سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-137 Fatwa no: 1447-137

ہسپتال میں ملی ہوئی لقطہ کی چیز کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں: کہ ایک آدمی کو ہسپتال میں 5000روپے زمین پر پڑے ہوئے مل جاتے ہیں ، اب وہ کس طرح اس کی تشہیر کرے گا، حالانکہ ہسپتال میں ایک دن میں کئی لوگ آتے جاتے ہیں ، اگر کوئی اس کا مالک نہیں ملتا ،تو ان پیسوں کا کیا حکم ہے ، کیا اس کو اپنی ضروریات میں استعمال کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟۔
جواب :

 صورت مسئولہ میں مذکور آدمی کے لیے ان پیسوں کی تشہیر ضروری ہے، اس کی صورت یہ  ہے کہ وہ زبانی  اعلان کر لے  یا کوئی کاعذ وغیرہ پر لکھ کر اس کو ہسپتال میں لگا دے، اور اس رقم کو اپنے پاس محفوظ رکھے، جب اس کو یہ غالب گمان ہو جائے کہ اب   مالک نے اس کی تلاش کو ترک  کر دیا ہے ، تو اس کے بعد اگر وہ خود فقیر ہے تو اس کو اپنی ضروریات میں بھی ا ستعمال کر سکتا ہے، اگر وہ مالدار ہے ، تو اس صورت میں  مالک کی طرف سے اس  کو صدقہ کر  دے.لیکن اگر اس کے بعد اس کا مالک مل جائے اوروہ اس رقم کا مطالبہ کرے   تو اس صورت میں اس کو واپس کر نا ضروری ہو گا۔
كما فى الفتاوى الهندية:
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء كذا في خزانة المفتين ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط.(الفتاوى الهندية:2/289،كتاب اللقطة، ط رشيدية).
وفي ملتقى الأبحر:
ويكفي في الإشهاد قوله من سمعتموه ينشد لقطة فدلوه عليَّ ويعرفها في مكان أخذها وفي المجامع مدة يغلب على ظنه طلب صاحبها بعدها هو الصحيح.(ملتقى الأبحر:1/525،كتاب اللقطة).
وفى البحر الرائق:
قوله ( وينتفع بها لو فقيرا وإلا تصدق على أجنبي ولأبويه وزوجته وولده لو فقيرا ) أي ينتفع الملتقط باللقطة بأن يتملكها بشرط كونه فقيرا نظرا من الجانبين كما جاز الدفع إلى فقير آخر وأما الغني فلا يجوز له الانتفاع بها.(البحرالرائق:2/264،كتاب اللقطة، ط رشيدية).

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب