نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ وقف کی صحت کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ موقوفہ چیز واقف کی ملکیت میں ہو ،بصورت مسئولہ چونکہ والد گھر کا سربراہ تھا اور زمین بھی اسی کے نام تھی تو یہ وقف تام ہوگیااگرچہ انہوں نےوہ زمین بیٹوں کےپیسوں سے خریدی ہو،کیونکہ مشترکہ گھرمیں سب کچھ والدکی ملکیت متصورہوتی ہےلہذا زیدکا اس زمین سے کچھ زمین مدرسے کے لئےوقف کرنا شرعا درست اور صحیح ہے۔
في الفقه الإسلامي وأدلته:
اتفق الفقهاء على اشتراط كون الموقوف مالاً متقوماً، معلوماً، مملوكاً للواقف ملكاً تاماً، أي لا خيار فيه.
(كتاب الوقف،ج:10،ص:7634،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
أن يكون الموقوف مملوكاً للواقف حين وقفه ملكاً تاماً: أي لا خيار فيه؛ لأن الوقف إسقاط مِلْك، فيجب كون الموقوف مملوكاً. فمن اشترى شيئاً بعقد بيع فيه خيار للبائع ثلاثة أيام، ثم وقفه في مدة الخيار، لم يصح الوقف؛ لأنه وقف مالا يملك ملكاً تاماً، لأن هذا البيع غير لازم.
(كتاب الوقف،ج:10،ص:7635،ط:دارالفكر)
وفي رد المحتار:
الْأَبُ وَابْنُهُ يَكْتَسِبَانِ فِي صَنْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا شَيْءٌ فَالْكَسْبُ كُلُّهُ لِلْأَبِ إنْ كَانَ الِابْنُ فِي عِيَالِهِ لِكَوْنِهِ مُعِينًا لَهُ أَلَا تَرَى لَوْ غَرَسَ شَجَرَةً تَكُونُ لِلْأَب.
(ج:4،ص:325،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
لَوْ اجْتَمَعَ إخْوَةٌ يَعْمَلُونَ فِي تَرِكَةِ أَبِيهِمْ وَنَمَا الْمَالُ فَهُوَ بَيْنَهُمْ سَوِيَّةً، وَلَوْ اخْتَلَفُوا فِي الْعَمَلِ وَالرَّأْي
(ج:4،ص:325،ط:دارالفكر)
وفي الهندية:
أب وابن يكتسبان في صنعة واحدة ولم يكن لهما مال فالكسب كله للأب إذا كان الابن في عيال الأب لكونه معينا له، ألا ترى أنه لو غرس شجرة تكون للأب.
(شركة الأعمال،ج:2،ص:329،ط:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 10 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔