سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-112 Fatwa no: 1447-112

وقت کی تنگی کی وجہ سے فجر کی سنتیں ترک کرنے اور بعد میں قضاء کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : اگر کوئی آدمی فجر کے وقت دیر سے بیدار ہوجائے تو کیا صرف فرض ادا کرنا درست ہے کہ بعد میں سنتوں کی قضاء کی جائے ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں فجر کا وقت اگر اتنا تنگ ہو کہ یہ خدشہ ہو کہ سنت ادا کرنے سے فرض چھوٹ جائیں گے ، تو اس وقت صرف فرض ادا کرے  اور طلوع شمس کے بعد یعنی اشراق کا وقت جب داخل ہو جائے تو سنتوں کی قضاء کرے، اور اگر سنت وفرض دونوں کا وقت ہو تو صرف فرض پر اکتفاء نہ کرے بلکہ پہلے سنتیں ادا کرے اور پھر فرض نماز پڑھےورنہ گنہگار ہوگا۔
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
(قَوْلُهُ وَلَا يَقْضِيهَا إلَّا بِطَرِيقِ التَّبَعِيَّةِ إلَخْ) أَيْ لَا يَقْضِي سُنَّةَ الْفَجْرِ إلَّا إذَا فَاتَتْ مَعَ الْفَجْرِ فَيَقْضِيهَا تَبَعًا لِقَضَائِهِ لَوْ قَبْلَ الزَّوَالِ؛ وَمَا إذَا فَاتَتْ وَحْدَهَا فَلَا تُقْضَى قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ بِالْإِجْمَاعِ، لِكَرَاهَةِ النَّفْلِ بَعْدَ الصُّبْحِ. وَأَمَّا بَعْدَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَكَذَلِكَ عِنْدَهُمَا. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَحَبُّ إلَيَّ أَنْ يَقْضِيَهَا إلَى الزَّوَالِ
(كتاب الصلاة،باب إدراك الفريضة،ج2،ص619،ط:مكتبه رحمانيه)
وفي المحيط البرهاني :
اتفق أصحابنا على أن ركعتي الفجر إذا فاتتا وحدها، بأن جاء رجل ووجد الإمام في صلاة الفجر، فدخل مع الإمام في صلاته، ولم يشتغل بركعتي الفجر أنها لا تقضى قبل طلوع الشمس، وإذا ارتفعت الشمس لا تقضى قياساً، وهو قول أبي حنيفة وأبي يوسف، وتقضى استحساناً إلى وقت الزوال، وهو (قول) محمد وإذا فاتتا مع الفرض تقضى مع الفرض إلى وقت الزوال
(كتاب الصلاة،ألفصل الحادي عشرفي التطوع قبل الفرض وبعده،ج2،ص234،ط:إدارةالقرآن والعلوم الإسلاميه)
وفي الهداية :
وَإِذَا فَاتَتْهُ رَكْعَتَا الْفَجْرِ لَا يَقْضِيهِمَا قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ لِأَنَّهُ يَبْقَى نَفْلًا مُطْلَقًا وَهُوَ مَكْرُوهٌ بَعْدَ الصُّبْحِ وَلَا بَعْدَ ارْتِفَاعِهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ. وَقَالَ مُحَمَّدٌ: أَحَبُّ إلَيَّ أَنْ يَقْضِيَهُمَا إلَى وَقْتِ الزَّوَالِ لِأَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - قَضَاهُمَا بَعْدَ ارْتِفَاعِ الشَّمْسِ غَدَاةَ لَيْلَةِ التَّعْرِيسِ. وَلَهُمَا أَنَّ الْأَصْلَ فِي السُّنَّةِ أَنْ لَا تُقْضَى لِاخْتِصَاصِ الْقَضَاءِ بِالْوَاجِبِ، وَالْحَدِيثُ وَرَدَ فِي قَضَائِهَا تَبَعًا لِلْفَرْضِ فَبَقِيَمَا رَوَاهُ عَلَى الْأَصْلِ، وَإِنَّمَا تُقْضَى تَبَعًا لَهُ، وَهُوَ يُصَلِّي بِالْجَمَاعَةِ أَوْ وَحْدَهُ إلَى وَقْتِ الزَّوَالِ،
(كتاب الصلاة،باب إدراك الفريضة،ج1،ص160،ط:مكتبة الحسن)

 

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب