نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ جس چیز کی تہہ جمتی ہو اور وہ جسم تک پانی پہنچنے سے مانع ہوتو اس کے اعضاء وضو پر ہوتے ہوئے وضو درست نہیں ہوگا ، لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ انیمل پینٹ کی تہہ جمتی ہے اور جسم تک پانی پہنچنے سے مانع رہتا ہے اس لئے پینٹ کا ہاتھوں پر ہوتے ہوئے وضو درست نہیں ہوگا ، جب وضو درست نہیں ٹھہرا تو ایسے وضو پر نماز کیونکر درست ہو سکتی ہے ، اور اگر جسم پر ڈسٹمبر لگ جائے تو اس کا ہاتھ سے اتارنا ضروری نہیں ہے ؛ کیونکہ ڈسٹمبر جسم تک پانی پہنچنے سے مانع نہیں ہوتا ، لہذا اس کے ہوتے ہوئے وضو درست رہے گا ۔
كما في الدر المختار :
(قَوْلُهُ: إنْ صُلْبًا) بِضَمِّ الصَّادِ الْمُهْمَلَةِ وَسُكُونِ اللَّامِ وَهُوَ الشَّدِيدُ حِلْيَةٌ: أَيْ إنْ كَانَ مَمْضُوغًا مَضْغًا مُتَأَكِّدًا، بِحَيْثُ تَدَاخَلَتْ أَجْزَاؤُهُ وَصَارَ لَهُ لُزُوجَةٌ وَعِلَاكَةٌ كَالْعَجِينِ شَرْحُ الْمُنْيَةِ.(قَوْلُهُ: وَهُوَ الْأَصَحُّ) صَرَّحَ بِهِ فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ وَقَالَ لِامْتِنَاعِ نُفُوذِ الْمَاءِ مَعَ عَدَمِ الضرورة والخرج
( كتاب الطهارة ، باب الغسل ، ج 1 ، ص 154 ، ط: ايچ۔ايم سعيد)
وفي الهنديه :
والطين في الظفر لا يمنع والصرام والصباغ ما في ظفرهما يمنع تمام الاغتسال وقيل كل ذلك يجزيهم للحرج والضرورة، ومواضع الضرورة مستثناة عن قواعد الشرع. كذا في الظهيرية.
وإن كان على ظاهر بدنه جلد سمك أو خبز ممضوغ قد جف فاغتسل ولم يصل الماء إلى ما تحته لا يجوز
( كتاب الطهارة ، الباب الثاني في الغسل ، ج 1 ، ص 25 ،ط: رشيديه )
وفي التاتارخانيه :
واذا كان علي ظاهر بدنه جلد سمك او خبز ممضوغ قد جف علي بدنه وباقي المسئلة بحالها ، وفي الزخيرة : فاغتسل من الجنابة ولم يصل الماء الي ما تحته لا يجوز ۔
( كتاب الطهارة ، فصل في الغسل ، ج 1 ، ص 277 ، ط: مكتبه اعزازيه پشاور)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔