سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-105 Fatwa no: 1447-105

عذر کی وجہ سےکرسی پر نماز پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: بعض مساجد کے اندر معذور اور زیادہ عمر والے حضرات کے لئے کرسیاں رکھی ہوتی ہیں ،جن میں سامنے کی طرف سجدہ کرنے کے لئے ترچھہ سا تختہ لگا ہوتا ہے ،اس طرز کی کرسیاں مسجد میں رکھنا اور اس پر بایں طور نماز پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے ؟
جواب :

اگر کسی کی بیماری اس حد تک پہنچ چکی ہو یا اتنا بوڑھا  ہوچکا ہو کہ اس کے لئے نماز میں کھڑا ہونا ممکن نہیں ،یا قیام کی وجہ سے مرض کی زیادتی یا شفایابی میں دیر لگ جانےکا گمان غالب ہو کہ قیام یا رکوع وسجدہ کیوجہ سے ناقابل برداشت تکلیف ہوتی ہوتو پھر زمین یا کرسی وغیرہ پر بیٹھ کر نماز پڑھنا جائز ہے،البتہ اس صورت میں اگر وہ رکوع اور سجدہ کرنے پر قادر ہو تو باقاعدہ طور پر سجدہ اور رکوع کے ساتھ نماز پڑھے صرف اشارہ پر اکتفاء نہ کرےاور اگر رکوع وسجدہ کرنے پر بھی قادر نہ ہو لیکن قیام پر قادر ہو تو قیام کرے اوراشارہ کیساتھ رکوع اور سجدہ کرے،اس صورت میں اگر سجدہ کرنے کے لئے سامنے کوئی چیز رکھی ہو تو اگر وہ چیز دواینٹ کے برابر اونچی ہے یا اس کی اونچائی دو اینٹ سے کم ہے،تو یہ سجدہ کا اشارہ شمار نہیں ہوگا ،بلکہ یہ زمین ہی پر سجدہ کرنا شمار ہوگااور اگر وہ چیز  دو اینٹ سے زیادہ اونچی ہے تو اس پر سجدہ کرنا اور اس کے بغیر صرف اشارہ سے سجدہ کرنا دونوں برابر ہیں،لہذا  مساجد کے اندر معذور اور عمررسیدہ افراد کے کے لئے جوکرسیاں رکھی جاتی ہیں جن میں سامنے کی طرف سجدہ کرنے کے لئے ترچھہ سا تختہ لگا ہوتا ہے،جس کی اونچائی عموما دو اینٹ سے زیادہ ہوتی ہے ،تواگر کوئی شخص اس پر سجدہ کرلے تو سجدہ کا فریضہ ادا ہو جائیگا،البتہ اشارہ کے ساتھ سجدہ کرنا زیادہ بہتر ہے،نیز سجدہ میں رکوع سے زیادہ جھکنا ضروری ہے۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(مَنْ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ الْقِيَامُ) أَيْ كُلُّهُ (لِمَرَضٍ) حَقِيقِيٍّ وَحَدُّهُ أَنْ يَلْحَقَهُ بِالْقِيَامِ ضَرَرٌ بِهِ يُفْتَى (قَبْلَهَا أَوْ فِيهَا) أَيْ الْفَرِيضَةِ (أَوْ) حُكْمِيٍّ بِأَنْ (خَافَ زِيَادَتَهُ أَوْ بُطْءَ بُرْئِهِ بِقِيَامِهِ أَوْ دَوَرَانَ رَأْسِهِ أَوْ وَجَدَ لِقِيَامِهِ أَلَمًا شَدِيدًا) أَوْ كَانَ لَوْ صَلَّى قَائِمًا سَلِسَ بَوْلُهُ أَوْ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ الصَّوْمُ كَمَا مَرَّ (صَلَّى قَاعِدًا) وَلَوْ مُسْتَنِدًا إلَى وِسَادَةٍ أَوْ إنْسَانٍ فَإِنَّهُ يَلْزَمُهُ ذَلِكَ عَلَى الْمُخْتَارِ (كَيْفَ شَاءَ) عَلَى الْمَذْهَبِ لِأَنَّ الْمَرَضَ أَسْقَطَ عَنْهُ الْأَرْكَانَ فَالْهَيْئَاتُ أَوْلَى.
(قَوْلُهُ لِمَرَضٍ حَقِيقِيٍّ إلَخْ) قَالَ فِي الْبَحْرِ: أَرَادَ بِالتَّعَذُّرِ التَّعَذُّرَ الْحَقِيقِيَّ، بِحَيْثُ لَوْ قَامَ سَقَطَ، بِدَلِيلِ أَنَّهُ عَطَفَ عَلَيْهِ التَّعَذُّرَ الْحُكْمِيَّ وَهُوَ خَوْفُ زِيَادَةِ الْمَرَضِ.
(باب صلاة المريض،ج2،ص95،ط:دارالفكر)
وفى الشامية:
فَحِينَئِذٍ يُنْظَرُ إنْ كَانَ الْمَوْضُوعُ مِمَّا يَصِحُّ السُّجُودُ عَلَيْهِ كَحَجَرٍ مَثَلًا وَلَمْ يَزِدْ ارْتِفَاعُهُ عَلَى قَدْرِ لَبِنَةٍ أَوْ لَبِنْتَيْنِ فَهُوَ سُجُودٌ حَقِيقِيٌّ فَيَكُونُ رَاكِعًا سَاجِدًا لَا مُومِئًا حَتَّى إنَّهُ يَصِحُّ اقْتِدَاءُ الْقَائِمِ بِهِ وَإِذَا قَدَرَ فِي 
صَلَاتِهِ عَلَى الْقِيَامِ يُتِمُّهَا قَائِمًا، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ الْمَوْضُوعُ كَذَلِكَ يَكُونُ مُومِئًا .
(باب صلاة المريض،ج2،ص99،ط:ايچ ايم سعيد)
وفى الفتاوى الهندية:
ثم إذا صلى المريض قاعدا كيف يقعد الأصح أن يقعد كيف يتيسر عليه، هكذا في السراج الوهاج، وهو الصحيح، هكذا في العيني شرح الهداية.وإذا لم يقدر على القعود مستويا وقدر متكئا أو مستندا إلى حائط أو إنسان يجب أن يصلي متكئا أو مستندا، كذا في الذخيرة ولا يجوز له أن يصلي مضطجعا على المختار، كذا في التبيين.وإن عجز عن القيام والركوع والسجود وقدر على القعود يصلي قاعدا بإيماء ويجعل السجود أخفض من الركوع، كذا في فتاوى قاضي خان حتى لو سوى لم يصح، كذا في البحر الرائق.
(الباب الرابع عشر في صلاة المريض،ج1،ص136،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب