سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-140 Fatwa no: 1447-140

وضو میں پٹی پر مسح کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: میں ایک مسجد میں امام ہوں میرے پاؤں میں ایک دانا نکل آیا ہے میں نے پٹی باندھی ، باقی پاؤں دھو لیتا ہوں جہاں پٹی باندھی ہے اس پر مسح کرتا ہوں آیا میں نماز پڑھا سکتا ہوں یا نہیں ،جو نمازیں میں نے اس حالت میں پڑھائی ہیں ان کا کیا حکم ہوگا ؟
جواب :

واضح رہے کہ اگر پٹی کھولنے میں کوئی دقت نہ ہو اور دانے کیلئے پانی نقصان دہ نہ ہوتو ایسی صورت میں پٹی کھول کر پورے پاؤں کو دھونا ضروری ہے ، لیکن اگر پانی نقصان دہ ہو اورپٹی کے بغیر پاؤں پر مسح کرنا ممکن ہو تو مسح کرنا ضروری ہوگا اور اگر مسح کرنا بھی ممکن نہ ہو یا پٹی بہت قیمتی ہو یا پٹی کھولنے اور باندھنے میں دقت ہو تو ایسی صورت میں پٹی پر مسح کرکے باقی پاؤں کو دھونا ضروری ہے ، اور اس صورت میں آپ کا امامت کرنا بھی جائز ہوگا اور اسی طرح آپ پاؤں  دھونے والے کا امام بھی بن سکتے ہیں ۔
كما في الهنديه :
ويجوز اقتداء الغاسل بماسح الخف وبالماسح على الجبيرة وكذا إمامة المفتصد لغيره من الأصحاء إذا كان يأمن خروج الدم والراكب على الدابة لمن كان معه على دابة والمومئ لمثله والعاري للعراة.
(كتاب الصلاة،فصل في بيان من يصلح إماما لغيره،ج1،ص178،ط:مكتبه رشيديه)
وفي البحرالرائق :
قوله: (وغاسل بماسح) لاستواء حالهما لأن الخف مانع سراية الحدث إلى اقدم وما حل بالخف يزيله المسح بخلاف المستحاضة لأن الحدث موجود حقيقة وإن جعل في حقها معدوما للضرورة. أطلق الماسح فشمل ماسح الخف وماسح الجبيرة وهو أولى بالجواز لأنه كالغسل لما تحته.
(كتاب الصلاة،باب الامامة،ج1،ص636،ط:المكتبة الوحيدية)
وفي المحيط البرهاني :
ويؤم الماسح الغاسل؛ لأنه صاحب بدل صحيح.والبدل الصحيح حكمه عند العجز عن الأصل حكم الأصل، بخلاف صاحب الجرح السائل، فإنه ليس بصاحب بدل صحيح،
(كتاب الصلاة،ألفصل السادس:من يصلح اماما لغيره ،ومن لايصلح اماما،ج2،ص185،ط:ادارة القرآن والعلوم الاسلاميه)

 

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب