نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
بعض لوگ کسی ڈیم یا نہر وغیرہ پر مچھلیاں پکڑنے جاتے ہیں ،اور مدد کی غرض سے کچھ بچوں کو ساتھ اجرت پر لے جاتے ہیں ،اور ان بچوں کے ذمہ چند کام لگا دیئے جاتے ہیں ،مثلاً: مچھلی کا کانٹا تیار کرنا ،چارہ لگانا،دانہ ڈالنا وغیرہ۔ بعض مرتبہ یہ اجرت پر رکھے ہوئے بچے مستاجر کی اشیاء استعمال کر کے مچھلی پکڑتے ہیں ،اور مستاجر کو دیتے ہیں ،تو ان مچھلیو ں کا مالک مستاجر ہو گا یا وہ بچے جنہوں نے مچھلیاں پکڑی ہیں ؟کیونکہ مچھلیو ں کو پکڑنا مباح کاموں میں سے ہے ،اور میں نے سنا ہے کہ مباحات میں اجارہ جائز نہیں ہوتا۔پوچھنا یہ ہیکہ آیا اس طرح مباح کام پر اجارہ منعقد ہو گا یا نہیں ؟ مکمل رہنمائی فرمادیں ۔
بصورت مسئولہ اجرت پر رکھے ہوئے بچوں کو انکی مقرر کردہ اجرت ملے گی،اور مچھلیاں مستاجر(جس نے بچوں کو اجرت پر لیا ہے)کی ملکیت ہوں گی۔
كمافي شرح المجلة:
يسوغ الاحتطاب من اشجار الجبال المباحة كائناّ من كان ويملك الحطب بمجرد الاحتطاب اي بجمعه ،والربط ليس بشرط، المحتطب يملك الحطب بنفس الاحتطاب ولا يحتاج الى ان يشده ويجمعه حتى يثبت له الملك.
[شرح المجله،ج4ص 188،ماده،1253]
فقہاء کرام کے ہاں لکڑیاں چننے،مچھلیاں پکڑنے ،پانی بھرنے اور دیگر مباحات میں شر کت صحیح نہیں ہے ،لیکن اگر وہ کام ایسا ہو جس میں مہارت ضروری ہو تو یہ شرکت صنائع کے قبیل سے ہوکر جائز ہو گی۔
وفي الهندية:
(الباب الخامس في الشركة الفاسدة) وهي التي فاتها شرط من شرائط الصحة، كذا في البدائع لا تصح الشركة في الاحتطاب والاصطياد والاستقاء، كذا في الكافي، وكذا الاحتشاش والتكدي وسؤال الناس وما اصطاد كل واحد منهما أو احتطبه أو أصابه من التكدي فهو له دون صاحبه وعلى هذا الاشتراك في كل مباح كأخذ الكلأ والثمار من الجبال كالجوز والتين والفستق وغيرهما، وكذا في نقل الطين وبيعه من أرض مباحة أو الجص أو الملح أو الثلج أو الكحل أو المعدن أو الكنوز الجاهلية، وكذا إذا اشتركا على أن يبنيا من طين غير مملوك أو يطحنا آجرا، كذا في فتح القدير، فإن كان الطين أو النورة أو سهلة الزجاج مملوكا واشتركا على أن يشتريا ويطحنا ويبيعا جاز وهي شركة الوجوه، كذا في الخلاصة.
[الباب الخامس في الشركة الفاسدة،ج2ص233،ط:دارالفكر]
عطر ہدایۃ:
ہر مباح چیز قبضہ سے ملک میں داخل ہو سکتی ہے ۔۔۔ لہذ جواہر،لکڑی ،پھل،پھول ،گھاس ،پانی،جانور، مچھلیاں،کنکر،پتھر اور جملہ معدنیات قبضہ کے بعد مملوک ہوجاتی ہیں ،اور کسی کے قبضہ میں آنے سے پہلے ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ اس پر قبضہ کرلے۔
لیکن اگر مستاجر کسی آدمی کو مباح چیزیں جمع کرنے کے لیے اجرت پر رکھے ،اور وقت کی تعیین کر دے تو یہ اجارہ جائز ہے ،اورلکڑیاں مستاجر کی ہونگی، اور اجیر کو اجرت ملے گی۔
وفی شرح المجلة:
اذا استاجر شخص اجيرا لاجل جمع الاحتطاب المتكسرة او امساك الصيد فما جمعه من الحطب او امسكه من الصيد فهو للمستاجر،لان الاجير عامل لمستاجره.
[شرح المجلة،ج4ص188]
فتاوی محمودیہ:
اگر آپ مزدور سے اس طرح معاملہ کریں ،مثلاً: ایک دن میں آٹھ گھنٹے تم سے یہ کام لینا ہے ،اور گھنٹے کی مزدوری، مثلاً: چار روپے دوں گا ، اور مزدور اس کو قبول کر لے تو شرعاً یہ معاملہ درست ہے ،اور وہ لکڑی آپ کی ملک ہو گی۔
جدید فقہی مسائل:
اگر ان کو ماہانہ یا سالانہ ملازم رکھے، اور اجر ت وقت کی ادا کرے،چاہے مچھلی ملے یا نہ ملے تو یہ جائز ہے۔اجرت حلال ہو گی اور مچھلی جو ملی وہ سب مالک کی ہو گی ۔اور اگر وقت مقرر نہ کرے،بلکہ مزدوروں کو جال حوالہ کرکے شکار کے لیے بھیجے،اور مچھلی کچھ مقدار اجرت ٹھہرائے،جیسے فی زماننا معوج ہے تو یہ صورت ناجائز ہے ،یہ اجارہ باطل ہے ،مچھلی شکار کرنے ولاے کی ملک ہو گی ،جال والے کو جال کی اجرت مثل ملے گی۔
وفي الدرالمختار:
لا تصح الشركة في الاحتطاب والاصطياد والاستقاء، كذا في الكافي، وكذا الاحتشاش والتكدي وسؤال
الناس وما اصطاد كل واحد منهما أو احتطبه أو أصابه من التكدي فهو له دون صاحبه وعلى هذا الاشتراك في كل مباح كأخذ الكلأ والثمار من الجبال كالجوز والتين والفستق وغيرهما، وكذا في نقل الطين وبيعه من أرض مباحة أو الجص أو الملح أو الثلج أو الكحل أو المعدن أو الكنوز الجاهلية، وكذا إذا اشتركا على أن يبنيا من طين غير مملوك أو يطحنا آجرا، كذا في فتح القدير، فإن كان الطين أو النورة أو سهلة الزجاج مملوكا واشتركا على أن يشتريا ويطحنا ويبيعا جاز وهي شركة الوجوه، كذا في الخلاصة.
[الباب الخامس في الشركة الفاسدة،ج2ص233،ط:دارالفكر]
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔