سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-126 Fatwa no: 1447-126

مسافر تبلیغی جماعت کی مختلف بستیوں میں نماز کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
رائیونڈ مرکز سے تبلیغی جماعت کی 35 دن کی تشکیل مظفر گڑھ کے ایک علاقہ چوک سرور شہید میں ہوئی،اس میں چھوٹی چھوٹی بستیاں  ہیں،جو تقریبا چار، پانچ گھروں پر مشتمل ہوتی ہیں، ہر بستی ایک دوسرے سے تقریبا دو یا تین کلو میٹر اور کبھی اس سے کم کے فاصلہ پر واقع ہوتی ہے ،اس پورے علاقے میں تو پندرہ دن سے زیادہ اقامت کرتے ہیں ،لیکن ہر  بستی میں تین دن اقامت اختیار کرتے ہیں ،تو پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ تبلیغی حضرات قصر کرینگے یا اتمام ؟
تنقیح:مذکورہ بستیاں چوک سرور شہید سے تقریبا دس کلومیٹر دور ہیں اور بستیوں تک کوئی بھی آبادی نہیں ہے یعنی غیر آباد  علاقہ ہے،اسی طرح دو بستیوں کے درمیان بھی کوئی آبادی وغیرہ نہیں ہے،بلکہ ہربستی صرف چار پانچ  گھروں پر مشتمل ہوتی ہے ۔

جواب :

واضح رہے کہ اقامت کی شرائط میں سےایک شرط یہ ہے کہ ایک ہی جگہ پندرہ دن یا اس سے زائد قیام کرنا ہو،لہذا صورت مسئولہ میں مذکورہ تبلیغی جماعت مسافر کے حکم میں شمار ہوکر قصر کرینگے،کیونکہ انہوں نے ایک ہی جگہ میں پندرہ دن کی اقامت اختیار نہیں کی ہے ۔
فتاوی قاسمیہ میں ہے:
سوال:کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک جماعت بمبئی سے عثمان آباد مسافت سفر پر چالیس دن کیلئے گئی عثمان آباد کے ذمہ داروں نے مشورہ کرکے جماعت کو چالیس دن کیلئے شہر کے آس پاس کے دیہاتوں میں تین تین دن کا رُخ بناکر روانہ کردیا،یہ جماعت تین دن ایک دیہات میں کام کرکے پھر تین دن کیلئے دوسرے دیہات میں جاتی ہے ،جو مسافت سفر سے کم پر واقع ہے ،اس طرح یہ جماعت اپنا چلہ پوراا کرے گی ،تو یہ جماعت اس ضلع میں مقیم ہوگی یا مسافر؟ جو بھی حکم شرعی ہو تحریر فرمادیں عین نوازش ہوگی؟
جواب: مذکورہ جماعت پورے چلہ عثمان آباد میں مسافر ہی رہے گی ،اس لئے کہ اقامت کی شرائط میں سے ایک شرط ایک جگہ پندرہ دن قیام کرنا ہے جو اس کے حق میں نہیں پایا گیا ۔
(فتاوی قاسمیہ،باب صلاۃ المسافر،ج8،ص680)
كما في فتاوى الهندية :
ونية الإقامة إنما تؤثر بخمس شرائط: ترك السير حتى لو نوى الإقامة وهو يسير لم يصح، وصلاحية الموضع حتى لو نوى الإقامة في بر أو بحر أو جزيرة لم يصح، واتحاد الموضع والمدة ....... ولو نوى الإقامة خمسة عشر يوما في موضعين فإن كان كل منهما أصلا بنفسه نحو مكة ومنى والكوفة والحيرة لا يصير مقيما وإن كان أحدهما تبعا للآخر حتى تجب الجمعة على سكانه يصير مقيما.
(الباب الخامس عشر في صلاة المسافر،ج1،ص140،ط:دارالفكر)

وفى البدائع الصنائع:
(وَأَمَّا) اتِّحَادُ الْمَكَانِ: فَالشَّرْطُ نِيَّةُ مُدَّةِ الْإِقَامَةِ فِي مَكَان وَاحِدٍ؛ لِأَنَّ الْإِقَامَةَ قَرَارٌ وَالِانْتِقَالُ يُضَادُّهُ وَلَا بُدَّ مِنْ الِانْتِقَالِ فِي مَكَانَيْنِ وَإِذَا عُرِفَ هَذَا فَنَقُولُ: إذَا نَوَى الْمُسَافِرُ الْإِقَامَةَ خَمْسَةَ عَشَرَ يَوْمًا فِي مَوْضِعَيْنِ فَإِنْ كَانَ مِصْرًا وَاحِدًا أَوْ قَرْيَةً وَاحِدَةً صَارَ مُقِيمًا؛ لِأَنَّهُمَا مُتَّحِدَانِ حُكْمًا، أَلَا يُرَى أَنَّهُ لَوْ خَرَجَ إلَيْهِ مُسَافِرًا لَمْ يَقْصُرْ فَقَدْ وُجِدَ الشَّرْطُ وَهُوَ نِيَّةُ كَمَالِ مُدَّةِ الْإِقَامَةِ فِي مَكَان وَاحِدٍ فَصَارَ مُقِيمًا وَإِنْ كَانَا مِصْرَيْنِ نَحْوَ مَكَّةَ وَمِنًى أَوْ الْكُوفَةِ وَالْحِيرَةِ أَوْ قَرْيَتَيْنِ، أَوْ أَحَدُهُمَا مِصْرٌ وَالْآخَرُ قَرْيَةٌ لَا يَصِيرُ مُقِيمًا؛ لِأَنَّهُمَا مَكَانَانِ مُتَبَايِنَانِ حَقِيقَةً وَحُكْمًا.
(فَصْلٌ بَيَانُ مَا يَصِيرُ الْمُسَافِرُ بِهِ مُقِيمًا،ج1،ص98،ط:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب