه :
السنة في السجود ان يسجد علي الجبهة والأنف واليدين والركبتين والقدمين ؛ وأما فرض السجود فيتأدي بوضع الجبهة أو الأنف والقدمين في قول أبي حنيفة رحمه الله .
وفيه أيضا :
والسجود علي اليدين والركبتين ليس بواجب عندنا .
( كتاب الصلاة ، فصل في السجود ، ج 1 ، ص 125 ، ط : مكتبه إعزاززية)
وفي المحيط البرهاني :
السنّة في السجود أن يسجد على الجبهة، والأنف واليدين والقدمين، وأما فرض السجود يتأدى بوضع الجبهة والأنف والقدمين في قول أبي حنيفة،
(كتاب الصلاة ،ألفصل في السجود ، ج 1 ، ص 83: إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب