سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-106 Fatwa no: 1447-106

اقالہ کے بجائے دکاندار کا خریدار کی طرف سے سامان فروخت کرنا اور کمیشن لینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ايك بنده كوئی چیز خرید لے اور پھر اقالہ کرنا چاہے لیکن دوکاندار اقالہ کرنے سے انکار کرے یا اقالہ تو کرے لیکن یہ کہے کہ :میں آپ کے لیے یہ سامان بیچوں گا،۔جتنےکا بھی بیچ دیا کم ہوں یا زیادہ پیسے آپ کے ہوں گے اور بسا اوقات وہ سامان بیچ کر مجھ سے بھی پیسے کاٹتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ سامان آپ کے لیے بیچا ہے لہذا اس میں میرا حصہ بھی ہے۔شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟
جواب :

بصور ت مسؤلہ عقداقالہ مثل ثمن اول پر ہوتا ہےاور دوکاندار کا یہ کہنا کہ "میں اس کو بیچوں گا اور پیسے کم ہوں یا زیادہ آپ کے ہوں گے"عقد اقالہ نہیں اوردوکاندار کا آپ کے لیےبیچنابطور وکیل کے ہے ۔لہذا اگر پہلے سے اس چیز کوفروخت کرنے پر اجرت کا مطالبہ نہیں کیا تھا تواس صورت میں ساری رقم آپ کی ہو گی،اس کے لیےاس سے کچھ رکھنا جائز نہیں تاہم اگر دوکاندار اس میں سے خود بھی کچھ لینا چاہتا ہے تو پھر اس صورت میں اس کی تعیین ضروری ہے ۔
تحفة الفقهاء:
وَمَا يكون بِهِ مُخَالفا الْمُسْتَأْجر إِذا كَانَ مَجْهُولا أَو الْأجر مَجْهُولا أَو الْعَمَل أَو الْمدَّة فَالْإِجَارَة فَاسِدَة لِأَنَّهَا جَهَالَة تُفْضِي إِلَى الْمُنَازعَة كَمَا فِي البيع
 (باب الإجارة الفاسدة:ج:2،ص:357،ط: دار الكتب العلمية)
الجوهرة النيرة:
وَلَا يَصِحُّ قَبُولُ الْإِقَالَةِ إلَّا فِي الْمَجْلِسِ كَمَا فِي الْبَيْعِ. قَوْلُهُ: (فَإِنْ شَرَطَ أَكْثَرَ مِنْهُ، أَوْ أَقَلَّ فَالشَّرْطُ بَاطِلٌ) هَذَا إذَا لَمْ يَدْخُلْهُ عَيْبٌ أَمَّا إذَا تَعَيَّبَ جَازَتْ الْإِقَالَةُ بِأَقَلَّ مِنْ الثَّمَنِ وَيَكُونُ ذَلِكَ بِمُقَابَلَةِ الْعَيْبِ وَلَا يَجُوزُ بِأَكْثَرَ مِنْ الثَّمَنِ فَإِنْ أَقَالَ بِأَكْثَرَ مِنْ الثَّمَنِ فَهِيَ بِالثَّمَنِ لَا غَيْرُ.
 (باب الإقالة:ج:1،ص:207،ط: دار الكتب العلمية)
الفِقْهُ الإسلاميُّ وأدلَّتُهُ:
وتظهر ثمرة الاختلاف بين الحنفية فيما إذا تقايل العاقدان البيع بأكثر من الثمن الأول أو بأقل أو بجنس آخر، أو أجّلا الثمن في الإقالة:فعلى قول أبي حنيفة: تصح الإقالة بالثمن الأول ويبطل ما شرطه المتعاقدان من الزيادة أو النقص أو الأجل، أو الجنس الآخر، سواء أكانت الإقالة قبل القبض أم بعده؛ لأنها فسخ في حق العاقدين، والفسخ رفع العقد، والعقد وقع بالثمن الأول، فيكون فسخه بالثمن الأول، ويبطل الشرط الفاسد، فإذا تقايل العاقدان على أكثر من الثمن الأول أو أقل على جنس آخر، يلزم الثمن الأول
 (ماهية الإقالة و حكمها:ج:5،ص:3782،ط: دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب