سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-104 Fatwa no: 1447-104

عذر کی وجہ سے جامع مسجد کے بجائے چھوٹی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : ایک بڑی بستی میں ایک جامع مسجد تھی جس میں باقاعدہ نماز جمعہ ادا ہوتی تھی اب ازسرنو تعمیر کرنے کیلئے اس مسجد کو گرایا گیا اب تعمیر کے مکمل ہونے تک دوسرے چھوٹی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا کیسا ہے ؟ جائز ہے یا نہیں ؟
جواب :

بصورت مسئولہ اگر اس بستی میں شرائط جمعہ موجود ہیں تو پھر جامع مسجد کی تعمیر ہونے تک اس کی جگہ دوسرے چھوٹی مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنا درست ہے ۔
كما في الهندية :
وتؤدى الجمعة في مصر واحد في مواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - وهو الأصح وذكر الإمام السرخسي أنه الصحيح من مذهب أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ، هكذا في البحر الرائق.
(ألباب السادس عشر في صلاة الجمعة،ج2،ص 309ط:مكتبة رشيدية)
وفي البحر الرائق :
قوله (وتؤدى في مصر في مواضع) أي يصح أداء الجمعة في مصر واحد بمواضع كثيرة وهو قول أبي حنيفة ومحمد وهو الاصح، لان في الاجتماع في موضع واحد في مدينة كبيرة حرجا بينا وهو مدفوع. كذا ذكر الشارح. وذكر الامام السرخسي أن الصحيح من مذهب أبي حنيفة جواز إقامتها في مصر واحد في مسجدين وأكثر.
(باب صلاة الجمعة،ج2،ص250،ط:ألمكتبة الوحيدية)
وفي فتح القدير:
وَعَنْهُ أَنَّهُ يَجُوزُ فِي مَوْضِعَيْنِ إذَا كَانَ الْمِصْرُ عَظِيمًا لَا فِي ثَلَاثَةٍ. وَعَنْ مُحَمَّدِ يَجُوزُ تَعَدُّدُهَا مُطْلَقًا.
وَرَوَاهُ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَلِهَذَا قَالَ السَّرَخْسِيُّ: الصَّحِيحُ مِنْ مَذْهَبِ أَبِي حَنِيفَةَ جَوَازُ إقَامَتِهَا فِي مِصْرٍ وَاحِدٍ مِنْ مَسْجِدَيْنِ فَأَكْثَرَ، وَبِهِ نَأْخُذُ لِإِطْلَاقِ.
(باب صلاة الجمعة،ج2،ص51،ط:مكتبة رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب