نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ
ہمارے علاقے میں تقریباً 20 سے 25 سال سے جامع مسجد میں عیدین کی نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے، اور یہی معمول رائج ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ایک مولوی صاحب نے شہر کے اندر ایک میدان کو عیدگاہ قرار دے کر وہاں عید کی نماز کا اہتمام شروع کر دیا ہے، حالانکہ فقہاءِ کرام کے مطابق "عیدگاہ" کے لیے "خارجِ مصر" یعنی شہر یا آبادی سے باہر ہونا شرط ہے، جب کہ یہ میدان شہر کے اندر اور آبادی کے بیچ واقع ہے۔ اس لیے شرعی طور پر اس کو عیدگاہ کہنا محلِ نظر ہے۔
مولوی صاحب مختلف مساجد میں جا کر لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ مسجد میں عید کی نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے اور ان کے متعین کردہ مقام پر نماز پڑھی جائے۔ جب عوام کو یہ بتایا جاتا ہے کہ مسجد میں نماز پڑھنا ناجائز ہے، تو وہ اس سے یہ سمجھتے ہیں کہ شاید ان کی نماز ہوتی ہی نہیں، جس کی وجہ سے وہ گزشتہ کئی سالوں سے مسجد میں ادا کی گئی نمازِ عید کے بارے میں تشویش اور اضطراب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
مزید یہ کہ شہر کی آبادی بہت وسیع ہو چکی ہے، اور موجودہ دور میں شہر سے باہر جانا عوام کے لیے باعثِ زحمت اور مشکل ہے، اس لیے وہ مسجد یا شہر کے اندر کسی کھلی جگہ پر نماز ادا کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس پسِ منظر میں راہنمائی فرمائیں:
- کیا جامع مسجد میں عید کی نماز پڑھنا شرعاً مکروہ تحریمی اور ناجائز ہے؟
- اگر کسی نے گزشتہ سالوں میں جامع مسجد میں نمازِ عید پڑھی ہو تو کیا اس کی نماز درست ہوئی یا نہیں؟
- کیا شہر کے اندر واقع اس میدان کو شرعاً عیدگاہ کہنا صحیح ہے؟
- موجودہ دور اور حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے مسجد یا شہر کے اندر کسی مناسب مقام پر عید کی نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
- کیا لوگوں کو اس انداز سے ڈرانا اور بدگمان کرنا کہ مسجد میں نماز جائز نہیں، شرعاً مناسب طرزِ عمل ہے؟
ازراہِ کرم قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں تفصیلی رہنمائی فرما کر شکریہ کا موقع دیں۔
نماز عیدین کی ادائیگی کے حوالے سےرسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی عادت شریفہ یہ تھی کہ آبادی سے باہر جبانہ یعنی صحراء اور کھلے
میدان کی طرف نکل کروہاں نمازِ عید پڑھتے تھے اور آبادی سے باہر صحراء یا کھلے میدان کی طرف نکلنے کا اصل مقصد اسلام کی شوکت کا اظہار ہے لہذا آج بھی نماز عیدین کے حوالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی اتباع آبادی سے باہر کسی میدان یا صحراء میں واقع عیدگاہ میں نماز عید پڑھنے سے ہوگی نہ کہ مسجد یا آبادی کے اندر واقع عیدگاہ میں نماز عیدپڑھنے سے۔
بصورت مسؤلہ آپ کے سولات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ فرمائیں؛
(1)جامع مسجد میں نماز عید جائز ہے مگر سنت نہیں ہے البتہ اگر آبادی سے باہر عید گاہ ہو اور وہاں عید کی نماز پڑھنے میں کوئی عذر بھی نہ ہو تو اس صورت میں عید گاہ کوچھوڑ کر جامع مسجد میں نماز پڑھنا خلاف ِ سنت ہے۔
(2)گزشتہ سالوں میں جامع مسجد میں پڑھی گئی عید کی نمازیں درست ہیں ۔
(3)مذکورہ عید گاہ چونکہ شہر اور آبادی کے اندر ہے اوراس پر جبانہ یعنی صحراء کا اطلاق نہیں ہوتا اس لئے یہ مسنون عیدگاہ کے حکم میں نہیں اور اس میں اور ایک عام مسجد میں نمازِ عید ادا کرنے میں کوئی فرق نہیں اور اس عیدگاہ میں نمازِ عید ادا کرنے سے عید گاہ میں نمازِ عید پڑھنےکی سنت پوری نہیں ہوگی۔
(4)نماز عید ادا ہوجائے گی البتہ عید گاہ کی سنت سے محرومی رہے گی۔
(5)عیدگاہ کی سنت کو پانے کیلئے عوام کو عیدگاہ میں نمازِ عید ادا کرنے کی ترغیب دینا تو جائز بلکہ مستحسن ہے لیکن ان کو یہ بتانا کہ مسجد میں نمازِ عید ناجائز ہے اور ان کی گزشتہ سالوں کی نمازوں کے حوالے سے ان کوشکوک و شبہات میں ڈالنابالکل نامناسب اور غلط فعل ہے خاص کر سوال میں مذکورہ عیدگاہ میں عید پڑھنے پر لوگوں کو آمادہ کرنے کیلئے ان کو شکوک و شبہات میں ڈالنا کہ جو خود مسنون عیدگاہ کے حکم میں نہیں اورجس میں عید پڑھنے سے عید گاہ کی سنت ہی حاصل نہیں ہوتی نہایت ہی نامناسب فعل ہے اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
المبسوط للسرخسي:
عن أبي سعيد الخدري، قال: «كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى، فأول شيء يبدأ به الصلاة، ثم ينصرف، فيقوم مقابل الناس، والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم، ويوصيهم، ويأمرهم، فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه، أو يأمر بشيء أمر به، ثم ينصرف»
(أبواب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر، 2/ 17، دار طوق النجاة)
المبسوط للسرخسي:
ثم المصر كما يشترط لإقامة الجمعة يشترط لإقامة صلاة العيد وهو إنما يؤدى في الجبانة على
غلوة من المصر أو أكثر من ذلك .... الخ
(كتاب الصلاة ، باب الجمعة ، 2/ 121، دار المعرفة)
المحيط البرهاني في الفقه النعماني:
السنّة في صلاة العيد أن تقام خارج المصر بالجبانة، ولا يمكن للضعفاء الخروج إليها إلا بحرج عظيم، فجوزنا الإقامة في موضعين دفعاً للحرج.
(كتاب الصلاة ،الفصل السادس والعشرون، 2/ 101، دار الكتب العلمية)
البحر الرائق شرح كنز الدقائق:
وفي التجنيس والخروج إلى الجبانة سنة لصلاة العيد، وإن كان يسعهم المسجد الجامع عند عامة المشايخ هو الصحيح اهـ.
(كتاب الصلاة ، باب العيدين ، 2/ 171، دار الكتاب الإسلامي)
Mufti
تاریخ جواب: 12 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔