سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-133 Fatwa no: 1447-133

نماز کی فرضیت کے شرائط

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک لڑکی ہے جس کی عمر تقریبا 18،17 سال ہے،اس کی حالت یہ ہے کہ وہ نہ خود بیٹھ سکتی ہے ،نہ لیٹ سکتی ہے،نہ اٹھ سکتی ہے،نہ کھانا پینا  خود کرسکتی ہے،باتیں بھی نہیں کرسکتی اور نہ کچھ سمجھ سکتی ہے ،البتہ کبھی کبھار کسی بات پر مسکراہٹ ظاہر کرتی ہے،اسی طرح اس کو نماز ،قرآن پاک ناظرہ وغیرہ کچھ بھی  یاد نہیں ہے،تو پوچھنا یہ ہے کہ ایسی لڑکی پر نماز وغیرہ ادا کرنا لازم ہے یا نہیں ؟نیز اگر اس کو حیض آجائے ،تو اس پر غسل کرنا لازم ہوگا یا نہیں ؟حالانکہ وہ غسل نہیں کرسکتی،بلکہ اگر کبھی نہانا ہو ،تو والدہ اس کو نہاتی ہے۔

جواب :

واضح رہے کہ اگر کسی شخص میں تین شرائط یعنی اسلام،عقل اور بلوغت موجود ہوں تو وہ مکلف شمار ہوگا اور اس پر نماز وغیرہ فرائض  کی ادائیگی لازم ہوگی اور اگر ان میں سے میں سے کوئی ایک شرط بھی نہ پائی جائے ،تو اس شخص پرنماز وغیرہ فرائض کی ادائیگی لازم نہیں ہوگی،لہذا صورت مسئولہ میں اگر واقعتا مذکورہ لڑکی کسی بھی چیز پر قادر نہیں ہے یعنی نہ خود بیٹھ سکتی ہے،نہ اٹھ سکتی ہے،نہ کھانا پینا خود کرسکتی ہے،باتیں بھی نہیں کرسکتی اور نہ کچھ سمجھ سکتی ہے،تو اس صورت میں اس پر نماز ودیگرفرائض کی ادائیگی اور غسل وغیرہ کرنا لازم نہیں ہوگا۔
كما في قوله تعالى:
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا لَهَا مَا كَسَبَتْ وَعَلَيْهَا مَا اكْتَسَبَتْ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ.
(سورة بقرة،آية 286)
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(هي فرض عين على كل مكلف) بالإجماع. فرضت في الإسراء ليلة السبت سابع عشر رمضان قبل الهجرة بسنة ونصف، وكانت قبله صلاتين قبل طلوع الشمس وقبل غروبها شمني.
(قوله: على كل مكلف) أي بعينه؛ ولذا سمي فرض عين، بخلاف فرض الكفاية فإنه يجب على جملة المكلفين كفاية، بمعنى أنه لو قام به بعضهم كفى عن الباقين وإلا أثموا كلهم. ثم المكلف هو المسلم البالغ العاقل ولو أنثى أو عبدا.
(كتاب الصلاة،ج1،ص351،ط:دارالفكر)
وفى الفقه الإسلامي:
وهي فرض عين على كل مكلف(بالغ عاقل)، ولكن تؤمر بها الأولاد لسبع سنين، وتضرب عليها لعشر، بيدٍ، لا بخشبة، لقوله صلّى الله عليه وسلم:"مُروا صبيانكم بالصلاة لسبع سنين، واضربوهم عليها لعشر سنين، وفرِّقوا بينهم في المضاجع."
(كتاب الصلاة،ج1،ص654،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب