سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-107 Fatwa no: 1447-107

زمین کو بٹائی پر دینے اور مزارع کے انتقال کی صورت میں فصل کی تقسیم کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: (1)ایک شخص کی زمین ہے جس کو اس نے کرایہ پر دے رکھا ہے اور کرایہ دار کی جانب سے بیچ ،عمل وغیرہ اس شرط کے ساتھ طے پایا ہے کہ کرایہ دار اس زمین کا چوتھائی حصہ مالک کو دےگا۔ایسا معاملہ کرنا شرعاجائز ہے؟ (2)فصل پکنے سے تین مہینے پہلے مزارع فوت ہو گیا ۔ اس صورت میں فصل اسکے تمام ورثاء میں برابر تقسیم ہو گی یا جو وارث فصل میں کام کر ے گا وہ اس کا حقدار ہوگا؟
جواب :

بصورت مسؤلہ (1)شخص مذکور کا اپنی زمین کو اس شرط پر دینا کہ کرایہ دار کی طرف سے عمل ،بیچ اور جانور(موجودہ دور میں ٹریکٹروغیرہ) ہو گااور وہ کل پیداوار کا چوتھائی حصہ دے گا جائز ہے ۔
(2) عقد مزارعت  متعاقدين ميں سے كسی ایک کی وفات سے ختم ہوجاتا ہے لیکن اگرفصل پک چکی ہو اور  عقد ختم کرنے سے کسی کا نقصان ہوتا ہو تو اس صورت میں فصل کاٹنے تک عقد کو برقرا ررکھ جائے گا اور اس کے بعدختم تصور کیا جائے گا۔ فصل پکنے سےتین مہینے پہلے مزارع فوت ہوا تو چونکہ فصل اس شخص کی ملکیت تھی اس لیےاس کے ورثاء کی طرف منتقل ہوگئی ۔رہی بات اس عامل کی جو مزارع کی وفات کے بعد اس میں کام کررہا ہے تو اس کے لیے جائز ہے کہ وہ اس فصل کے پکنے تک مزدوری وصول کرےاور باقی وراثت میں برابر کا شریک ہو جائے۔ 
اللباب في شرح الكتاب
(إذا كانت الأرض لواحد والعمل والبقر والبذر لواحد جازت) أيضاً، وصار العامل مستأجراً للأرض ببعض الخارج.
  (كتاب المزارعة:ج:2،ص:229،ط: المطبعة الخيرية)
الجوهرة النيرة:
(وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ هِيَ جَائِزَةٌ) وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى لِحَاجَةِ النَّاسِ إلَيْهَا؛ لِأَنَّ صَاحِبَ الْأَرْضِ قَدْ لَا يَجِدُ أُجْرَةً يَسْتَعْمِلُ بِهَا وَمَا دَعَتْ الضَّرُورَةُ إلَيْهِ فَهُوَ قَوْلُهُ (وَهِيَ عِنْدَهُمَا عَلَى أَرْبَعَةِ أَوْجُهٍ إذَا كَانَتْ الْأَرْضُ وَالْبَذْرُ لِوَاحِدٍ وَالْعَمَلُ وَالْبَقَرُ لِوَاحِدٍ جَازَتْ) ؛ لِأَنَّهُ اسْتِئْجَارٌ لِلْعَامِلِ بِبَعْضِ الْخَارِجِ وَهُوَ أَصْلُ الْمُزَارَعَةِ
  (كتاب المزارعة:ج:1،ص:370،ط: المطبعة الخيرية)
الهداية في شرح بداية المبتدي:
قال: "وإذا مات أحد المتعاقدين بطلت المزارعة" اعتبارا بالإجارة، وقد مر الوجه في 
الإجارات، فلو كان دفعها في ثلاث سنين فلما نبت الزرع في السنة الأولى ولم يستحصد الزرع حتى مات رب الأرض ترك الأرض في يد المزارع حتى يستحصد الزرع ويقسم على الشرط، وتنتقض المزارعة فيما بقي من السنتين لأن في إبقاء العقد في السنة الأولى مراعاة للحقين، بخلاف السنة الثانية والثالثة لأنه ليس فيه ضرر بالعامل فيحافظ فيهما
  (كتاب المزارعة:ج:4،ص:340،ط: المكتبة الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب