سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-111 Fatwa no: 1447-111

غیرعالم شخص کی امامت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک عام (غیر عالم) شخص کو مستقل طور پر امام رکھنا کیسا ہے اس کی امامت درست ہے یا نہیں ؟ نیز جس امام سے مقتدی ناخوش ہوں اس کی امامت کا کیا حکم ہے ؟
جواب :

واضح رہے کہ عاقل ، بالغ ، مسلمان ، مرد جو بقدر فرض قراءت کرنے پر قدرت رکھتا ہو اور نماز کے متعلق ضروری احکام سے بھی واقف ہو تو ایسا شخص امام بن سکتا ہے اور مستقل طور پر ایسے شخص کو امام رکھنا چاہیے جو عالم دین اور پرہیزگار ہو اور عام (غیر عالم) شخص کو بلا کسی وجہ شرعی کے امام رکھنا بہتر نہیں ، لہذا صورت مسئولہ میں؛
(1) اگر غیر عالم شخص میں مندرجہ بالا شرائط پائی جاتی  ہوں تو اسکی امامت درست ہے ۔
2۔ اگر امام کے اندر کوئی ایسی بری اور خلاف شرع یاخلاف مروت کوئی عادت ہو جس کی وجہ سے مقتدی اس سے ناراض ہوں تو اسکی امامت مکروہ ہے اور اگر کسی کو امام کے ساتھ ذاتی رنجش کی وجہ سے نفرت ہو تو اس صورت میں اس امام کی امامت بلا کراہت درست ہوگی۔
كما في بدائع الصنائع :
وَأَمَّا بَيَانُ مَنْ يَصْلُحُ لِلْإِمَامَةِ فِي الْجُمْلَةِ فَهُوَ كُلُّ عَاقِلٍ مُسْلِمٍ... إلى قوله مَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ: «صَلُّوا خَلْفَ مَنْ قَالَ لَا إلَهَ إلَّا اللَّهُ» ، وَقَوْلُهُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «صَلُّوا خَلْفَ كُلِّ بَرٍّ وَفَاجِرٍ»
(فصل بيان من يصلح للامامة فى الجملة،ج1،ص666،ط:قديمي كتب خانة)
وفي ردالمحتار على الدرالمختار:
(وَيُكْرَهُ) تَنْزِيهًا (إمَامَةُ عَبْدٍ) وَلَوْ مُعْتَقًا قُهُسْتَانِيٌّ. عَنْ الْخُلَاصَةِ، وَلَعَلَّهُ لِمَا قَدَّمْنَاهُ مِنْ تَقَدُّمِ الْحَرِّ الْأَصْلِيِّ، إذْ الْكَرَاهَةُ تَنْزِيهِيَّةٌ فَتَنَبَّهْ (وَأَعْرَابِيٌّ) وَمِثْلُهُ تُرْكُمَانٌ وَأَكْرَادٌ وَعَامِّيٌّ (وَفَاسِقٌ وَأَعْمَى).
(باب الإمامة،ج2،ص355،ط:مكتبة رحمانية)
وفى التاتارخانية :
ومن أَمَّ قَوْمًا وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ، إنْ الْكَرَاهَةُ لِفَسَادٍ فِيهِ أَوْ لِأَنَّهُمْ أَحَقُّ بِالْإِمَامَةِ مِنْهُ كُرِهَ له ذلك وَإِنْ هُوَ أَحَقَّ لم يكره.
(الفصل السادس:في بيان من هو احق بالإمامة،ج2،ص255،ط:مكتبة اعزازية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب