سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-142 Fatwa no: 1447-142

والد کا بیٹوں کے پیسوں سے خریدی ہوئی زمین میں سے کچھ زمین مدرسے کے لئے وقف کرنا

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: زید کے پانچ بیٹے ہیں ان پانچ بیٹوں نےبیرونِ ملک واندرونِ ملک سے پیسےکمائے،مختلف تناسب سے کسی نے کم اورکسی نےزیادہ،اورگھرکا سربراہ والدصاحب تھے،پھرمذکورہ پیسوں سےزمین خریدی اور زمین کا والد صاحب کے نام پر انتقال اورتصدیق ہوا،پھروالدصاحب نے مذکورہ زمین میں سے کچھ زمین مدرسےکےلئے وقف کی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ زیدیعنی والد صاحب کے لئے مذکورہ زمین میں سے مدرسہ کے لئے وقف کرنا صحیح ہے یا نہیں؟
جواب :

واضح رہے کہ وقف کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ موقوفہ چیز واقف کی ملکیت میں ہو ،بصورت مسئولہ چونکہ والد گھر کا سربراہ تھا اور زمین بھی اسی کے نام تھی تو یہ وقف تام ہوگیااگرچہ انہوں نےوہ زمین بیٹوں کےپیسوں سے خریدی ہو،کیونکہ مشترکہ گھرمیں سب کچھ والدکی ملکیت متصورہوتی ہےلہذا زیدکا اس زمین سے کچھ زمین مدرسے کے لئےوقف کرنا شرعا درست اور صحیح ہے۔
في الفقه الإسلامي وأدلته:
اتفق الفقهاء على اشتراط كون الموقوف مالاً متقوماً، معلوماً، مملوكاً للواقف ملكاً تاماً، أي لا خيار فيه.
(كتاب الوقف،ج:10،ص:7634،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
أن يكون الموقوف مملوكاً للواقف حين وقفه ملكاً تاماً: أي لا خيار فيه؛ لأن الوقف إسقاط مِلْك، فيجب كون الموقوف مملوكاً. فمن اشترى شيئاً بعقد بيع فيه خيار للبائع ثلاثة أيام، ثم وقفه في مدة الخيار، لم يصح الوقف؛ لأنه وقف مالا يملك ملكاً تاماً، لأن هذا البيع غير لازم.
(كتاب الوقف،ج:10،ص:7635،ط:دارالفكر)

وفي رد المحتار:
الْأَبُ وَابْنُهُ يَكْتَسِبَانِ فِي صَنْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا شَيْءٌ فَالْكَسْبُ كُلُّهُ لِلْأَبِ إنْ كَانَ الِابْنُ فِي عِيَالِهِ لِكَوْنِهِ مُعِينًا لَهُ أَلَا تَرَى لَوْ غَرَسَ شَجَرَةً تَكُونُ لِلْأَب.
(ج:4،ص:325،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
لَوْ اجْتَمَعَ إخْوَةٌ يَعْمَلُونَ فِي تَرِكَةِ أَبِيهِمْ وَنَمَا الْمَالُ فَهُوَ بَيْنَهُمْ سَوِيَّةً، وَلَوْ اخْتَلَفُوا فِي الْعَمَلِ وَالرَّأْي
(ج:4،ص:325،ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب.
(شركة الأعمال،ج:2،ص:329،ط:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 12 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب