نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
اگر کسی آدمی کے پاس حرام مال کے علاوہ کوئی حلال رقم ہو، اور وہ توبہ تائب ہوجائے، تو اس کے بارے میں" آپ کے مسائل اور ان کے حل "کے حوالے سے یہ لکھا ہے، کہ اس آدمی کو چاہئے کہ سارا کا سارا مال بلا نیت ثواب صدقہ کرے، اور اگر اس کے پاس اس رقم کے علاوہ اور کچھ نہ ہو، تو پھر کسی غیر مسلم سے قرض لے کر استعمال کرے، اور پھر انہی رقم سے قرض اتار دے، اس سے حرام رقم سے قرض اتارنے کا گناہ تو ہوگا، لیکن جو قرض لے کر استعمال کرے گا، وہ حرام نہیں ہوگا۔ اب پوچھنا یہ ہے کہ غیر مسلم کا قید کیوں لگایا ہے ؟
بصورت مسؤلہ اگر کوئی شخص توبہ تائب ہوجائے اور اس کے پاس حرام مال کے علاوہ اور کچھ نہ ہو، تو جس طرح غیر مسلم سے بطور قرض مال لے کر استعمال کرسکتا ہےاور پھر اسی حرام مال سے قرض ادا کرسکتاہے،اسی طرح کسی مسلمان سے بھی قرض لے کر پھر اس کے قرض کو اسی حرام مال سے ادا کرسکتا ہے،اور دونوں صورتوں میں اس کو حرام مال سے قرض اتارنے کا گناہ ہوگا،لیکن چونکہ یہ حرام مال ہے اور خبث سے خالی نہیں ہے؛اس لئے یہ رقم کسی مسلمان کو اس کے حلال مال کے بدلے میں دینا مناسب نہیں ہے،بلکہ بہتر یہ ہے کہ ایسی مجبوری کی حالت میں اگر ہوسکے تو کافر کو یہ رقم قرض کے عوض میں دیا جائےاور ہوسکتا ہے کہ صاحبِ "آپ کے مسائل اور ان کا حل" نے بھی اسی نکتہ کی وجہ سے غیر مسلم کی قید لگائی ہو اور باقی عام حالت میں جو کسی غریب اور ضرورت مند مسلمان کویہ مال دیا جاتا ہے،وہ اس لئے دیا جاتا ہے کہ وہ اس مال کا مصرف ہےاور اس صورت میں اس غریب مسلمان سے اِس مال کے عوض اس کے حلال مال میں سے کچھ نہیں لیا جاتا؛اس لئے اس صورت میں کسی غریب مسلمان کو دیناکافر کو دینے سے بہتر ہے ۔
وفي القرآن المجيد:
الْخَبِيثَاتُ لِلْخَبِيثِينَ وَالْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَاتِ وَالطَّيِّبَاتُ لِلطَّيِّبِينَ وَالطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَاتِ......الآية.
[النور: 26]
و في الهندية:
قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - اختلف الناس في أخذ الجائزة من السلطان قال
بعضهم يجوز ما لم يعلم أنه يعطيه من حرام قال محمد - رحمه الله تعالى - وبه نأخذ ما لم نعرف شيئا حراما بعينه، وهو قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وأصحابه، كذا في الظهيرية.وفي شرح حيل الخصاف لشمس الأئمة - رحمه الله تعالى - أن الشيخ أبا القاسم الحكيم كان يأخذ جائزة السلطان وكان يستقرض لجميع حوائجه، وما يأخذ من الجائزة يقضي بها ديونه والحيلة في هذه المسائل أن يشتري نسيئة، ثم ينقد ثمنه من أي مال شاء وقال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - سألت أبا حنيفة - رحمه الله تعالى - عن الحيلة في مثل هذا فأجابني بما ذكرنا، كذا في الخلاصة.
(كتاب الكراهية،الباب الثاني عشر في الهدايا والضيافات،ج:5،ص:342،ط:دارالفكر)
وفي رد المختار:
ثم قال: وكان العلامة بخوارزم لا يأكل من طعامهم ويأخذ جوائزهم، فقيل له فيه، فقال: تقديم الطعام يكون إباحة والمباح له يتلفه على ملك المبيح فيكون آكلا طعام الظالم والجائزة تمليك فيتصرف في ملك نفسه. اهـ.قلت: ولعله مبني على القول بأن الحرام لا يتعدى إلى ذمتين.
(كتاب الزكاة، باب زكاة الغنم، ج:2، ص:292، ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔