سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-130 Fatwa no: 1447-130

مغصوبہ زمین کی وجہ سے شفعہ کا دعوی کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں: ایک آدمی نے کسی سے کوئی زمین ناجائز طریقے سے غصب کی ہے،اور اس کا معاوضہ ادا نہیں کیا ہے ،اب اس مغصوبہ زمین کے قریب کوئی دوسری زمین فروخت ہو رہی ہے ،تو آیا یہ غاصب اس مغصوبہ زمین کی وجہ سے اس فروخت ہونے والی زمین میں شفعہ کا دعوی کر سکتا ہے یا نہیں؟۔مہربانی فرما کر مذکورہ مسئلے کی شرعی وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کسی کی کوئی چیز  غصب کرنا گناہ کبیرہ ہے۔احادیث میں اس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں،نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:’’جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی غصب کرے گا،تو قیامت کے  دن ساتوں زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے  میں ڈال دیا جائے گا،‘‘لہذا اس غاصب پر واجب ہے کہ وہ زمین اپنے مالک کو واپس کرے ،اس غصب سے یہ اس زمین کا مالک نہیں بنتا۔اور شفعہ کا حق صرف تین افراد  کو حاصل ہوتا ہے،اول اس کو جو نفس مبیع یعنی زمین وغیرہ میں اس کے ساتھ شریک ہو،پھر اس کو جو حق مبیع یعنی راستے وغیرہ میں شریک ہو،پھر اس کو جو پڑوسی ہو۔ اس کے علاوہ کسی کو شفعہ کا حق  حاصل نہیں،صورت مسئولہ میں ان تینوں صورتوں میں  سے کوئی بھی صورت نہیں پائی جارہی ہے،اس لیے اس غاصب کو مذکورہ فروخت ہونے والی زمین میں شرعاً  شفعہ کا حق حاصل نہیں۔
کما فی صحيح المسلم:
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال * من اقتطع شبرا من الأرض ظلما طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين.
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * لا يأخذ أحد شبرا من الأرض بغير حقه إلا طوقه الله إلى سبع أرضين يوم القيامة. 
(صحيح المسلم:2/32 باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها)
وفی الهداية:
قال الشفعة واجبة للخليط في نفس المبيع ثم للخليط في حق المبيع كالشرب والطريق ثم للجار أفاد هذا اللفظ ثبوت حق الشفعة لكل واحد من هؤلاء(الهدایة:4/389 کتاب الشفعة ط شرکت علمیة ملتان)
وفی الدرالمختار:
( هي ) لغة الضم وشرعا ( تمليك البقعة جبرا على المشتري بما قام عليه ) بمثله لو مثليا وإلا فبقيمته ( وسببها اتصال ملك الشفيع بالمشتري ) بشركة أو جوار
 (الدر المختار:6/216 کتاب الشفعة ط سعيد)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب