سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-11 Fatwa no: 1447-11

فروخت شدہ سامان کی دوبارہ فروخت سے حاصل ہونے والے منافع کی ملکیت کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے عمرو سے ایک لاٹ سامان ادھار پر  خریدا  ،پھر اس کے بعد زید  نے بکر پر  وہ سامان بیچا اور بکر کو حکم دیا کہ  ثمن  عمرو کو ادا کرے لہذا بکر نے سارا کا سارا ثمن عمرو کو ادا کردیا  لیکن بکر نے کہا کہ ایک  دو دن تک میں یہ سامان اٹھالوں گا ۔ انہی دنوں میں عمرو  سے کسی اور شخص نے زیادہ منافع پر وہ سامان لینے کا کہا اور عمرو نے وہی سامان اسی شخص پر بیچ دیا ،اور اول کے بنسبت دگنا  نفع حاصل کیا ۔اب بکر کہتا ہے کہ یہ دگنا نفع جو حاصل ہوا یہ   میر ا ہے،لہذا یہ نفع مجھے دے دو ،تو کیااب بکر کا عمرو سے یہ رقم لینا درست ہے یا نہیں اور ابھی تک بکر کا جو ثمن تھا وہ واپس نہیں کیا ۔

جواب :

بصورت مسؤلہ جب عمرو نے بکر کا سامان اس کی اجازت کے بغیر  بیچا ،تو یہ بیع  فضولی ہے جو مالک کی رضامندی  پر موقوف  ہے، لہذا جب بکر  نےاس  بیع پر راضی ہوکر عمرو سے  ثمن کا مطالبہ کیا ہے تو یہ مطالبہ درست ہے اور کل ثمن بکر ہی کی ملکیت ہے ،عمرو کا اس ثمن میں کوئی حق نہیں ہے۔  عمرو پر لازم ہے کہ وہ بکر کو  مذکورہ  ثمن  ادا کرے۔

القرآن الكريم:
يا أيها الذين آمنوا لا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم.[النساء: 29]
مشكاة المصابيح:
2946:وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى.
(الفصل الثانی،۲/ ۸۸۹ المكتب الإسلامي - بيروت)
الهداية شرح البداية:
 قال ومن باع ملك غيره بغير أمره فالمالك بالخيار إن شاء أجاز البيع وإن شاء فسخ...... ولنا أنه تصرف تمليك وقد صدر من أهله في محله فوجب القول بانععاده إذ لا ضرر فيه للمالك مع تخييره بل فيه نفعه حيث يكفى مؤنة طلب المشتري وقرار الثمن وغيره وفيه نفع العاقد لصون كلامه عن الإلغاء وفيه نفع المشتري فثبت للقدرة الشرعية تحصيلا لهذه الوجوه كيف وأن الإذن ثابت دلالة لأن العاقل يأذن في التصرف النافع  قال وله الإجازة إذا كان المعقود عليه باقيا والمتعاقدان بحالهما لأن الإجازة تصرف في العقد فلا بد من قيامه وذلك بقيام العاقدين والمعقود عليه وإذا أجاز المالك كان الثمن مملوكا له أمانة في يده بمنزلة الوكيل لأن الإجازة اللاحقة بمنزلة الوكالة السابقة وللفضولي أن يفسخ قبل الإجازة دفعا للحقوق عن نفسه.
 (فصل في بيع الفضولي،۳/ ۶۸، المكتبة الإسلامية)
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):
 واصطلاحا (من يتصرف في حق غيره) بمنزلة الجنس (بغير إذن شرعي) فصل خرج به نحو وكيل ووصي (كل تصرف صدر منه) تمليكا كان كبيع وتزويج، وإسقاطا كطلاق وإعتاق (وله مجيز) أي لهذا التصرف من يقدر على إجازته (حال وقوعه انعقد موقوفا) وما لا يجيز له حالة العقد لا ينعقد أصلا...... ثم إذا أجاز بيع الفضولي والثمن نقد فهو للمجيز، أما لو كان عرضا فهو للفضولي؛ لأنه صار مشتريا له وعليه قيمته للمجيز كما سيأتي.
(فصل فی الفضولی،۵/ ۱۰۶،۱۰۷،دار الفکر بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 27 Oct 2026