سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-141 Fatwa no: 1447-141

وطن اصلی کے حدود سے باہر مسافر کی نماز کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص کے دو وطن اصلی ہیں جو کہ ایک دوسرے سے مسافت شرعی سے کم پر واقع ہیں ،اب وہ ایک وطن اصلی سےکسی جگہ سفر شرعی پر جاناچاہتا ہے،جس کا گزر اس کے دوسرے وطن اصلی کے قریب سے ہوتا ہے ،لیکن وہ اپنے دوسرے وطن اصلی کے قریب اس کے حدود سے باہر رات گزار کر پھر باقی سفر کرنا چاہتاہے ،تو پوچھنا یہ ہے کہ شخص مذکور اس دوسرے وطن اصلی کے حدود سے باہر پوری نماز پڑھے گا یا قصر کرے گا؟
جواب :

واضح رہے کہ سفر شرعی پر جانے والا شخص اس وقت تک مسافر  شمار ہوتا ہے جب تک کہ وہ  وطن اصلی میں داخل نہ ہوجائے یا کسی جگہ پندرہ دن یا اس سے زیادہ دن ٹھہرنے کی نیت نہ کرلے،لہذا صورت مسئولہ میں چونکہ شخص مذکور  اپنے وطن اصلی کے حدود سے باہر رات گزارنا چاہتا ہے ،اس لئے شخص مذکور پروہاں  قصر کرنالازم ہوگا ۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
(صلى الفرض الرباعي ركعتين) وجوبا لقول ابن عباس:"إن الله فرض على لسان نبيكم صلاة المقيم أربعا والمسافر ركعتين".... (حتى يدخل موضع مقامه) إن سار مدة السفر، وإلا فيتم بمجرد نية العود لعدم استحكام السفر (أو ينوي) ولو في الصلاة إذا لم يخرج وقتها ولم يك لاحقا (إقامة نصف شهر).... (بموضع) واحد (صالح لها).
(قوله حتى يدخل موضع مقامه) أي الذي فارق بيوته سواء دخله بنية الاجتياز أو دخله لقضاء حاجة لأن مصره متعين للإقامة فلا يحتاج إلى نية جوهرة، ودخل في موضع المقام ما ألحق به كالربض كما أفاده القهستان.
(باب صلاة المسافر،ج2،ص124،ط:دارالفكر)
وفى الفتاوى الهندية:
وكذا إذا عاد من سفره إلى مصره لم يتم حتى يدخل العمران .... ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة أو قرية خمسة عشر يوما أو أكثر، كذا في الهداية.
(الباب الخامس عشر في صلاة المسافر،ج1،ص139،ط:دارالفكر)
وفي بدائع الصنائع:
ثم الوطن الأصلي يجوز أن يكون واحدا أو أكثر من ذلك بأن كان له أهل ودار في بلدتين أو أكثر ولم يكن من نية أهله الخروج منها، وإن كان هو ينتقل من أهل إلى أهل في السنة، حتى أنه لو خرج مسافرا من بلدة فيها أهله ودخل في أي بلدة من البلاد التي فيها أهله فيصير مقيما من غير نية الإقامة.
(كتاب الصلاة،ج1،ص103،ط:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب