نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
ایک عورت کی شادی کسی ایسے شخص سے ہوئی ہے کہ جو پہلے ایک بیوی کو طلاق دے چکاہےجس سے اس کے دو بچے ہیں، اب یہ عورت، اور اسکاشوہر اور شوہر کا ایک بیٹا جو پہلی بیوی سے ہے ایک گھر میں رہتے ہیں، جو اس عورت نے اپنی جاب کے ذریعے پیسے کما کر 5مرلےجگہ خریدی اور اس کے بعد اس پر مکان بنایاجس میں اب وہ رہ رہے ہیں، اور مذکورہ عورت کی اپنے اس شوہر سے ایک بیٹی ہے۔اب مسئلہ یہ ہے کہ اس عورت کے شوہرزیادہ تر دھیان اپنی پہلی بیوی کے بچوں کی طرف رکھتا ہے، اور اس کی ملکیت میں جو زمین ہے وہ اپنی پہلی بیوی کے بچوں کے نام کراناچاہتاہے، اور شاید اب تک ان کے نام کی ہو۔مذکورہ عورت جواس شخص کی دوسری بیوی ہے چاہتی ہےکہ جو گھرمیں نے بنایا ہے وہ میری بیٹی کی ملکیت ہی میں رہے اور اس میں کسی کے ساتھ زیادتی بھی نہ ہو، اس لئے کہ اگر یہ میری بیٹی کے ملکیت میں نہ رہے اور میراث میں تقسیم ہوجائے تو لازمی بات ہے کہ شوہر کی وراثت میں کل کو اسکی پہلی بیوی کے بچے بھی شریک ہونگے اور انکے باقی رشتہ دار بھی آئیں گے، لہٰذا اگر کوئی ایسی صورت ہو کہ جس سے مذکورہ عورت گناہگار بھی نہ ہو اور یہ گھر بھی اس کی بیٹی کی ملکیت میں رہےتو ضرور رہنمائی فرمائیں۔
بصورت مسؤلہ مذکورہ پانچ مرلہ گھر چونکہ آپ کی ملکیت ہے اور شریعت نے انسان کو زندگی میں اپنی ملکیت میں جائز تصرفات کا حق دیا ہوا ہے، اس لئے اگر واقعتا آپ کے شوہر نے آپ کی بیٹی کو اپنی جائیداد سے محروم کرنے کی غرض سے اپنی ساری جائیداد اپنی پہلی بیوی کے بیٹوں کے نام کردی ہےاور آپ کی بیٹی کے لئے کچھ نہیں چھوڑا، تو آپ زندگی میں بیٹی کو اپنے گھر کا مالک بنا سکتی ہیں، تاہم اگر شوہر نے اپنی جائیداد بیٹوں کے نام نہیں کی تو پھر محض شوہر کو محروم کرنے کی نیت سے بیٹی کو گھرہبہ کرکے مالک بنانا درست نہیں ہوگا۔
کما في رد المحتار:
وقال في الخانية ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن الإمام أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل له لزيادة فضل في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوّى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي الابن وقال محمد رحمه الله يعطى للذكر ضعف ما يعطى للأنثى والفتوى على قول أبي يوسف قوله ( كل المال للولد ) أي وقصد حرمان بقية الورثة كما يتفق ذلك فيمن ترك بنتا وخاف مشاركة العاصب قوله ( جاز ) أي صح لا ينقص وفي بعض المذاهب يرد عليه قصده ويجعل متروكه ميراثا لكل الورثة.
(كتاب الهبة، ج:8، ص:455، ط:دارالفكر)
وفي البحر الرائق:
(قَوْلُهُ فُرُوعٌ) يُكْرَهُ تَفْضِيلُ بَعْضِ الْأَوْلَادِ عَلَى الْبَعْضِ فِي الْهِبَةِ حَالَةَ الصِّحَّةِ إلَّا لِزِيَادَةِ فَضْلٍ لَهُ فِي الدِّينِ وَإِنْ وَهَبَ مَالَهُ كُلَّهُ الْوَاحِدَ جَازَ قَضَاءً وَهُوَ آثِمٌ كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَفِي فَتَاوَى قَاضِي خان رَجُلٌ أَمَرَ شَرِيكَهُ بِأَنْ يَدْفَعَ إلَى وَلَدِهِ مَالًا فَامْتَنَعَ الشَّرِيكُ عَنِ الْأَدَاءِ كَانَ لِلِابْنِ أَنْ يُخَاصِمَهُ إنْ لَمْ يَكُنْ عَلَى وَجْهِ الْهِبَةِ وَإِنْ كَانَ عَلَى وَجْهِهَا لَا لِأَنَّهُ فِي الْأَوَّلِ وَكِيلٌ عَنْ الْأَبِ وَفِي الثَّانِي لَا وَهِيَ غَيْرُ تَامَّةٍ لِعَدَمِ الْمِلْكِ لِعَدَمِ الْقَبْضِ وَفِي الْخُلَاصَةِ الْمُخْتَارُ التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى فِي الْهِبَةِ وَلَوْ كَانَ وَلَدُهُ فَاسِقًا فَأَرَادَ أَنْ يَصْرِفَ مَالَهُ إلَى وُجُوهِ الْخَيْرِ وَيَحْرِمَهُ عَنِ الْمِيرَاثِ هَذَا خَيْرٌ مِنْ تَرْكِهِ لِأَنَّ فِيهِ إعَانَةً عَلَى الْمَعْصِيَةِ وَلَوْ كَانَ وَلَدُهُ فَاسِقًا لَا يُعْطِي لَهُ أَكْثَرَ مِنْ قُوتِهِ.
(كتاب الهبة، ج:7، ص:288، ط:دار الكتاب الإسلامي)
وفي فتح الملهم:
فيه دليل على أن الأب ينبغي له أن يسوي بين أولاده في الهبة والعطايا. ثم اختلف العلمآء، هل يجب عليه ذلك أو يستحب؟ فقالت جماعة من الفقهآء:إن التسوية واجبة وهو قول طاؤس.........وقال آخرون :لايجب عليه ذلك، وإنما هو مستحب له وخلافه مكروه وهو قول أبي حنيفة، ومالك، والشافعي..........وقال أبو يوسف (رحمه الله تعالى) تجب التسوية إن قصد بالتفضيل الإضرار وإلا فهي مستحبة...........فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف (عفا الله عنه) أن الوالد إن وهب لأحد أبنائه هبة أكثر من غيره اتفاقا، أو بسبب علمه، أو عمله، أو بره بالوالدين من غير أن يقصد الوالد بذلك إضرار الآخرين ولا الجور عليهم كان جائزا على قول الجمهور وهو محمل آثار الشيخين ........... وأما إذا قصد الوالد الإضرار أو تفضيل أحد الأبناء على غيره بقصد التفضيل من غير داعية مجوزة لذلك، فإنه لايبيحه أحد.
(باب كراهة تفضيل بعض الأولاد في الهبة، ج:8، ص:62، ط:دار إحياء التراث العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔