نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کسی کی کوئی چیز غصب کرنا گناہ کبیرہ ہے۔احادیث میں اس کے بارے میں سخت وعیدیں آئی ہیں،نبی کریمﷺ کا ارشاد ہے:’’جو شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی غصب کرے گا،تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق بنا کر اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا،‘‘لہذا اس غاصب پر واجب ہے کہ وہ زمین اپنے مالک کو واپس کرے ،اس غصب سے یہ اس زمین کا مالک نہیں بنتا۔اور شفعہ کا حق صرف تین افراد کو حاصل ہوتا ہے،اول اس کو جو نفس مبیع یعنی زمین وغیرہ میں اس کے ساتھ شریک ہو،پھر اس کو جو حق مبیع یعنی راستے وغیرہ میں شریک ہو،پھر اس کو جو پڑوسی ہو۔ اس کے علاوہ کسی کو شفعہ کا حق حاصل نہیں،صورت مسئولہ میں ان تینوں صورتوں میں سے کوئی بھی صورت نہیں پائی جارہی ہے،اس لیے اس غاصب کو مذکورہ فروخت ہونے والی زمین میں شرعاً شفعہ کا حق حاصل نہیں۔
کما فی صحيح المسلم:
عن سعيد بن زيد بن عمرو بن نفيل أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال * من اقتطع شبرا من الأرض ظلما طوقه الله إياه يوم القيامة من سبع أرضين.
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * لا يأخذ أحد شبرا من الأرض بغير حقه إلا طوقه الله إلى سبع أرضين يوم القيامة.
(صحيح المسلم:2/32 باب تحريم الظلم وغصب الأرض وغيرها)
وفی الهداية:
قال الشفعة واجبة للخليط في نفس المبيع ثم للخليط في حق المبيع كالشرب والطريق ثم للجار أفاد هذا اللفظ ثبوت حق الشفعة لكل واحد من هؤلاء(الهدایة:4/389 کتاب الشفعة ط شرکت علمیة ملتان)
وفی الدرالمختار:
( هي ) لغة الضم وشرعا ( تمليك البقعة جبرا على المشتري بما قام عليه ) بمثله لو مثليا وإلا فبقيمته ( وسببها اتصال ملك الشفيع بالمشتري ) بشركة أو جوار
(الدر المختار:6/216 کتاب الشفعة ط سعيد)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔