سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-103 Fatwa no: 1447-103

ایک آنکھ سے محروم عاقل و بالغ شخص پر نماز کی فرضیت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک لڑکا ہے جس کی عمر 22 سال ہےاور اس کی ایک آنکھ خراب ہے یعنی ایک آنکھ کی روشنی چلی گئی ہے ،اسی طرح اس کا عضو تناسل (عضو مخصوص) بھی نارمل حالت سے چھوٹا ہے ،باقی بالکل ٹھیک ہے،لیکن نماز وغیرہ اس کو کچھ بھی یاد نہیں ہے ،تو کیا ایسا لڑکا معذور سمجھا جائے گا؟ کیا اس پر نماز وغیرہ فرض نہیں ہیں؟ جبکہ اس کے والدین کہتے ہیں کہ یہ معذور ہے ۔
جواب :

واضح رہے کہ اگر کسی شخص میں تین شرائط یعنی اسلام،عقل اور بلوغت موجود ہوں تو وہ مکلف شمار ہوگا اور اس پر نماز وغیرہ فرائض  کی ادائیگی لازم ہوگی اور اگر ان میں سے میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے ،تو وہ غیر مکلف شمار ہوگا اور اس شخص پرنماز وغیرہ فرائض کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی،لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ لڑکے میں درج بالا شرائط موجود ہوں اور صرف اس کی ایک آنکھ خراب ہواور عضو تناسل چھوٹا ہو،تو اس کی وجہ سے اس سے عبادات ساقط نہیں ہونگی ،اس لئے اگر وہ عبادات کا اہتمام نہیں کریگا،تو سخت گناہگار ہوگا۔
كما في قوله تعالى:
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.
(سورة بقرة،آية،286)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
(هي فرض عين على كل مكلف) بالإجماع. فرضت في الإسراء ليلة السبت سابع عشر رمضان قبل الهجرة بسنة ونصف، وكانت قبله صلاتين قبل طلوع الشمس وقبل غروبها شمني.
(قوله: على كل مكلف) أي بعينه؛ ولذا سمي فرض عين، بخلاف فرض الكفاية فإنه يجب على جملة المكلفين كفاية، بمعنى أنه لو قام به بعضهم كفى عن الباقين وإلا أثموا كلهم. ثم المكلف هو المسلم البالغ العاقل ولو أنثى أو عبدا.
(كتاب الصلاة،ج1،ص351،ط:دارالفكر)
وفى الفقه الإسلامي:
وهي فرض عين على كل مكلف (بالغ عاقل)، ولكن تؤمر بها الأولاد لسبع سنين، وتضرب عليها لعشر، بيدٍ، لا بخشبة، لقوله صلّى الله عليه وسلم:"مُروا صبيانكم بالصلاة لسبع سنين، واضربوهم عليها لعشر سنين، وفرِّقوا بينهم في المضاجع."
(القسم الأول:العبادات،الباب الثاني:الصلاةج1،ص351،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب