سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-115 Fatwa no: 1447-115

قربانی کے جانور میں شریک سات افراد کا قیمت میں برابر ہونا ضروری نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک ادارہ کا سربراہ اپنے ملازمین سے کہتا ہے ،کہ ہم سات افراد مل کر اجتماعی قربانی کرینگے ،جانور کی آدھی قیمت آپ چھ مل کر اداکریں ،باقی آدھی قیمت میں دونگا ،تو کیا اس طرح قربانی کرنا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

 واضح رہے کہ  قربانی  کے وجوب کے لئے صاحب نصاب(یعنی ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کے قیمت کے بقدر نقدی  )  ہونا ضروری ہے،نیز ایک بڑے جانور (اونٹ،گائے اور بھینس وغیرہ ) کی قربانی میں سات تک لوگ شریک ہوسکتے ہیں ،اور  قربانی کے دیگر شرائط کے ساتھ ساتھ یہ شرط بھی ملحوظ ہو،کہ ان میں سے کسی کا حصہ پورے  ايك حصہ سے کم نہ ہو اگر کم ہو ا تو کسی کی قربانی بھی  صحیح نہ ہوگی ، البتہ پورے حصہ کی ملکیت ضروری ہے ،حصہ کی قیمت کی ادائیگی میں برابری شرط نہیں ،لہذا اگر ان میں سے کوئی ایک شریک اپنی طرف سے زیادہ رقم دیدے اور باقی شرکاء سے ان کے حصوں کی آدھی قیمت لیں ،تب  بھی جائز ہے ،بصورت مسؤلہ مذکورہ سا ت  افراد میں سے اگر   قربانی کی جانور میں ہر ایک  کاپہلے سے  ایک کامل حصہ مقرر ہے ،تو سب کی قربانی  صحیح ہوجائے گی،  شرعا اس طرح کرنے میں کوئی حرج   نہیں ہے  ۔
کما فى الهداية:
وتجوز عن ستة أو خمسة أو ثلاثة، ذكره محمد رحمه الله في الأصل، لأنه لما جاز عن السبعة فعمن دونهم أولى، ولا تجوز عن ثمانية أخذا بالقياس فيما لا نص فيه وكذا إذا كان نصيب أحدهم أقل من السبع، ولا تجوز عن الكل لانعدام وصف القربة في البعض........ قلنا: المراد منه والله أعلم قيم أهل البيت لأن اليسار له يؤيده ما يروى "على كل مسلم في كل عام أضحاة وعتيرة" ولو كانت البدنة بين اثنين نصفين تجوز في الأصح، لأنه لما جاز ثلاثة الأسباع جاز نصف السبع تبعا.
(كتاب الاضحية،ج:4،ص:356،ط: دار احياء التراث العربي)
وفى تبيين الحقائق:
وقوله شاة أو سبع بدنة بيان للقدر الواجب والقياس أن لا تجوز البدنة كلها إلا عن واحد؛ لأن الإراقة قربة واحدة، وهي لا تتجزأ إلا أنا تركناه بالأثر، وهو ما روي عن «جابر - رضي الله عنه - أنه قال نحرنا مع رسول الله - صلى الله عليه وسلم - البقرة عن سبعة والبدنة عن سبعة»، ولا نص في الشاة فبقي على أصل القياس، وتجوز عن ستة أو خمسة أو ثلاثة ذكره محمد في الأصل؛ لأنه لما جاز عن السبعة فعمن دونه أولى، ولا تجوز عن ثمانية لعدم النقل فيه فيبقى على الأصل، وكذا إذا كان نصيب أحدهم أقل من السبع، ولا يجوز عن الكل؛ لأن بعضه إذا خرج من أن يكون قربة يخرج كله من أن يكون قربة.
(قوله: وكذا إذا كان نصيب أحدهم أقل من السبع) أي لا تجوز من صاحب الكثير كما لا تجوز من صاحب القليل كما إذا مات الرجل وخلف امرأة وابنا، وترك بقرة فضحيا لم تجز عنهما أصلا؛ لأن نصيب المرأة أقل من السبع.
(باب من تجب عليه الاضحية،ج:6،ص:3،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفى الدر المختار:
(أو سبع بدنة) هي الإبل والبقر؛ سميت به لضخامتها، ولو لأحدهم أقل من سبع لم يجز عن أحد، وتجزي عما دون سبعة بالأولى (فجر) نصب على الظرفية.
(كتاب الأضحية،ج:6،ص:316،ط: دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب