سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-129 Fatwa no: 1447-129

معاملہ ختم ہونے کی صورت میں بیعانہ کی رقم ضبط کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:
ایک شخص نے دوسرے سے ایک پلاٹ خریدا اور کچھ رقم بیعانہ کے طور پر دیدی،اور کہا کہ باقی رقم رجسٹری کے وقت اداکروں گا یا جب آپ چاہیں ،لیکن چند ماہ بعد مشتری نے پلاٹ خریدنے سے انکار کردیا کہ یہ پلاٹ میں نہیں لوں گا،اور جو پیسے میں نے آپ کو بیعانہ کے طور پر دیئے ہیں وہ مجھے واپس کردو ،بائع نے کہا کہ میں آپ کو یہ رقم واپس نہیں کروں گا بلکہ یہ ضبط کی جائے گی،تو اب سوال یہ ہے کہ کیا بائع کا یہ کہنا کہ میں آپکو وہ رقم واپس نہیں کروں گا جو آپ نے مجھے بیعانہ کے طور پر دیئے ہیں،شرعا درست ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔

جواب :

واضح رہے کہ معاملہ ختم ہونے کی صورت میں بیعانہ کی رقم کو ضبط کرنا شرعا جائز نہیں ہےبلکہ بائع پر مشتری کو یہ رقم واپس کرنا ضروری ہوتا ہے،لہذا بصورت مسئولہ بائع کا مشتری سے یہ کہنا کہ میں آپکو بیعانہ کی رقم واپس نہیں کروں گا اور وہ رقم ضبط کی جائے گی شرعا درست نہیں ہے،بلکہ بائع پر مشتری کو وہ رقم واپس کرنا ضروری ہے،لیکن اگر اس معاملہ کو ختم کرنے کی صورت میں بائع کا حقیقی کوئی نقصان ہواہو تو بائع اس ہونے والے حقیقی نقصان کی کٹوتی کرسکتا ہے۔
        في سنن إبن ماجة:
عَنْ عَمْرِو ابْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِعَنْ جَدِّهِ: أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ.قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بن ماجه: الْعُرْبَانُ: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ دَابَّةً بِمائة دِينَارٍ، فَيُعْطِيَهُ دِينَارَيْنِ أربُونًا فَيَقُولُ: إِنْ لَمْ أَشْتَرِ الدَّابَّةَ فَالدِّينَارَانِ لَكَ.وَقِيلَ: يَعْنِي - وَاللَّهُ أَعْلَمُ-: أَنْ يَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الشَّيْءَ، فَيَدْفَعَ إِلَى الْبَائِعِ دِرْهَمًا أَوْ أَقَلَّ أَوْ أَكْثَرَ، وَيَقُولَ: إِنْ أَخَذْتُهُ وَإِلَّا فَالدِّرْهَمُ لَكَ.
(كتاب البيوع،ج:3،ص:313،حديث:2193،ط:دارالرسالة العالمية)
وفي بذل المجهود:
ويرد العربان إذا ترك العقد على كل حال بالإتفاق.
(ج:11،ص:221،ط:دارالبشائر الإسلامية)
وفي ردالمحتار:
إذْ لَا يَجُوزُ لِأَحَدٍ مِنْ الْمُسْلِمِينَ أَخْذُ مَالِ أَحَدٍ بِغَيْرِ سَبَبٍ شَرْعِيٍّ.
(باب التعزير،ج:4،ص:61،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب