نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںجواب سے پہلے تمہیدی طور پر ایک اصول کا سمجھنا ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ اگر مالک اور مستاجر اول کے درمیان اجارہ کی کوئی مدت متعین نہ ہو تو اس صورت میں مستاجر اول کے لئے مستاجر جدید سے دستبرداری کا عوض لینا شرعا جائز نہیں ہوتا ،لیکن اگر مالک اور مستاجر اول کے درمیان اجارہ کی مدت متعین ہو تو اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی مستاجر اول مستاجر جدید کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہورہا ہو تو پھر اس کے لئے مستاجر جدید سے اس دستبرداری کا عوض لینا شرعا ً جائز ہے ،صورت مسئولہ میں چونکہ آپکے اور مالک کے درمیان اجارہ کی مدت یعنی دس سال متعین ہے اور اب آپ تین سال پہلے اپنے دوست کے لئے اپنے حق اجارہ سے دستبردار ہورہے ہیں تو اس صورت میں آپ کے لئے اپنے اس حق اجارہ سے دستبرداری کے عوض اپنے دوست سے دو لاکھ روپے لینا شرعا جائز ہے۔
في فقه البيوع:
المسئلة الثالثة وهي:هل يجوز للمستأ جر القديم أن يطالب المستأجر الجديد بدفع بدل مقابل لحقه في البقاءعلى الإجارة؟فالذين يجوزون بدل الخلويجوزون ذلك ايضا.اما على القول بمنع بدل الخلو،فإن كانت الإجارة غير محددةالمدة كما هو معروف في المؤجرات على سبيل الخلو،فلا يجوز أخذ هذالبدل من المستأجر الجديد.نعم اذا حددت مدة أصل الإجارة ثم تنازل عن حقه قبل تلك المدة لمستأجر جديد،فإنه يجوز له أن يأخذ عوضا عن هذا التنازل.
(خلو الداروالحوانيت،ج:1،ص:264،263،ط:معارف القرآن)
وفي الفقه الاسلامي وأدلته:إذا تم الاتفاق بين المستأجر الأول وبين المستأجر الجديد أثناء مدة الإجارة على التنازل عن بقية مدة العقد، لقاء مبلغ زائد عن الأجرة الدورية، فإن بدل الخلو هذا جائز شرعاً، مع مراعاة مقتضى عقد الإجارة المبرم بين المالك والمستأجر الأول.
(بدل الخلو،ج:7،ص:513،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
وأما ما يأخذه المستأجر من الفروغ مقابل تنازله عن اختصاصه بمنفعة العقار المأجور لشخص آخر يحل محله فهو جائز أيضاً إذا كانت مدة الإجارة باقية.
(مقابل الخلو،ج:5،ص:382،ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔