سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-134 Fatwa no: 1447-134

نماز کی قراءت میں ایک کلمہ کی جگہ دوسرا کلمہ پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ : ایک امام نے مغر ب کی نماز میں قراءت کرتے ہوئے "قل يا ايها الکفرون لا اعبد ما تعبدون " کے بجائے "لا تعبد ماتعبدون " پڑھا ، نماز ہو گئی ہے یا فاسد ہو گئی ہے ؟
جواب :

واضح رہےکہ محض معنی کی تبدیلی کی وجہ سے نماز فاسد نہیں ہوتی  ، ہاں اگر ایک لفظ  کےبجائے دوسرا لفظ پڑھنے سے کلمہ کا معنی اسطرح تبدیل ہوجائے کہ جس کے اعتقاد سے کفر لازم آتا  ہو یا ایک کلمے کو دوسرے ایسے کلمے سے بدل دیا جائے کہ وہ کلمہ قرآن مجید میں نہ ہو تو اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ، ورنہ نماز فاسد نہیں ہوتی ، لہذا صورت مسئولہ میں امام کا" لا اعبد ما تعبدون "کے بجائے "لا تعبد ما تعبدون " سے ایسا معنی تبدیل نہیں ہوتا جس کے اعتقادسے کفر لازم ہوتا ہو تو امام مذکور کی نماز درست ہوگئی  ہے ۔
كما في ردالمحتار علي الدرالمختار :
وَالْقَاعِدَةُ عِنْدَ الْمُتَقَدِّمِينَ أَنَّ مَا غَيَّرَ الْمَعْنَى تَغْيِيرًا يَكُونُ اعْتِقَادُهُ كُفْرًا يُفْسِدُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ، سَوَاءٌ كَانَ فِي الْقُرْآنِ أَوْ لَا إلَّا مَا كَانَ مِنْ تَبْدِيلِ الْجُمَلِ مَفْصُولًا بِوَقْفٍ تَامٍّ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ التَّغْيِيرُ كَذَلِكَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِثْلُهُ فِي الْقُرْآنِ وَالْمَعْنَى بَعِيدٌ مُتَغَيِّرٌ تَغَيُّرًا فَاحِشًا يُفْسِدُ أَيْضًا كَهَذَا الْغُبَارِ مَكَانَ هَذَا الْغُرَابِ.
(باب مايفسد الصلاةومايكره فيها،ج2،ص473،ط:مكتبة رحمانية)
وفي الهندية :
(ومنها) ذكر كلمة مكان كلمة على وجه البدل إن كانت الكلمة التي قرأها مكان كلمة يقرب معناها وهي في القرآن لا تفسد صلاته نحو إن قرأ مكان العليم الحكيم وإن لم تكن تلك الكلمة في القرآن لكن يقرب معناها عن أبي حنيفة ومحمد - رحمهما الله تعالى - لا تفسد وعن أبي يوسف - رحمه الله تعالى – تفسد
(ألفصل الخامس في زلة القاري،ج1،ص156،ط:مكتبة رشيدية)
وفي المحيط البرهاني :
الأول: أن تخرج الكلمة بحرف البدل من ألفاظ القرآن، ومعناه أن هذه الكلمة مع حرف البدل توجد في القرآن نحو أن تقرأ تألمون مكان تعلمون أو ما أشبه ذلك، وفي هذا الوجه لا تفسد صلاته ويُجعل كأنّه ابتدأ من هذه الكلمة.
(نوع آخر في زلة القاري،ج2،ص61،ط:أدارة القرآن والعلوم الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب