سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-145 Fatwa no: 1447-145

اپنی زوجیت سے خارج کرتا ہوں اور ایک طلاق دیتا ہوں سے طلاق كا حكم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہم میاں بیوی میں کسی بات پر اختلافات شروع ہوئے اور یہ اختلافات اس حد تک پہنچے کہ میں نے اس کو ایک طلاق رجعی دینے  کا فیصلہ کرلیا اور اسی نیت سے میں نے ایک طلاق نامہ لکھوایا  اور اس پر دستخط بھی کئےلیکن طلاق نامہ  لکھنے والے نے طلاق نامہ  میں یہ الفاظ تحریر کئے " میں بقائمی ہوش و حواس خمسہ اور بلا جبر و اکراء کے اپنی زوجہ مسماۃ یاسمین بی بی دختر محمد یاسین کو اپنی زوجیت سے خارج کر تا ہوں اور اسے ایک طلاق دیتا ہوں تاکہ اس دوران مسماۃ یاسمین بی بی کو وقت دیتا ہوں کہ اپنے معاملات و اخلاق درست کر لے اور میرے گھر کو اپنا گھر سمجھ کر میرے ساتھ زندگی بسر کرے بصورت دیگر میں طلاق ثلاثہ دینے کا اختیار رکھتا ہوں جو كہ میں ایسا کرنا پسند نہیں کرتا کیونکہ یہ ایک ناپسندیدہ اقدام ہے لیکن اگر اس نے اپنے معاملات درست نہ کئے تو میں مجبور ہوکر طلاق ثلاثہ دے دوں گا"۔طلاق نامہ سوال کے ساتھ لف ہے۔
چونکہ میرے ذہن میں تھا کہ اس سے ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے اس لئے ہم دوبارہ ساتھ رہنے لگے اور اسی طرح پانچ سال کا عرصہ  گزر گیا اور اس کے بعد مزید تین سال  بعد دوبارہ اختلاف کی وجہ سے میں سے اس کو دوسری طلاق ان الفاظ سے دی کہ "تم مجھ پر حرام ہو" اور میں نے اس کو سسرال بھیجا اور سسرال والوں کو یہ بتایا کہ اگر یہ دوبارہ آئی تو میری طرف سے اس کو تیسری طلاق ہے۔اب وہ چند دن پہلے واپس آئی تو میں نے ان سے کہا کہ میں نے شرط رکھی تھی کہ واپس نہیں آنا لیکن یہ واپس آگئی اس لئے تیسری طلاق بھی ہوگئی اور اب سب کچھ ختم ہوگیا لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ نہیں ہم نے پوچھا  ہے تین طلاقیں نہیں ہوئی اور ہم آپ لوگوں کا دوبارہ نکاح کروا لینگے اور اس میں حلالہ کی بھی ضرورت نہیں ہے تو کیا واقعی کیا درجہ بالا تفصیل کے مطابق میری بیوی کو تین طلاقیں نہیں ہوئی اور کیا اگر میں دوبارہ اس سے نکاح کرنا چاہوں تو یہ بغیر حلالہ ممکن ہے؟
تنقیح:طلاق نامہ لکھنے والے نے طلاق نامہ لکھنے کے بعد مجھے  دکھایا اور کہا کہ اس کو پڑھ کر اس پر دستخط کرو۔میں نے اس کو  پورا پڑھ کر دستخط کیا۔

جواب :

بصورت مسؤلہ مذکورہ طلاق نامہ کے الفاظ " اپنی زوجہ مسماۃ یاسمین بی بی دختر محمد یاسین کو اپنی زوجیت سے خارج کر تا ہوں اور اسے ایک طلاق دیتا ہوں " سے آپ کی بیوی  پر دو طلاق بائن واقع ہوچکی تھیں  اور اس کے بعد جب آپ کی بیوی  کی عدت پوری ہوگئی تو وہ آپ کی بیوی نہیں رہی اور آپ دونوں کا رشتہ ِازدواج مکمل طور پر ختم ہوچکا تھا  جس کی وجہ سے آپ کو اس عورت کو مزید طلاق دینے کا اختیار ختم ہوگیا اس لئے پانچ سال بعد  اور پھر مزید تین سال بعد جو آپ نےایک ایک  طلاق دی وہ دونوں طلاقیں لغو تھیں  اس لئے آپ دونوں کا رشتہ ِ ازدواج دو طلاق بائن سے ختم ہوچکا ہے،لہذا اگر دوبارہ ایک ساتھ اکٹھے رہنا چاہتے ہیں  تو اس  صورت میں حلالہ کی ضرورت نہیں البتہ نئے گواہوں اور نئے مہر کے ساتھ از سرِ نو نکاح کرنا پڑے گا اور آئندہ کیلئے آپ کو مذکورہ عورت پر صرف ایک طلاق  کا اختیار حاصل ہوگا اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں احتیاط سے کام لیں اورجہاں تک  بات ہے  آپ دونوں کا رشتہِ ازدوج ختم ہونے کے بعد بھی ایک ساتھ میاں بیوی کی حیثیت سے کافی سال اکٹھے رہنے کی تو  وہ اگرچہ لاعلمی میں تھا لیکن وہ مکمل عرصہ آپ دونوں حرام میں ملوث رہے ہیں اس لئے اس پر دونوں 
خوب توبہ و استغفار کریں اور اللہ کی بارگاہ میں رو رو  کر اپنے اس گناہ کی معافی مانگیں۔
في الهداية في شرح بداية المبتدي:
" وبقية الكنايات إذا نوى بها الطلاق كانت واحدة بائنة وإن نوى ثلاثا كانت بثلاث وإن نوى 
ثنتين كانت واحدة بائنة وهذا مثل قوله أنت بائن وبتة وبتلة وحرام وحبلك على غلوبك الحقي بأهلك وخلية وبرية ووهبتك لأهلك وسرحتك وفارقتك وأمرك بيدك واختاري وأنت حرة وتقنعي وتخمري واستتري واغربي واخرجي واذهبي وقومي وابتغي الأزواج " لأنها تحتمل الطلاق وغيره فلا بد من النية.
(كتاب الطلاق ، باب إيقاع الطلاق ،  1/235 ، دار احياء التراث العربي)
و في الفتاوى الهندية:
وإذا قال لها أبرأتك عن الزوجية يقع الطلاق من غير نية في حالة الغضب وغيره كذا في الذخيرة.
(كتاب الطلاق ، الباب الثاني في إيقاع الطلاق ، 1/376 ، دار الفكر)
و في الدر المختار:
(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (والبائن يلحق الصريح) الصريح ما لا يحتاج إلى نية بائنا كان الواقع به أو رجعيا فتح . . . . (لا) يلحق البائن (البائن) .
(كتاب الطلاق ، باب الكنايات، 3/308-306 ، دار الفكر)
و في بدائع الصنائع:
وأما إن كان أحدهما حرا، والآخر مملوكا فإن كانا حرين فالحكم الأصلي لما دون الثلاث من الواحدة البائنة، والثنتين البائنتين هو نقصان عدد الطلاق، وزوال الملك أيضا حتى لا يحل له وطؤها إلا بنكاح جديد ولا يصح ظهاره، وإيلاؤه ولا يجري اللعان بينهما ولا يجري التوارث ولا يحرم حرمة غليظة حتى يجوز له نكاحها من غير أن تتزوج بزوج آخر؛ لأن ما دون الثلاثة - وإن كان بائنا - فإنه يوجب زوال الملك لا زوال حل المحلية.
(كتاب الطلاق ،فصل في شرائط رجوع المبتوتة لزوجها، 3/187 ،  دار الكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب