سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-108 Fatwa no: 1447-108

غصب شدہ چیز کو واپس كرنے كے بجائے قيمت لوٹانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
دوماہ پہلے کی بات ہے میں نے ایک  زیرو میٹر گاڑی نکلوائی،ابھی میرے پاس  پانچ دن گزرے تھے کہ ایک رات کو  میں گھر آرہا تھا  توکچھ لوگوں نے  مجھ سے زبردستی وہ گاڑی چھین لی،اب چند دن پہلے اس گاڑی کا سراغ ملا ،وہ میرے اپنے ہی ایک رشتہ دار ہیں کہ   جو اس میں  ملوث ہیں ،اور گاڑی ان کے ایک دوست کے پاس ہے  ۔ میں نے ان کے اوپر"ایف آئی آر" کٹوائی ہوئی ہے ۔اب فریق مخالف یہ کہتا ہے کہ ہم گاڑی نہیں دیں گے ،بلکہ گاڑی کی جتنی قیمت بنتی ہے ہم وہ دیں گے ،لیکن میں اس پر بالکل راضی نہیں ہوں،کیونکہ پیسے لینے میں میرا نقصان ہے ۔اب پوچھنا یہ ہیکہ شرعی   اعتبار سے میرےلیے کیا حکم ہے؟مکمل رہنمائی فرمادیں ۔

جواب :

صورت مسئولہ میں جن لوگوں نے آپ سے گاڑی چھینی ہےتو شرعاً وہ غاصبین شمار  ہونگے ،اور غاصب کے پاس جب تک غصب شدہ چیز موجود ہو تو بعینہ وہی چیز مالک کو واپس کرناضروری ہے۔اس کی قیمت ادا کرنا شرعا درست نہیں ۔لہذا ان لوگوں پر لازم ہےکہ گاڑی ہی آپ کو واپس کریں ۔گاڑی اپنے پاس رکھ کر اس کی قیمت دینا شرعا جائز نہیں ۔
كما فى الفقه الاسلامي وادلته:
الحكم الثاني ـ رد العين المغصوبة ما دامت قائمة: والكلام فيه في مواضع: اتفق الفقهاء على أنه يجب رد العين المغصوبة إلى صاحبها حال قيامها ووجودها بذاتها لقوله صلّى الله عليه وسلم: «على اليد ما أخذت حتى تؤديه» «لا يأخذن أحدكم متاع أخيه جاداً، ولا لاعباً، وإذا أخذ أحدكم عصا أخيه، فليردها عليه»
[كيفية الضمان ،ج6ص4800،ط:دارالفكر]
وفى لهندية:
وأما حكمه فالإثم والمغرم عند العلم وإن كان بدون العلم بأن ظن أن المأخوذ ماله أو اشترى عينا ثم ظهر استحقاقه فالمغرم ويجب على الغاصب رد عينه على المالك وإن عجز عن رد عينه بهلاكه في يده بفعله أو بغير فعله فعليه مثله إن كان مثليا كالمكيل والموزون فإن لم يقدر على مثله بالانقطاع عن أيدي الناس فعليه قيمته يوم الخصومة عند أبي حنيفة 

 


- رحمه الله تعالى - وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى -: يوم الغصب وقال محمد - رحمه الله تعالى -: يوم الانقطاع كذا في الكافي.
[الباب الاؤل فى تفسير الغصب،ج5ص119،ط:دارالفكر]

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب