سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-118 Fatwa no: 1447-118

کئی بچوں کا عقیقہ ایک بکری کے ذریعے کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں : کہ ایک آدمی نے اپنے کئی بچوں کا عقیقہ نہیں کیا ہے، کیا ایک بکری ذبح کر کے سب کا عقیقہ کر سکتا ہے؟ اور اس سے سنت ادا ہو جائے گی یا نہیں؟۔
جواب :

   واضح رہے کہ عقیقہ  میں  ہر بچے کی طرف سے   جانور ذبح کرنا سنت ہے، اور اس کا حکم قربانی کی طرح ہے، یعنی   جس  طرح چھوٹے جانور میں ایک زائد افراد کی قربانی  کی نیت نہیں کی جاسکتی اسی طرح  عقیقہ میں اگر چھوٹا جانور ہے تو اس میں  ایک ہی  بچے کے عقیقہ کی  نیت کی جا سکتی ہے  ایک سے زائد کی نہیں ، اور اگر بڑا جانور ہے تو اس میں سات تک بچوں کا عقیقہ ہوسکتا ہے۔
چنانچہ  حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ  امداد الأحکام میں فرماتے ہیں:
     ’’بکری میں تو ایک سے زائد کا عقیقہ نہیں ہوسکتا، اور گائے ،بیل میں سات  بچوں تک کا ہو سکتا  ہے،خواہ ایک ہی شخص کے ہوں یا مختلف لوگوں کے‘‘(امداد الأحکام :4/229،کتاب الصید و الذبائح،مکتبہ دار العلوم کراچی)۔
    لہذا صورت مسئولہ میں ایک بکری میں کئی بچوں کا عقیقہ کرنے سے عقیقہ کی سنت ادا نہیں ہوگی،بلکہ  سنت پوری کرنے کے لیے  ہر ایک کی طرف سے الگ الگ بکری ذبح کرنا ہوگا،البتہ  بڑے جانور میں سات تک  بچوں کے  عقیقہ کی نیت   کی  جا سکتی ہے۔
کما فی مشکوة المصابيح:
 عن الحسن عن سمرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الغلام مرتهن بعقيقة يذبح عنه يوم السابع ويسمى ويحلق رأسه۔ رواه احمد والترمذی۔
(ص:363 باب العقيقة الفصل الثانی)
وفی مرقاة المفاتيح:
(عقيقة) ای ذبيحة مسنونةوهی شاة تذبح عن المولود الیوم السابع من ولادته۔         (مرقاة المفاتيح:7/742) 
وفي تنقيح الحامدية:
العقيقة تطوع ....وهي أن يذبح شاة إذا أتى على الولد سبعة أيام .... لأن النبي صلى الله عليه وسلم عق عن الحسن والحسين كبشا كبشا ولا يكون فيه دون الجذع من الضان والثني من المعز ولا يكون فيه إلا السليمة من العيوب لأنه إراقة دم شرعا كالأضحية.... وأحكامها أحكام الأضحية.
(تنقيح الفتاوى الحامدية:2 /233 ،كتاب الذبائح، ط مكتبه حيبيية كوئته).
وفى المغني مع الشرح الكبير:
والأشبه قياسها على الأضحية لأنها نسيكة مشروعة غير واجبة فأشبهت الأضحية 
ولأنها أشبهتها في صفاتها وسنها وقدرها وشروطها.
(المغني مع الشرح الكبير:11/120،يجتنب فى العقيقة من العيب ما يجتنب فى الأضحية،ط دار الفكر).
وفي إعلاء السنن:
ولو له ولدان فذبح عنهما شاة لم تحصل العقيقة ،ولو ذبح بدنة أو بقرة من سبعة أولاد اشترك فيها جماعة جاز.
(إعلاء السنن: 17/119،باب أفضلية ذبح الشاة فى العقيقة،إدارة القرآن كراتشي).

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب