سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-124 Fatwa no: 1447-124

مدت اجارہ ختم ہونے سے پہلے حق اجارہ سے دستبردار ہونے کا عوض لینا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: میں نے ایک دکان دس سال کے لئے کرایہ پر لی ہے اب سات سال گزر چکے ہیں اور میرا ایک دوست مجھے کہہ رہا ہے کہ آپ میرے لئے یہ دوکان چھوڑدےتو میں نے اس سے اس دستبرداری کے عوض دو لاکھ روپے کا مطالبہ کیا اور وہ دینے پر راضی بھی ہے ۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس دستبرداری کے عوض میرے لئے اس سے یہ دو لاکھ روپے لینا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔
جواب :

جواب سے پہلے تمہیدی طور پر ایک اصول کا سمجھنا ضروری ہے،وہ یہ ہے کہ اگر مالک اور مستاجر اول کے درمیان اجارہ کی کوئی مدت متعین نہ ہو تو اس صورت میں مستاجر اول کے لئے  مستاجر جدید سے دستبرداری کا عوض لینا شرعا جائز نہیں ہوتا ،لیکن اگر مالک اور مستاجر اول کے درمیان اجارہ کی مدت  متعین ہو تو اس مدت کے ختم ہونے سے پہلے ہی مستاجر اول مستاجر جدید کے لئے اپنے حق سے دستبردار ہورہا ہو تو پھر اس کے لئے مستاجر جدید سے اس دستبرداری کا عوض لینا شرعا ً جائز ہے ،صورت مسئولہ میں چونکہ آپکے اور مالک کے درمیان اجارہ کی مدت یعنی دس سال متعین ہے اور اب آپ تین سال پہلے اپنے دوست کے لئے اپنے حق اجارہ سے دستبردار ہورہے ہیں تو اس صورت میں آپ  کے لئے اپنے اس حق اجارہ سے دستبرداری کے عوض اپنے دوست سے دو لاکھ روپے لینا شرعا جائز ہے۔
في فقه البيوع:
المسئلة الثالثة وهي:هل يجوز للمستأ جر القديم أن يطالب المستأجر الجديد بدفع بدل مقابل لحقه في البقاءعلى الإجارة؟فالذين يجوزون بدل الخلويجوزون ذلك ايضا.اما على القول بمنع بدل الخلو،فإن كانت الإجارة غير محددةالمدة كما هو معروف في المؤجرات على سبيل الخلو،فلا يجوز أخذ هذالبدل من المستأجر الجديد.نعم اذا حددت مدة أصل الإجارة ثم تنازل عن حقه قبل تلك المدة لمستأجر جديد،فإنه يجوز له أن يأخذ عوضا عن هذا التنازل.
(خلو الداروالحوانيت،ج:1،ص:264،263،ط:معارف القرآن)
وفي الفقه الاسلامي وأدلته:إذا تم الاتفاق بين المستأجر الأول وبين المستأجر الجديد أثناء مدة الإجارة على التنازل عن بقية مدة العقد، لقاء مبلغ زائد عن الأجرة الدورية، فإن بدل الخلو هذا جائز شرعاً، مع مراعاة مقتضى عقد الإجارة المبرم بين المالك والمستأجر الأول.

(بدل الخلو،ج:7،ص:513،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
وأما ما يأخذه المستأجر من الفروغ مقابل تنازله عن اختصاصه بمنفعة العقار المأجور لشخص آخر يحل محله فهو جائز أيضاً إذا كانت مدة الإجارة باقية.
(مقابل الخلو،ج:5،ص:382،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب