سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-123 Fatwa no: 1447-123

عقدِ مضاربت فیصد کے اعتبار سے نفع متعین کرنے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
N.G.R ایک کمپنی ہے جوکہ سولر پلیٹ کا آن لائن بزنس کرتی ہے، ایک سولر پلیٹ کی قیمت 2000، 6000، 12000، مختلف قیمت پر مشتمل ہے یہ آپ کی چوائس اور مرضی ہے کہ جس قیمت کی آپ پسند کرکے اس پر آپ انویسٹ کریں ، ایک ہزار پر ڈیلی کمپنی اکیس (21 )فیصد پرافٹ دے رہی ہے اس میں کمپنی نقصان کی صورت میں بند بھی ہوسکتی ہے آپ نے جو انویسٹ کیا ہے نقصان کی صورت میں ضائع بھی ہوسکتا ہے ، N.G.R کمپنی ایک ہفتہ پندرہ دن ایگریمنٹ کرتی ہے اسی میں 12000 سے لیکر 50000 تک انویسٹ کرسکتے ہیں جتنا معاہدہ ہوتا ہے انہیں دنوں کا پرافٹ بمع انویسٹ شدہ رقم آپ کو واپس کردیتے ہیں دوبارہ آپ کی مرضی کہ انویسٹ کریں یا نہ کریں ، شریعت کی روسے رہنمائی فرمائے کہ یہ کاروبار جائز ہے یا ناجائز ؟

جواب :

جس عقد میں ایک جانب سے مال ہو اور دوسرے جانب سے عمل ہواس عقد کوشریعت  کی اصطلاح میں عقد مضاربت کہتے ہیں ، عقد مضاربت کے اصولوں  میں سے ایک یہ بھی ہے کہ راس المال رب المال کا ہوگا اور عمل مضارب پر ہوگا ،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ کمپنی کو کاروبار کیلئے دی ہوئی رقم پر متعین شرح سےاکیس فیصد نفع وصول کرنا جائز ہے ، تاہم عموما آن لائن بزنس کچھ عرصہ تک چلتا ہے اور پھردھوکہ اور فراڈ وغیرہ کرکے کمپنی اپنا کاروبار ختم کردیتی ہےاس لئے عموما آن لائن بزنس میں انویسمنٹ سے اجتناب کرنا بہتر ہے ۔
كما في ردالمحتارعلى الدرالمختار: 
(هِيَ) لُغَةً مُفَاعَلَةٌ مِنْ الضَّرْبِ فِي الْأَرْضِ وَهُوَ السَّيْرُ فِيهَا وَشَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ.
وفيه ايضا : (وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَتْ (وَكَوْنُ نَصِيبِ كُلٍّ مِنْهُمَا مَعْلُومًا) عِنْدَ الْعَقْدِ.
(كتاب المضاربة،ج8،ص501،497،ط:مكتبة رحمانية)
وفى الهندية:
أما تفسيرها شرعا فهي عبارة عن عقد على الشركة في الربح بمال من أحد الجانبين والعمل من الجانب الآخر حتى لو شرط الربح كله لرب المال كان بضاعة ولو شرط كله للمضارب كان قرضا هكذا في الكافي. فلو قبض المضارب المال على هذا الشرط فربح أو وضع أو هلك المال بعد ما قبضه المضارب قبل أن يعمل به كان الربح للمضارب والوضيعة والهالك عليها كذا في المحيط.
(كتاب المضاربة،ج7،ص163،ط:رشيدية)
وفى المحيط البرهاني:
ألشرط الخامس:أن يكون نصيب المضارب من الربح معلوما على وجه لا تنقطع به الشركة فى الربح 
إما يشترط أن يكونصيبه معلوما كيلا يقعا فى المنازعة فى الثاني وإما يشترط أن يكون نصيب المضارب شيئا لايقطع الشركة؛ لأن المضاربةجوزت بخلاف القياس بالنص بطريق الشركة فى الربح،فاذا شرط للمضارب مايقطع الشركةلم يكن مقتضى ماوردبه النص،فيرد إلى مايقتضيه القياس. 
(كتاب المضاربة،ج18،ص126،ط:إدارة القرآن والعلوم الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب