سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-119 Fatwa no: 1447-119

گستاخی کرنے والے ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک ایسا ملک جہاں کے رہنے والوں میں سے کوئی غیرمسلم نعوذباللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا صحابہ کرام کی گستاخی کا مرتکب ہو تو کیا ایسے شخص کی وجہ سے پورے ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا کہا ں سےثابت ہے؟ اور قرون ثلاثہ میں اس کی دلیل موجود ہے ؟
جواب :

مسلمان نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی جان ومال اور اپنے ماں باپ اور اولاد سے بھی زیادہ محبت کرتے ہیں ،آپ علیہ السلام کی محبت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی محبت  کو ہر چیز پر مقدم سمجھتے ہیں ،غرض آپ علیہ السلام سے تعلق رکھنے والی ہر شئ کیساتھ محبت رکھتے ہیں اورایک مسلمان ہونے کے ناطے گستاخی کرنے والے  ملک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا غیرت ایمانی کا تقاضہ ہے ۔
     نیز قرون ثلاثہ میں بھی بائیکاٹ کرنے کی دلیل موجود ہے ،جیسا کہ جب اہل مکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کرنے اور اذیت پہنچانے سے باز نہ آئے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے مسلمانوں نے اہل مکہ کے ساتھ بائیکاٹ کرکے ان کے ساتھ لین دین کو چھوڑا،توبائیکاٹ  کی وجہ سے اہل مکہ قحط میں مبتلا ہوئے یہاں تک کہ مردار کھانے لگے اور بھوک کی وجہ سے ان کو آسمان میں دھواں نظر آنے لگا ،حالانکہ وہ دھواں تھا ہی نہیں ،اس کے بعد اہل مکہ کے بڑے بڑے سردار آپ علیہ السلام کی خدمت میں حا ضر ہوئےاور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ بات کی اور کہنے لگے کہ اس قحط میں بچوں اور عورتوں کا کیا ہوگا،اس کے بعد آپ علیہ السلام نے مسلمانوں کو حکم کیا کہ اہل مکہ کے ساتھ بائیکاٹ ختم کرکے ان کے ساتھ خریدوفروخت کا لین دین شروع کریں ۔
كما في تفسير البغوي:
قَوْلُهُ تَعَالَى: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كانَتْ آمِنَةً، يَعْنِي: مَكَّةَ كَانَتْ آمِنَةً لَا يُهَاجُ أَهْلُهَا وَلَا يُغَارُ عَلَيْهَا.... ابْتَلَاهُمُ اللَّهُ بِالْجُوعِ سَبْعَ سِنِينَ وَقَطَعَتِ الْعَرَبُ عَنْهُمُ الْمِيرَةَ بِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جهدوا وأكلوا الْعِظَامَ الْمُحَرَّقَةَ، وَالْجِيَفَ وَالْكِلَابَ الْمَيِّتَةَ، وَالْعِهْنَ وَهُوَ الْوَبَرُ يُعَالَجُ بِالدَّمِ، حَتَّى كَانَ أَحَدُهُمْ يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى شِبْهَ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوعِ، ثُمَّ إِنَّ رُؤَسَاءَ مَكَّةَ كَلَّمُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عليه وسلم وقالوا: ما هذا؟ هبك عَادَيْتَ الرِّجَالَ فَمَا بَالُ النِّسَاءِ وَالصِّبْيَانِ؟ فَأَذِنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلنَّاسِ بِحَمْلِ الطَّعَامِ إِلَيْهِمْ وَهُمْ بَعْدُ مُشْرِكُونَ.
(سورة النحل،ج3،ص100،ط:دار إحياء التراث العربي)
وفي تفسير الثعلبي:
ابتلاهم الله بالجوع سبع سنين وقطعت العرب عنهم الميرة بأمر رسول الله صلّى الله عليه وسلّم حتى جهدوا فأكلوا العظام المحرّقة والجيفة والكلاب الميتة [والعلهز] وهو الوبر يعالج بالدم، ثم إن رؤساء مكة تكلموا مع رسول الله صلّى الله عليه وسلّم وقالوا: هذا عذاب الرجال فما بال النساء والصبيان؟ فأذن رسول الله صلّى الله عليه وسلّم بحمل الطعام إليهم وهم بعد مشركون.
(سورة النحل،ج6،ص48،ط:دار إحياء التراث العربي)
كما في سنن ابن ماجه:
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، سَمِعْتُ قَتَادَةَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -: "لَا يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى أَكُونَ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ وَلَدِهِ وَوَالِدِهِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ".
(باب فى الايمان،ج1،ص47،ط: دار الرسالة العالمية)
وفي مرقاة المفاتيح:
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -:  «إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِي يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ.
(باب مناقب الصحابة،ج9،ص3881،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب