سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-128 Fatwa no: 1447-128

مسبوق کا امام کو سجدہ کی حالت میں پانے کی صورت میں ہاتھ باندھے بغیر سجدہ میں جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: امام صاحب سجدہ کی حالت میں ہےاور ایک مسبوق شخص سجدہ میں امام کیساتھ شریک ہونا چاہتا ہے ،تو کیا اب مقتدی تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ کر پھر سجدہ میں جائے گا یا تکبیر تحریمہ کے بعد فورا ہاتھ باندھے بغیر سجدہ میں جائے گا ؟
جواب :

بصورت مسئولہ اگر مذکورہ شخص کا گمان غالب ہو کہ وہ تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھ کر اور ثناء پڑھ کر   امام کے ساتھ سجدہ میں شریک ہوسکتا ہے تو پھر اسی  طرح ہاتھ باندھ کر ثناء پڑھنے کے بعد امام کے ساتھ سجدہ میں شریک ہوجائے،بصورت دیگر تکبیر تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھے بغیر تکبیر (اللہ اکبر) کہہ کرامام کے ساتھ سجدہ میں شریک ہونا چاہئے ۔
كما في الفتاوى الهندية:
وإن أدرك الإمام في الركوع أو السجود يتحرى إن كان أكبر رأيه أنه لو أتى به أدركه في شيء من الركوع أو السجود يأتي به قائما وألا يتابع الإمام ولا يأتي به وإذا لم يدرك الإمام في الركوع أو السجود لا يأتي بهما وإن أدرك الإمام في القعدة لا يأتي بالثناء بل يكبر للافتتاح ثم للانحطاط ثم يقعد.
(ألفصل السابع فى المسبوق واللاحق،ج1،ص192،ط:رشيدية)
وفى البحرالرائق:
وإذا أدرك الامام في الركوع يتحرى إن كان أكبر رأيه أنه لو أتى به أدرك الامام في شئ من الركوع يأتي به قائما وإلا يتابع الامام ولا يأتي بالثناء في الركوع لفوات محله فإنه محل التسبيحات. وإنما يأتي بتكبيرات العيد فيه دون تسبيحاته لانها واجبة دونها، وكذا لو أدرك المسبوق الامام في السجدة فهو كالركوع.
(كتاب الصلاة،ج1،ص543،ط: دار الكتب العلمية بيروت)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب