سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-113 Fatwa no: 1447-113

فرض کی پہلی رکعت میں قراءت چھوڑنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : زید نماز پڑھ رہا تھا ظہر کی ، لیکن پہلی رکعت میں قراءت نہیں کی ، نہ فاتحہ کی اور نہ ہی کسی اور سورت کی ، بلکہ ثناء بسم اللہ اور تعوذ پڑھ کر رکوع میں چلا گیا ، جب دوسری رکعت کیلئے کھڑا ہوا تو یاد آیا کہ پہلی رکعت میں قراءت نہیں کی ، اب ایسے شخص کیلئے کیا حکم ہے ؟
جواب :

فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قراءت کرنا فرض ہے ، اور فرض میں تاخیر سے سجدہ سہو لازم ہوتا ہے ، اب اگر کسی سے پہلی رکعت میں قراءت چھوٹ جائے ، اور تیسری ، چوتھی رکعت اگر ہو تو تیسری یا چوتھی میں قراءت وجوبا کرے گا ، لہذا صورت مسئولہ میں زید پر واجب ہے کہ تیسری رکعت میں سورت فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھے ، اور آخر میں سجدہ سہو کر کے نماز پوری کرے ۔ 
کما فی الدر المختار :
(وَلَوْ تَرَكَ سُورَةَ أُولَيَيْ الْعِشَاءِ) مَثَلًا وَلَوْ عَمْدًا (قَرَأَهَا وُجُوبًا)(قَوْلُهُ مَثَلًا) زَادَهُ لِيَعُمَّ مَا لَوْ تَرَكَهَا فِي رَكْعَةٍ وَاحِدَةٍ، وَهَلْ يَأْتِي بِهَا فِي الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ؟ يُحَرَّرُ، وَلِيَعُمَّ غَيْرَ الْعِشَاءِ كَالْمَغْرِبِ فَإِنَّهُ لَوْ تَرَكَهَا فِي إحْدَى أُولَيَيْهَا يَأْتِي بِهَا فِي الثَّالِثَةِ، وَلَوْ فِيهِمَا مَعًا أَتَى فِي الثَّالِثَةِ بِفَاتِحَةٍ وَسُورَةٍ وَفَاتَتْ الْأُخْرَى، وَيَسْجُدُ لِلسَّهْوِ لَوْ سَاهِيًا؛ وَلِيَعُمَّ الرَّبَاعِيَةَ السِّرِّيَّةَ فَإِنَّهُ يَأْتِي بِهَا فِي الْأُخْرَيَيْنِ أَيْضًا أَفَادَهُ ط۔
( كتاب الصلاة ،فصل في القراءة ، ج 1، ص 535 ،ط : ايچ ايم سعيد)
وفي المبسوط:
وَلَوْ أَنَّ إمَامًا صَلَّى رَكْعَةً بِغَيْرِ قِرَاءَةٍ ثُمَّ قَامَ فَقَرَأَ، وَرَكَعَ وَسَجَدَ سَجْدَةً وَقَامَ فَقَرَأَ وَرَكَعَ ثُمَّ تَذَكَّرَ مَا فَعَلَ فَإِنَّهُ يَنْحَطُّ فَيَسْجُدُ وَيَتَشَهَّدُ؛ لِأَنَّ السَّجْدَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِ مِنْ الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ فِي حُكْمِ الْعَيْنِ فَإِنَّهُ لَمْ يُقَيِّدْ الرَّكْعَةَ الثَّالِثَةَ بِالسَّجْدَةِ فَيَسْجُدُهَا وَيَرْتَفِضُ مَا أَدَّى بَعْدَهَا فَلِهَذَا يَتَشَهَّدُ ثُمَّ يَقُومُ فَيَقْرَأُ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَقْرَأْ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى فَعَلَيْهِ أَنْ يَقْرَأَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّالِثَةِ .
(كتاب الصلاة ، باب السهو ،ج2 ، ص 168 ط: مكتبه عمريه )
وفي فتح القدير :
وَلَوْ تَرَكَ الْقِرَاءَةَ أَصْلًا فِي الْأُولَيَيْنِ قَضَاهَا فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَيَصِيرَانِ كَالْأُولَيَيْنِ فَيَجْهَرُ فِيهِمَا فِي الْجَهْرِيَّةِ وَلَوْ بَدَأَ بِحَرْفٍ مِنْ السُّورَةِ قَبْلَ الْفَاتِحَةِ فَذَكَرَ فَقَرَأَ الْفَاتِخَةَ يَسْجُدُ لِلسَّهْوِ لِلتَّأْخِيرِ،
( كتاب الصلاة ، باب سجود السهو ، ج1 ، ص52 ،ط : مكتبه رشيديه )

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب