سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-127 Fatwa no: 1447-127

مقیم امام کے پیچھے مسافر مقتدی کا نائب (خلیفہ) بننے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : مقیم امام کے پیچھے چند مسافروں نے اقتداء کی،پھر قعدہ اولی میں امام کو حدث لاحق ہوا تو اس نے ایک مسافر مقتدی کو نائب بنایا ،اب پوچھنا یہ ہے کہ مقتدی اب چار رکعت نماز پوری کرینگے یا دو رکعت ؟
جواب :

واضح رہے کہ جب مسافر  مقیم امام کی اقتدا کرلے توامام کی متابعت کی وجہ سے مسافر پر مقیم کی طرح چار رکعتیں ادا کرنا لازم ہوجاتی ہیں،لہذا صورت مسئولہ میں دوران نماز حدث لاحق ہونے کی صورت میں مقیم امام نے دورکعت کے بعد اس کو اپنا خلیفہ مقرر کرلیا تو اس کا خلیفہ بننا درست ہے اور مقیم ہی کی طرح پوری نماز پڑھائے گا ۔
كما فى المحيط البرهاني:
مسافر أم مسافرين يصلي بهم ركعة ثم نوى الإقامة، قال: عليه أن يكمل بهم الصلاة إن نيته استندت إلى أول الصلاة وقد التزموا متابعته، فعليهم ما على الإمام من إتمام الصلاة، فإن أحدث الإمام بعد ما نوى الإقامة، فقدم رجلاً، قال: يتم بهم الصلاة أربع ركعات؛ لأن الثاني قائم مقام الأول.ولو كان الأول قائماً يصلي أربع ركعات، فكذلك الثاني، فصار بهذا كمسافر اقتدى بالمقيم في الوقت، فإنه تصير صلاته أربع ركعات، فكذلك ههنا، فإن كان الإمام الأول لم ينوِ الإقامة، ولكن الإمام الثاني ينوي الإقامة لا يتغير فرضهم؛ لأنهم ما التزموا متابعته، وإنما لزمهم ذلك ضرورة إصلاح صلاتهم، ففيما سوى ذلك، فليس عليهم متابعته.
(الفصل الثاني والعشرون في صلاة السفر،ج2،ص410،ط:ادارة القرآن والعلوم الاسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب