سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-121 Fatwa no: 1447-121

کباڑ خریدنے میں سونا یا ڈالر نکلنے پر مشتری کے لیے استعمال کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : کراچی میں ایک بندہ کباڑ کاکام کررہا ہے ، وہ کباڑ کو وزن کی حساب سے فروخت کرتا ہے، ایک بندہ آیا اس نے اس سے ایک بوجھ خریدا اور اس میں ڈالر یا سونا نکل آیا ، اب خریدنے والے شخص کیلئے یہ سونا لینااور استعمال کرنا جائز ہے یانہیں ؟
جواب :

صورت مسئولہ میں  بوجھ میں مذکورہ ڈالر یاسونا لقطہ ہے اور لقطہ کا حکم یہ ہے کہ اگر اس کا مالک معلوم ہو تو وہ چیز مالک کو واپس کرنا ضروری ہے اور اگر اس کا مالک معلوم نہ ہو تو شخص مذکور لقطہ کی تشہیر اتنی مدت تک کردے کہ اس کو غالب گمان ہوجائے کہ اب اس کا مالک اس کو مزید نہیں ڈھونڈے گا  ،تشہیر اور اعلان کرنے کے بعد اگر مالک معلوم نہ ہوتو وہ فقراء کا حق ہے فقراء پر صدقہ کیا جائے ، البتہ اگرشخص مذکورخود بھی فقیر ہو تو وہ اپنے استعمال میں بھی لاسکتا ہے ، تاہم اگر اس کے صدقہ کرنے کے بعد مالک آجائے ، تو اب مالک کو اختیار ہوگا کہ صدقہ پر راضی رہے یا ملتقط (اٹھانے والے ) سے تاوان وصول کرے ۔
كمافي ردالمحتار على الدرالمختار:
وَأَقَرَّهُ الْمُصَنِّفُ وَغَيْرُهُ (وَلَوْ مِنْ الْحَرَمِ أَوْ قَلِيلَةٍ أَوْ كَثِيرَةٍ) فَلَا فَرْقَ بَيْنَ مَكَان وَمَكَانٍ وَلُقَطَةٍ وَلُقَطَةٍ (فَيَنْتَفِعُ) الرَّافِعُ (بِهَا لَوْ فَقِيرًا وَإِلَّا تَصَدَّقَ بِهَا عَلَى فَقِيرٍ وَلَوْ عَلَى أَصْلِهِ وَفَرْعِهِ وَعُرْسِهِ، إلَّا إذَا عَرَفَ أَنَّهَا لِذِمِّيٍّ فَإِنَّهَا تُوضَعُ فِي بَيْتِ الْمَالِ) تَتَارْخَانِيَّةٌ. وَفِي الْقُنْيَةِ: لَوْ رَجَى وُجُودَ الْمَالِكِ وَجَبَ الْإِيصَاءُ.
(كتاب اللقطة،ج6،ص427،ط:جلالي كتب خانة)
وفى الهندية:
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح، كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء، كذا في خزانة المفتين، ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط أو المسكين إن شاء لو هلكت في يده فإن ضمن الملتقط لا يرجع على الفقير وإن ضمن الفقير لا يرجع على الملتقط وإن كانت اللقطة في يد الملتقط أو المسكين قائمة أخذها منه، كذا في شرح مجمع البحرين.
(كتاب اللقطة،ج4،ص11،ط:رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب