سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-102 Fatwa no: 1447-102

ظہر کی سنتیں پڑھنے کے بغیر امامت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ظہر کی سنتیں پڑھنے کے بغیر امامت کا کیا حکم ہے ؟نیز اگر ظہر کی نماز جماعت سے پڑھی جائے اور چار سنتیں رہ گئی ہو تو پہلے دورکعت سنت پڑھے یا چار؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  ظہر کی سنتیں  پڑھنے کے بغیر ظہر کی امامت جائز ہے ،اور اگر ظہر کی چار رکعت سنتیں رہ جائیں توجماعت کے بعدچاہے چار رکعت پہلے پڑھے اور دو رکعت بعد میں یا اس کے برعکس  دونوں طرح پڑھنا جائز ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ پہلے دورکعت سنت پڑھ لے اور پھر چار۔
كما في شرح رياض الصالحين:
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا لم يصل أربعا قبل الظهر صلاهن بعدها رواه الترمذي وقال حديث حسن.
قال المؤلف رحمه الله باب سنة الظهر وذكر أحاديث متعددة كلها تدل على أن الظهر لها ست ركعات أربع قبلها بسلامين وركعتان بعدها وأنه إذا نسي الإنسان أو فاته الأربع القبلية فإنه يصليها بعد الظهر لأن الرواتب تقضى كما تقضى الفرائض.
(باب سنة الظهر،ج5،ص132،ط:دارالوطن رياض)
وفي ردالمحتار على الدر المختار:
(بِخِلَافِ سُنَّةِ الظُّهْرِ) وَكَذَا الْجُمُعَةُ (فَإِنَّهُ) إنْ خَافَ فَوْتَ رَكْعَةٍ (يَتْرُكُهَا) وَيَقْتَدِي (ثُمَّ يَأْتِي بِهَا) عَلَى أَنَّهَا سُنَّةٌ (فِي وَقْتِهِ) أَيْ الظُّهْر (قَبْلَ شَفْعِهِ) عِنْدَ مُحَمَّدٍ،وَبِهِ يُفْتَى جَوْهَرَةٌ.
(قَوْلُهُ وَبِهِ يُفْتَى) أَقُولُ: وَعَلَيْهِ الْمُتُونُ، لَكِنْ رَجَّحَ فِي الْفَتْحِ تَقْدِيمَ الرَّكْعَتَيْنِ. قَالَ فِي الْإِمْدَادِ: وَفِي فَتَاوَى الْعَتَّابِيِّ أَنَّهُ الْمُخْتَارُ، وَفِي مَبْسُوطِ شَيْخِ الْإِسْلَامِ أَنَّهُ الْأَصَحُّ لِحَدِيثِ عَائِشَةَ «أَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - كَانَ إذَا فَاتَتْهُ الْأَرْبَعُ قَبْلَ الظُّهْرِ يُصَلِّيهِنَّ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ» وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ.
(باب ادراك الفريضة،ج2،ص619،ط:رحمانية)
وفي فتح القدير:
بِخِلَافِ سُنَّةِ الظُّهْرِ حَيْثُ يَتْرُكُهَا فِي الْحَالَتَيْنِ لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ أَدَاؤُهَا فِي الْوَقْتِ بَعْدَ الْفَرْضِ هُوَ الصَّحِيحُ، وَإِنَّمَا الِاخْتِلَافُ بَيْنَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ فِي تَقْدِيمِهَا عَلَى الرَّكْعَتَيْنِ وَتَأْخِيرِهَا عَنْهُمَا.
(قَوْلُهُ وَإِنَّمَا الْخِلَافُ إلَخْ) فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ، وَعَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ قَبْلَهُمَا، وَقِيلَ الْخِلَافُ عَلَى عَكْسِهِ، وَالْأَوْلَى تَقْدِيمُ الرَّكْعَتَيْنِ لِأَنَّ الْأَرْبَعَ فَاتَتْ عَنْ الْمَوْضِعِ الْمَسْنُونِ فَلَا تَفُوتُ الرَّكْعَتَانِ أَيْضًا عَنْ مَوْضِعِهِمَا قَصْدًا بِلَا ضَرُورَةٍ.

Mufti

تاریخ جواب: 11 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب