نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
سائل حافظ وسیم سعودی عرب میں تیس سال محنت و مشقت کر کے کچھ پیسے بچا کر پاکستان آیا اور مسلسل دو سال کی محنت سے کورنگ ٹاؤن اسلام آباد میں دو گھر بنائے۔اس کے بعد میں نے کمرشل ایریا میں ایک دفتر خریدنا چاہا ۔عابد علی نامی ایک بندہ نے مجھ سے کہا کہ گلبرگ گرین اسلام آباد میں ایک جگہ کمرشل فلور پر میرا ایک آفس ہے وہ آپ کو بیچ دوں گا،لہذا اس کو خریدنے کیلئے میں نے اپنا ایک گھر دوبئی میں کام کرنے والے ایک شخص عبد الوہاب کو دو کروڑ پچاس لاکھ روپے(25000000) میں بیچا۔وہ گھر میں نے خود عبد الوہاب کے ہاتھ فروخت کیا صرف اتنی بات تھی کہ یہ خریداری کا معاملہ ہم نے اسی عابد علی کے دفتر میں کیا اورچونکہ وہ رقم میں نے عابد علی کو اسی آفس کی قیمت کے طور پر دینی تھی اس لئے میں نے عبد الوہاب سے کہا کہ اس گھر کی رقم دو کروڑ پچاس لاکھ روپے(25000000) آپ عابد علی کو حوالہ کریں۔ عبد الوہاب باہر ملک میں کام کرتا تھا اور اس کے پاس یہاں اتنا پیسہ نہیں تھا کہ وہ اس رقم کی ادائیگی کرتا جبکہ ہمیں رقم فورا ً چاہیے تھی اس لئے عابد علی نے مجھ سے کہا کہ ہم آپ کے پیسوں سے عبد الوہاب کیلئے ٹکٹ کا بندوبست کرلیں گے تاکہ وہ واپس جاکر پیسوں کا بندوبست کرے اور ہمیں رقم جلدی مل جائے اور یہ ٹکٹ کا بندوبست فی الحال میں کرلوں گا اور پھر بعد میں آپ سے کاٹ لوں گا جس پر میں نے رضامندی ظاہر کی ،پھر ہم نے عبد الوہاب کو یہ پیشکش کی تو وہ بھی مان گیا۔اس طرح سے ہم نے اس کے لئے اپنے پیسوں سے ٹکٹ کا بندوبست کیا تاکہ وہ جا کر جلدی ہماری رقم کا بندوبست کرے،وہ ہماری ٹکٹ سے دوبارہ باہر ملک صرف اسی کام کیلئے گیا۔کسی طرح اس نے اس رقم کا بندوبست کر کے عابد علی کو دے دی۔عابد علی نے اس رقم میں سے مجھ سے پراپرٹی ٹیکس اور عبد الوہاب کے ٹکٹ کے پیسے کاٹ دئے اور اس طرح ہماری دفتر کی خریداری مکمل ہوگئی ۔
عابد علی نے سیل ایگریمنٹ میں تحریر کیا کہ میں مذکورہ پراپرٹی یعنی کمرشل فلور پر آفس نمبر 4 کامالک و قابض ہوں اور میں تمام اصل دستاویزات حوالہ کرنے کا پابند ہوں لیکن بار با راصرار کرنے پر بھی وہ کاغذات حوالہ کرنے سے قاصر رہااور پھر تحقیق کے بعد پتہ چلا کہ اس کے پاس کوئی اصلی کاغذات نہیں اور نہ ہی وہ مذکورہ پراپرٹی کا مالک و قابض ہے۔
مجبورا ً ہم نے ایک جرگہ بٹھایا اور اس سے سیل ایگریمنٹ کے مطابق رقم کی واپسی کا مطالبہ کیا،اس نے جرگہ میں کہا کہ مجھے ملنے والی کل رقم دو کروڑ پچاس لاکھ(25000000) میں مجھے نقصان ہوا ہے اس طرح کہ کچھ رقم میں نے مکان خریدنے والے (عبد الوہاب)کو کمیشن کے طور پر دی اورباقی یہ کہ مکان سے حاصل شدہ رقم کے بدلے میں نے ایک پلاٹ خریدا اور اس میں بھی مجھے نقصان ہوا اور پراپرٹی ٹیکس اور عبد الوہاب کیلئے دوبئی کا ٹکٹ بھی میں نے کیا ،اس طرح اس نے 35 لاکھ روپے کاٹے اس لئے وہ کہتا ہے کہ میں آپ کی اصل رقم دو کروڑ پچاس لاکھ روپے(25000000) میں سےپینتیس لاکھ روپے( 3500000) روپے نہیں دوں گا حالانکہ میں نے جرگہ میں کہا بھی کہ عابد علی جو کہتا ہے کہ مکان سے حاصل ہونے والی رقم سے میں نے ایک پلاٹ خریدا جس میں مجھے نقصان ہوا تو میں نے تو اس کو رقم پلاٹ خریدنے کیلئے دی ہی نہیں تھی اور اس کے نقصان یا فائدے سے میرا کوئی تعلق ہی نہیں اس لئے میں کیوں اس تاوان کا ذمہ دار بنوں ،میں نے تو اسے رقم گلبرگ آفس نمبر 4 خریدنے کیلئے دی تھی اور پھر جب میں نے ااپنی اصل رقم بمعہ منافع کا مطالبہ کیا تو جرگہ والوں نے مجھے کہا کہ یہ سود ہے اس لئے میں خاموش ہوگیا لیکن پھر جب میں نے اصل رقم کا مطالبہ کیا تو اس نے اصل رقم میں سے وہی پینتیس لاکھ روپے (3500000) کاٹنے کا کہا،اتنی بڑی رقم پھنس جانے کے خوف سے مجبورا ً مجھے یہ بات ماننی پڑی کہ ان پینتیس لاکھ نقصان کو فی الحال تسلیم کیا جائے تاکہ ابھی جو رقم مل رہی ہے اس کو حاصل کیا جائے۔
عابد علی نے جرگہ میں میری اصل رقم سےپینتیس لاکھ روپے( 3500000) روپے منہا کر کے ایک سٹامپ لکھا جس پر ہم نے مجبورا ً رضامندی ظاہر کی اور یوں جرگہ میں اس نے وہ رقم بھی چار مہینوں میں اقساط کی صورت میں چیکوں کے ذریعے ادا کرنے کا ایگریمنٹ کیا۔
جرگہ کے بعد عبد الوہاب سے تحقیق کرنے سے پتہ چلا کہ اس نے جو کہا تھا کہ میں نے عبد الوہاب کو کمیشن دیا ہے وہ اس نے جھوٹ بولا تھا ، اس نے عبد الوہاب کو کوئی کمیشن نہیں دیا بلکہ اس نے عبد الوہاب سے پوری رقم دو کروڑ پچاس لاکھ روپےوصول کئے تھے ۔
ایگریمنٹ کے مطابق دئے گئے چیک مقررہ تاریخ پر کیش کروانے پر اکاؤنٹ میں رقم نہ ہونے کی وجہ سے تمام چیک باؤنس اور ڈس آنر ہوگئے جس پر میں نے پولیس میں اطلاع کی اور ہمیں اب پولیس کی مدد سے اپنے پیسے نکلوانے پڑرہےہیں اور اس پرمحنت ، وقت اور رقم الگ سے خرچ ہورہی ہے۔
اب مفتیان کرام سے گزارش ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے تفصیلی جوابات عنایت فرمائیں۔
(1) کیا عابد علی نے جرگہ میں جو غلط بیانی کر کے مجھ سے پیسے کاٹے اور جرگہ کے ذریعے چھڑا دئے تو کیا یہ رقم اس کے لئے معاف ہوجاتی ہے؟اگر یہ رقم اس کے لئے معاف نہیں ہوتی بلکہ اس پر یہ رقم لوٹانا ضروری ہے تو اس صورت میں وہ پچیس لاکھ واپس کرنے کا پابند ہوگا یا پینتیس لاکھ کا کیونکہ یہ جو پراپرٹی ٹیکس اور عبد الوہاب کے ٹکٹ کے پیسے جو تقریبا ً دس لاکھ روپے بنتے ہیں اس کے لئے تو میں اس لئے راضی ہوا تھا کہ پیسہ وصول ہوتے ہی میں عابد علی سے دفتر خریدوں،جس کے بارے میں اس نے غلط بیانی کی تھی ۔اگر وہ غلط بیانی نہ کرتا کہ وہ اس دفتر کا مالک ہے جو میں نے خریدنا تھا تو شاید میں یہ گھر بھی نہ بیچتا۔
(2) اگر عابد علی اصل رقم میں سےپینتیس لاکھ یا پچیس لاکھ جتنے بھی آپ واپس کرنا اس پر لازم سمجھتے ہوں ،وہ واپس نہ کرے تو کیا
یہ رقم اس کے لئے اور اس کے اہل خانہ کیلئے حلال ہے؟
(3) کیا جرگہ کے ذریعے حقدار کا حق دبا کر اصل رقم میں پینتین (3500000) لاکھ روپے کاٹ کر استعمال کرنے سے عابدعلی کو اخروی سزا ہوگی؟
(4) میں نے عابد علی کے کہنے میں آکر اپنا وہ مکان فروخت کردیااگر میں وہ مکان فروخت نہ کرتا بلکہ اس کو کرایہ پر دیتا تو اب تک
کافی کرایہ مجھے مل چکا ہوتا، تو کیا میں اس وجہ سے اتنا عرصہ کہ جتنا اب تک گزر چکا ہے عابد علی سے کرایہ کی مد میں پیسے وصول کرنے کا قانونی و شرعی حقدار ہوں یا نہیں ؟
(5)عابد علی نے جو اتنا عرصہ میرا پیسہ روکے رکھا اس پر اس نے کاروبار کیا اور اس پر نفع بھی حاصل کیا تو کیا یہ نفع اس کے لئے جائز ہے ؟اس نفع کا کیا حکم ہے؟
(6)کیا ایسے شخص کیلئے بددعا کرنا جائز ہے؟
(7)کیا ایسے شخص کے خلاف تشہیر کرنا اس نیت سے جائز ہے کہ اس کی غلط بیانی میں آکر سیدے سادے لوگ نقصان سے بچ سکیں؟
سائل کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ اس نے عابد علی کو جو رقم حوالہ کی تھی وہ دفتر خریدنے کیلئے دی تھی نہ کہ اس رقم سے کاروبار کرنے یا کوئی دوسرا پلاٹ وغیرہ خریدنے کیلئے دی تھی اس لئے بصورت مسئو لہ :
(1-3)جہاں تک عبد الوہاب کے ٹکٹ کی بات ہے تو وہ عابد علی نے اسی وقت آپ سے کہا تھا کہ اس کی رقم آپ سے کٹے گی جس پر آپ نے رضامندی بھی ظاہر کی تھی اور اسی طرح پراپرٹی ٹیکس بھی ہے کہ پراپرٹی کے مالک آپ تھے اور آپ نےخود اپنی رضامندی سے مذکورہ مکان بیچا اس لئے پراپرٹی ٹیکس بھی آپ پر آئے گا لہذا ان دونوں چیزوں کی رقم عابد علی پر نہیں ہوگی بلکہ عابد علی آپ کو صرف وہی پچیس لاکھ روپے ادا کرنے کا پابند ہے جو اس نے جرگہ میں غلط بیانی کر کے چھڑائی،مذکورہ رقم اس کے اور اس کے اہل و عیال کیلئے جائز نہیں کیونکہ وہ آپ کی رقم ہے جو عابدعلی نے ظلما ً غصب کی ہے اور آپ کو عابد علی سے اپنی یہ رقم وصول کرنے کیلئے قانونی اور شرعی حق حاصل ہے اور اگر عابد علی آپ کو یہ رقم واپس نہیں کرتا تو اس کو آخرت میں ضرور بالضروراس کا حساب دینا پڑے گا ، تاہم اس نے جو غلط بیانی کی اور مذکورہ آفس کا مالک نہ ہوتے ہوئے اپنے آپ کو اس آفس کا مالک
بتا کر آپ کو اپنا مکان فروخت کرنے پر آمادہ کیا وہ ایک دھوکہ تھا جس کی وجہ سے وہ گناہگار ضرور ہوگا۔
(4)عابد علی سے اپنی اصل رقم کے ساتھ کرایہ کی مد میں مزید رقم اس بنیاد پر لینا کہ اگرآپ اس کے ہاتھوں دھوکہ نہ کھاتے اور مذکورہ گھر ابھی تک فروخت نہ کرتے توابھی تک آپ کو کافی کرایہ آچکا ہوتا ،یہ جائز نہیں ،آپ عابد علی سے صرف اپنی اصل رقم دو کروڑ چالیس لاکھ روپے کا مطالبہ کرسکتے ہیں اس سے زیادہ کا نہیں البتہ عابد علی کو اپنے اس دھوکہ کا گناہ ضرور ملے گا۔
(5) چونکہ عابد علی نے آپ کی رقم غصب کی ہے اس لئے اس نے اس رقم کو کاروبار میں لگا کر جتنا بھی منافع کمایا وہ اس کے کیلئے اور اس کے اہل خانہ کیلئے بالکل بھی جائز اور حلال نہیں تاوقتیکہ وہ آپ کو اس کا ضمان ادا نہ کرے اس لئے عابد علی کو چاہیے کہ آپ کے پیسے سے حاصل شدہ منافع کو بالکل اپنے استعمال میں نہ لائے کیونکہ اس نفع کو صدقہ کرنا اس پر واجب ہے اور بہتر یہی ہے کہ وہ آپ کی اصل رقم سمیت اس کا حاصل شدہ منافع آپ ہی کو دے دے۔
(6)مذکورہ شخص (عابد علی) چونکہ غلط بیانیاں کر کے اور ظلما ً لوگوں سے پیسے ہڑپ لیتا ہے اس لئے اس کیلئے بدعا کرنا اگرچہ جائز ہے لیکن بجائے بددعا کے اس کے لئے صراط مستقیم کی دعا مانگنا زیادہ بہتر ہے۔
(7)اصولی طور پر تو اسلام ہمیں دوسرے مسلمانوں کی پردہ دری سے روکتا ہے لیکن جب کسی کے افعال اور اس کے شر سے لوگوں کا جانی و مالی نقصان ہورہا ہوتو لوگوں کو اس کے نقصان سے بچانے کی نیت سے اس کی تشہیر کرنا جائز ہے۔
قال تبارك وتعالى:
{وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوا بِهَا إِلَى الْحُكَّامِ لِتَأْكُلُوا فَرِيقًا مِنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالْإِثْمِ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ} [البقرة: 188]
و في صحيح البخاري:
عن سالم، عن أبيه رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من أخذ من الأرض شيئا بغير حقه خسف به يوم القيامة إلى سبع أرضين»
(كتاب المظالم والغصب ، 3/ 130 ، دار طوق النجاة )
و في السنن الكبرى للبيهقي:
عَنْ أَبِي حُرَّةَ الرَّقَاشِيِّ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيبِ نَفْسٍ مِنْهُ ".
(كتاب الغصب ، 6/ 166 ، دار الكتب العلمية)
و في صحيح مسلم:
عن عبد الله بن عمرو، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أربع من كن فيه كان منافقا خالصا، ومن كانت فيه خلة منهن كانت فيه خلة من نفاق حتى يدعها: إذا حدث
كذب، وإذا عاهد غدر، وإذا وعد أخلف، وإذا خاصم فجر "
(كتاب االايمان ، 1/ 78، دار إحياء التراث العربي)
و في الفتاوى الهندية:
لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي كذا في البحر الرائق.
(كتاب الحدود ،فصل في التعزير 2/ 167، دار الفكر)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:
وأما حكم الغصب فله في الأصل حكمان: أحدهما: يرجع إلى الآخرة، والثاني: يرجع إلى الدنيا. أما الذي يرجع إلى الآخرة فهو الإثم واستحقاق المؤاخذة إذا فعله عن علم؛ لأنه معصية، وارتكاب المعصية على سبيل التعمد سبب لاستحقاق المؤاخذة . . . . . . (وأما)
الذي يرجع إلى الدنيا، فأنواع. . . (أما) الذي يرجع إلى حال قيامه فهو وجوب رد المغصوب على الغاصب . . . . . (وأما) الذي يتعلق بحال هلاك المغصوب فنوعان: أحدهما: وجوب الضمان على الغاصب، والثاني: ملك الغاصب المضمون.
(أما) وجوب الضمان فالكلام فيه في مواضع . . . . . (أما) الأول فالمغصوب لا يخلو إما أن يكون مما له مثل، وإما أن يكون مما لا مثل له، فإن كان مما له مثل كالمكيلات والموزونات والعدديات المتقاربة، فعلى الغاصب مثله؛ لأن ضمان الغصب ضمان اعتداء، والاعتداء لم يشرع إلا بالمثل، قال الله تبارك وتعالى: {فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم} [البقرة: 194] .
(كتاب الغصب،فصل في حكم الغصب ،2/ 150-148، دار الكتب العلمية)
و في الدر المختار:
(هو) لغة: أخذ الشيء مالا أو غيره كالحر على وجه التغلب. وشرعا (إزالة يد محقة) .. . . . (وحكمه الإثم لمن علم أنه مال الغير ورد العين قائمة والغرم هالكة . . . . . يجب رد (مثله إن هلك وهو مثلي وإن انقطع المثل) بأن لا يوجد في السوق الذي يباع فيه وإن كان يوجد في البيوت ابن كمال (فقيمته يوم الخصومة) أي وقت القضاء وعند أبي يوسف يوم الغصب وعند محمد يوم الانقطاع ورجحه قهستاني (وتجب القيمة في القيمي يوم غصبه) إجماعا . . . .الخ
(كتاب الغصب 6/ 183-177، دار الفكر)
و في شرح المجلة:
لايجوز لاحد ان يتصرف في ملك غيره بلا إذنه او وکالة منه او ولاية عليه، وإن فعل کان ضامنًا‘‘.
(ج:1، ص:41، مادة: 94، دار الکتب العيمیة، بیروت)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔