نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
2000ء یا 2002ء میں صحیح یاد نہیں ہے میری بڑی ہمشیرہ جو کہ بیوہ ہیں ،جن کا میاں اور میرے بڑے بھائی سعودی عرب میں ایک روڈ ایکسیڈنٹ میں وفات پاگئے تھے ،انہوں نے اپنا زیور جو بقول ان کے 7 یا 8 تولے تھا میرے پاس امانت رکھوایا تھا ، تین، چار سال تو وہ میرے پاس محفوظ رہا ، اور ستمبر 2005ء میں میرے سالے کی اسلام آباد میں شادی تھی، سب گھر والے شادی میں گئے ہوئے تھے، اور آخری روز ولیمہ کھانے کےبعد رات کو میں اور بچے واپس گھر آگئے، چونکہ اگلے دن بچوں نے سکول وکالج جانا تھا اور میں نے اپنے آفس سروے آف پاکستان جانا تھا، بیوی نے کہا کہ میں کل آجاؤں گی ، اس طرح وہ رات کو اپنے والدین کے گھر چلی گئیں بچے سکول وکالج چلے گئے اور میں سروے آف پاکستان اپنی ڈیوٹی پر چلا گیا، میں ڈیوٹی پر تھا کہ چونکہ میرا چھوٹا بھائی میرے پڑوس میں رہتا ہےاس کی بیوی نے 11، 12 بجے کے درمیان فون کیا کہ بھائی آپ کہاں ہیں ، میں نے انہیں بتا یا کہ میں آفس میں ہوں، انہوں نے پوچھا کہ گھر میں کون ہے، تو میں نے بتایا کوئی بھی نہیں ہے، بچے تو سکول اور کالج گئے ہوئے ہیں، تو انہوں نے بتایا کہ آپ فورا گھر آئیں آپکے گھر سے چوری ہوگئی ہے، میں فورا گھر آیا تو گھر کے باہر لوگ جمع تھے ، جب میں گھر میں داخل ہوا تو ہر چیز الٹی پڑی ہوئی تھی، میں نے اسلام آباد سے بیوی کو بلوایا، تو وہ آکر انہوں نے بتایا کہ سب کچھ لٹ چکا ہے نقدی، اور زیورات وغیرہ بھی ،البتہ ہمشیرہ کے سیونگ سرٹیفکیٹ جو باہر پڑے ہوئے تھے وہ موجود تھے، اوپر کرایہ دار طارق نامی بندہ بمعہ فیملی رہتا تھا،وہ رات کو نوائے وقت اخبار میں ڈیوٹی کرکے آیا تھا سو رہا تھا، بقول اس کے دو آدمی اوپر آئے اور انہوں نے ڈرائنگ روم کا دروازہ توڑا اور گن پوائنٹ پر مجھ سے میری بیوی کی انگوٹھیاں اور پیسے بھی لے گئے ،محلے کے بچوں نے بتایا کہ میرے گھر کے کچھ فاصلے پر ایک موٹر سائیکل ہنڈا 125 سی سی جس میں جابی لگی تھی وہ کھڑا تھا، اس طرح سے یہ ڈکیتی کی واردات ہوئی جس پر پوری گلی کے لوگ گواہ ہیں،جناب محترم مفتی صاحب میں بحیثیت ایک مسلمان کے اللہ رب العزت کی قسم کھاتا ہوں حلف اٹھاتا ہوں ایک بار نہیں ہزار بار حلف اٹھانے کو تیارہوں کہ میں نے اپنی بہن کی امانت میں کوئی خیانت نہیں کی ، نہ میں نے چوری کی ہے اور نہ میں اور نہ میرے بچے کسی طرح سے اس میں ملوث ہیں۔ جناب اس سے قبل سعودی عرب سے ان کے شوہر اور ا پنے بڑے بھائی کی دیت کی رقم لاکر ان کے حوالے کی ہیں میں ان کی ایک پائی کا بھی روا دار نہیں ہوں، اس کیس کی باقاعدہ صادق آباد تھانے میں f. i. r درج کروائی لیکن کوئی مثبت پیش رفت نہیں ہوئی ۔ اب چونکہ میری بیوہ بہن کے بچے جوان ہوگئے اور وہ تقاضہ کرتے ہیں کہ ہماری امانت واپس لوٹاؤ، جناب آپ سے درخواست ہے کہ میری رہنمائی فرمائیں جبکہ امانت انہوں نے خود لاکر رکھی تھی میں نے نہیں رکھوائی تھی، اور نہ ہی کسی بھی طرح گھر کے کسی فرد خصوصا میری بیوی نے استعمال کی تھی۔
بصورت مسؤلہ اگر واقعہ اسی طرح ہے جس طرح سوال میں بیان کیا گیا اور اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہیں لیا گیا تو مذکورہ زیورات آپ کے پاس بطور امانت رکھے گئے تھے، اگر واقعتا وہ آپ سے بغیر کسی بے احتیاطی کے چوری ہوگئے تو مذکورہ زیورات کا ضمان آپ پر لازم نہیں ہے، البتہ اگر آپ کے بھانجے آپ سے اس پر حلف لینا چاہیں تو ان کو اس کا حق حاصل ہے۔
كما في الهندية:
سوقي قام من الحانوت للصلاة وفي الحانوت ودائع فضاعت الوديعة لا يضمن صاحب الحانوت؛ لأنه حافظ بجيرانه فلم يكن مضيعا ولم يكن هذا منه إيداعا للوديعة بل هو حافظ بنفسه في حانوته وحانوته محرز، كذا في فتاوى قاضي خان.
(كتاب الوديعة، الباب الثاني في حفظ الوديعة بيد الغير، ج:4، ص:340، ط:دارالفكر)
وفي تبيين الحقائق:
ألا ترى أنه لو قال أمسكها بيدك ولا تضعها ليلا ولا نهارا فوضعها في بيته فهلكت لم يضمنها.
(كتاب الوديعة، ج:5، ص:81، ط:دارالكتاب الإسلامي)
وفي الدر المختار:
والمعتبر في ضمان المودع التقصير في الحفظ.
(كتاب الإيداع، ج:5، ص:673، ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
إذا سرقت الوديعة من دار المودع و باب الدار مفتوح والمودع غائب عن الدار، قال محمد بن سلمة رحمه الله تعالى كان ضامنا.
(كتاب الوديعة، الباب الرابع، ج:4، ص:344، ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
أودعه ألف درهم وأقرضه ألفا فأعطاه المودع ألفا ثم اختلفا، فقال المودع: هذا قرضك
وقد ضاعت الوديعة، صدق مع يمينه، كذا في محيط السرخسي.
(كتاب الوديعة، الباب التاسع، ج:4، ص:357، ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
إذا اختلفا، فقال المودع: هلكت، أو قال: رددتها إليك، وقال المالك: بل استهلكتها، فالقول قول المودع، وكذلك إذا قال المودع: استهلكت من غير إذني، وقال المالك: بل استهلكتها أنت أو غيرك بأمرك، كان القول قول المودع، كذا في البدائع.
(كتاب الوديعة، الباب التاسع، ج:4، ص:357، ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔