نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیں صورت مسئولہ میں مذکور آدمی کے لیے ان پیسوں کی تشہیر ضروری ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ وہ زبانی اعلان کر لے یا کوئی کاعذ وغیرہ پر لکھ کر اس کو ہسپتال میں لگا دے، اور اس رقم کو اپنے پاس محفوظ رکھے، جب اس کو یہ غالب گمان ہو جائے کہ اب مالک نے اس کی تلاش کو ترک کر دیا ہے ، تو اس کے بعد اگر وہ خود فقیر ہے تو اس کو اپنی ضروریات میں بھی ا ستعمال کر سکتا ہے، اگر وہ مالدار ہے ، تو اس صورت میں مالک کی طرف سے اس کو صدقہ کر دے.لیکن اگر اس کے بعد اس کا مالک مل جائے اوروہ اس رقم کا مطالبہ کرے تو اس صورت میں اس کو واپس کر نا ضروری ہو گا۔
كما فى الفتاوى الهندية:
ويعرف الملتقط اللقطة في الأسواق والشوارع مدة يغلب على ظنه أن صاحبها لا يطلبها بعد ذلك هو الصحيح كذا في مجمع البحرين ولقطة الحل والحرم سواء كذا في خزانة المفتين ثم بعد تعريف المدة المذكورة الملتقط مخير بين أن يحفظها حسبة وبين أن يتصدق بها فإن جاء صاحبها فأمضى الصدقة يكون له ثوابها وإن لم يمضها ضمن الملتقط.(الفتاوى الهندية:2/289،كتاب اللقطة، ط رشيدية).
وفي ملتقى الأبحر:
ويكفي في الإشهاد قوله من سمعتموه ينشد لقطة فدلوه عليَّ ويعرفها في مكان أخذها وفي المجامع مدة يغلب على ظنه طلب صاحبها بعدها هو الصحيح.(ملتقى الأبحر:1/525،كتاب اللقطة).
وفى البحر الرائق:
قوله ( وينتفع بها لو فقيرا وإلا تصدق على أجنبي ولأبويه وزوجته وولده لو فقيرا ) أي ينتفع الملتقط باللقطة بأن يتملكها بشرط كونه فقيرا نظرا من الجانبين كما جاز الدفع إلى فقير آخر وأما الغني فلا يجوز له الانتفاع بها.(البحرالرائق:2/264،كتاب اللقطة، ط رشيدية).
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔