نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںمیرے والد صاحب کی وفات کے بعد میراث میں میرے حصہ میں 14 کنال 2 مرلے زمین آئی ، وہ کاغذات میں ساری کی ساری میرے نام نہیں تھی ، بلکہ کچھ حصہ میرے نام اور باقی زمین میرے زیر قبضہ ہے جس میں سے 4 کنال 4 مرلے میں نے مسجد کے لیے وقف کر دی جس پر مسجد تعمیر ہے کچھ عرصہ بغیر پیمائش(روڈ کے قریب مشرق مغرب کی طرف )اندازا متعین کر کے 5 کنال مدرسہ کے لیے وقف کی اور بورڈ آویزاں کر دیا اور پھر متعین جگہ سے میں نے کچھ حصہ فروخت کر دیا اور مو صول شدہ آمدن تقریبا 15 لاکھ روپے مسجد کے کاموں پر خرچ کر دیے ، اسی زیر قبضہ زمین میں سے مدرسہ کے لیے دوسری جگہ سے 4 کنال18 مرلے وقف کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ،جو کہ کاغذوں میں میرے نام نہیں۔اس ضمن میں درج ذیل امور مطلوب ہیں۔
(1):جو رقبہ میں نے مدرسہ کے لیے وقف کیا تھا اس کا بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟(2):حاصل شدہ رقم کو مسجد کے کاموں پر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟(3): اگر وقف شدہ زمین کا بیچنا جائز نہیں تھاتو جو رقم میں نے مسجد کے کاموں پر خرچ کی اس کی واپسی کا کیا طریقہ ہے؟(4)کیا میرے زیر قبضہ زمین جو کاغذوں میں میرے نام پر نہیں ہے اس کو مدرسہ کے لیے وقف کرنا درست ہے یا نہیں؟
تنقیح:مسجد مدرسے کے احاطے میں نہیں بلکہ الگ جگہ پربنائی گئی ہے۔
تنقیح:مدرسے کے لیے وقف کرتے واقف نے اپنے لیے کوئی اختیا ر نہیں رکھا۔
تنقیح :مدرسے والی زمین کو بغیر کسی عذر کے بیچا گیا۔
تنقیح:مدرسے والی زمین کوبیچ کر حاصل شدہ رقم کو مسجد کی تعمیر پر لگایا گیا۔
بصورت مسؤلہ (1)واقف نے وقف کرتے وقت یہ شرط نہیں لگائی تھی کہ وہ وقف کو جب چاہے تبدیل کر سکتا ہے لہذا اس صورت میں اس کا مدرسہ کی زمین کو بیچنا جائز نہیں۔(2)اور(3) کا مشترکہ جواب یہ ہے جب اس زمین کو بیچنا جائز نہ تھا تو حاصل ہو نے والی رقم کو واپس مدرسے کے فنڈ میں لوٹانا واجب تھا جو کہ نہیں لو ٹائی گئی اور مسجد کی تعمیر پر لگا دی گئی لہذا وہ رقم جو مسجد کی تعمیر پر لگائی گئی ہے وہ آپ کی طرف سے عطیہ ہو گئی اس لیےآپ پر لازم ہے کہ یا تو مدرسہ کے لیےاس قدرزمین خریدیں جس قدر آپ نے فروخت کی یا فروخت شدہ زمین کی قیمت مدرسے کے فنڈ میں جمع کریں۔ (4)آپ کے زیر قبضہ زمین چونکہ آپ کو وراثت میں ملی ہے اور اس میں کو ئی دوسرا شریک نہیں لہذا آپ کا اس زمین کو وقف کرنا درست ہے اور کاغذات میں آپ کے نام ہونا ضروری نہیں۔ البتہ اگر کاغذات میں زمین کسی دوسرے شخص کے نام ہو تو اس صورت میں اس شخص سے اجازت لینا ضروری ہے ۔بصورت دیگر وقف جائز نہ ہو گا۔
الفتاوى الهندية:
(ومنها) الملك وقت الوقف حتى لو غصب أرضا فوقفها ثم اشتراها من مالكها ودفع الثمن إليه أو صالح على مال دفعه إليه لا تكون وقفا كذا في البحر الرائق رجل وقف أرضا لرجل آخر في بر سماه ثم ملك الأرض لم يجز وإن أجاز المالك جاز عندنا
(ج:2،ص:353،ط: دار الفكر)
رد المحتار:
وما كان من شرط معتبر في الوقف فليس للواقف تغييره ولا تخصيصه بعد تقرره ولا سيما بعد الحكم. اهـ. فقد ثبت أن الرجوع عن الشروط لا يصح إلا التولية ما لم
يشرط ذلك لنفسه فله تغيير المشروط مرة واحدة إلا أن ينص على أنه يفعل ذلك كلما بدا له وإلا إذا كانت المصلحة اقتضته.
(باب الوصي والوصية،ج:4،ص:460،ط: دار الفكر)
وفيه أيضا:
وقال في الإسعاف لو قال وقفت أرضي هذه على ولد زيد وذكر جماعة بأعيانهم لم يصح عند أبي يوسف أيضا لأن تعيين الموقوف عليه يمنع إرادة غير بخلاف ما إذا لم يعين لجعله إياه على الفقراء ألا ترى أنه فرق بين قوله موقوفة وبين قوله موقوفة على ولدي فصحح الأول دون الثاني لأن مطلق قوله موقوفة يصرف إلى الفقراء عرفا فإذا ذكر الولد صار مقيدا فلا يبقى العرف فظهر بهذا أن الخلاف بينهما في اشتراط ذكر التأبيد وعدمه إنما هو في التنصيص عليه أو على ما يقوم مقامه كالفقراء ونحوهم مطلب التأبيد معنى شرطه اتفاقا وأما التأبيد معنى فشرط اتفاقا على الصحيح'
(ج:4،ص:349،ط: دار الفكر)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق
الْوَقْفَ يَحْتَمِلُ الِانْتِقَالَ مِنْ أَرْضٍ إلَى أَرْضٍ أُخْرَى وَيَكُونُ الثَّانِي قَائِمًا مَقَامَ الْأُولَى فَإِنَّ أَرْضَ الْوَقْفِ إذَا غَصَبَهَا غَاصِبٌ وَأَجْرَى عَلَيْهَا الْمَاءَ حَتَّى صَارَتْ بَحْرًا لَا تَصْلُحُ لِلزِّرَاعَةِ يَضْمَنُ قِيمَتَهَا وَيَشْتَرِي بِقِيمَتِهَا أَرْضًا أُخْرَى فَتَكُونُ الثَّانِيَةُ وَقْفًا عَلَى وَجْهِ الْأُولَى وَكَذَلِكَ أَرْضُ الْوَقْفِ إذَا قَلَّ نُزُلُهَا لِآفَةٍ وَصَارَتْ بِحَيْثُ لَا تَصْلُحُ لِلزِّرَاعَةِ أَوْ لَا تَفْضُلُ غَلَّتُهَا عَنْ مُؤَنِهَا وَيَكُونُ صَلَاحُ الْوَقْفِ فِي الِاسْتِبْدَالِ بِأَرْضٍ أُخْرَى فَيَصِحُّ شَرْطُ وِلَايَةِ الِاسْتِبْدَالِ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْحَالِ ضَرُورَةٌ دَاعِيَةٌ إلَى الِاسْتِبْدَالِ.وَلَوْ شَرَطَ بَيْعَهَا بِمَا بَدَا لَهُ مِنْ الثَّمَنِ أَوْ أَنْ يَشْتَرِيَ بِثَمَنِهَا عَبْدًا أَوْ يَبِيعَهَا وَلَمْ يَزِدْ فَسَدَ الْوَقْفُ لِأَنَّهُ شَرَطَ وِلَايَةَ الْإِبْطَالِ بِخِلَافِ شَرْطِ الِاسْتِبْدَالِ لِأَنَّهُ نَقْلٌ وَتَحْوِيلٌ وَأَجْمَعُوا أَنَّهُ إذَا شَرَطَ الِاسْتِبْدَالَ لِنَفْسِهِ فِي أَصْلِ الْوَقْفِ أَنَّ الشَّرْطَ وَالْوَقْفَ صَحِيحَانِ وَيَمْلِكُ الِاسْتِبْدَالَ أَمَّا بِدُونِ الشَّرْطِ أَشَارَ فِي السِّيَرِ أَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الِاسْتِبْدَالَ إلَّا الْقَاضِي إذَا رَأَى الْمَصْلَحَةَ
(ج:5،ص:240،ط: دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔