سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-120 Fatwa no: 1447-120

گونگے كا ذبیحہ كهانے كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :
ہمارے ہاں ایک مرغی فروش ہے، اس کی دکان پر ایک گونگا آدمی کام کرتا ہے، اور کبھی یہ دکاندار خود موجود نہیں ہوتا ہے، تو اس کی جگہ پھر یہ گونگا آدمی مرغی کو ذبح کرکے دیتا ہے، حالانکہ وہ بسم اللہ پڑھنے پر قادر نہیں ہے، تو کیا ایسے آدمی کا ذبیحہ حلال ہے، اور اس مرغی کا کھانا جائز ہے؟۔
جواب :

 واضح رہے کہ گونگا آدمی  اگر مسلمان  ہو   یا اہل کتاب میں سے ہو ، تو اس کا ذبیحہ حلال ہے،  چنانچہ امداد الاحکام میں حضرت مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ فرماتے ہیں: کہ گونگے  مسلمان کا ذبیحہ حلال  ہے، اشارہ  سے اس کو تکبیر سکھا دی جائے(امداد الاحکام :4/216،،کتاب الصید)۔
لہذا صورت مسئولہ میں ایسے گونگےآدمی کا   مرغی  ذبح کرنا  درست اور حلال ہے، اور اس مرغی کا کھانا جائز ہے۔
وفى الفتاوى الهندية:
وتؤكل ذبيحة الأخرس مسلما كان أو كتابيا، كذا في فتاوى قاضي خان.
(الفتاوى الهندية:5/286).
وفى المبسوط للسرخسي:
(وعن) عامر قال: لا بأس بذبيحة الأخرس إذا كان من أهل الإسلام أو من أهل الكتاب وبه نأخذ، فإن إشارة الأخرس وتحريكه الشفتين بمنزلة البسملة من الناطق، ألا ترى أنه يصير به شارعا في الصلاة، كما يكون الناطق شارعا بالتكبير، ثم الأهلية للذبح يكون للذابح من أهل تسمية الله تعالى على الخلوص، وذلك باعتقاده التوحيد، والأخرس معتقد لذلك ثم المحرم بعده الإعراض عن التسمية، ولا يتحقق الإعراض من الأخرس فعذره أبلغ من عذر الناسي، وإذا كان بعذر النسيان ينعدم الإعراض، فبعذر الخرس أولى.
(المبسوط للسرخسي:11/227).

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب