سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-146 Fatwa no: 1447-146

اپنی غلطی کی وجہ سے کار ایکسیڈنٹ میں مرنے کی صورت میں دیت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے ہاں شادی تھی ایک آدمی ٹریکٹر کی ٹرالی میں تمام خواتین  کو لے جارہا تھا ،ٹریکٹر روانہ تھی اور چونکہ خوشی کا موقع تھا اس لئے خوشی کے مارے  اچانک سے اسی ٹریکٹر چلانے والے کی اپنی بیٹی روانہ ٹریکٹر میں چڑھنے لگی،اس نے ٹریکٹر میں چڑھنے کے لئے ٹریکٹر کے ٹائر پر پاؤں رکھا لیکن  بجائے چڑھنے کے وہ نیچے گر گئی اور ٹائر کے نیچے آگئی۔ٹریکٹر کا ٹائر اس کے اوپر آگیا اور یہ سب کچھ اس قدر اچانک ہوا  کہ اس کے والد کو پتہ ہی نہیں چلا۔اس کو پتہ تب چلا جب  وہ ٹائر اس پر چڑھ گیا اور پھر فوراً ہی اس کے والد نے ٹریکٹر روک دی۔یہ سارا منظر دیکھتے ہی اس لڑکی کے دادا نے غصہ میں آکر اپنی اس پوتی (جو لڑکی ٹائر کے نیچے آگئی تھی)کو اس کی اس حرکت پر دو مکھے بھی مارے لیکن اس وقت وہ شاید ہوش میں نہیں تھی  اور تھوڑی دیر بعد پھر اس کا انتقال ہوگیا،اب اس سارے مسئلہ کی وجہ سے اس لڑکی کے والد پر کوئی کفارہ یا دیت آئے گی یا نہیں ؟اگر آئے گی تو اس کا کیا طریقہ ہوگا یعنی کیسے ادا کی جائے گی ؟
جو لڑکی ٹائر کی نیچے آکر مرگئی اس کی شادی ہوئے تقریبا ایک سال ہوچکا تھا۔

جواب :

بصورت مسؤلہ لڑکی کا ٹائر کے نیچے آنے میں  گاڑی چلانے والے باپ کی کوئی غلطی نہیں تھی ،   لڑکی خود اپنی غلطی اور نادانی کی وجہ سے ٹائر کے نیچے آکر مرگئی  اس لئے مذکورہ صورت میں باپ پر نہ کوئی دیت لازم ہوگی اور نہ کفارہ۔
في الدر المختار:
(و) الخامس (قتل بسبب كحافر البئر وواضع حجر في غير ملكه). . . . . الخ
و تحته في الشامية:
(قوله في غير ملكه) قيد للحفر والوضع درر، فلو في ملكه فلا تعدي فلا دية ولا كفارة. . . ..الخ
 (كتاب الجنايات،6/ 531 ، دار الفكر) 
و في بحوث في قضايا فقهية معاصرة:
اما اذا لم يكن متعديا في السير، بان ساق سيارته ملتزما بجميع قواعد المرور، فهل يضمن الضرر الذي اصاب رجل آخر بسيارته في هذه الحالة؟ قد اختلف فيها انظار العلماء في عصرنا، فمنهم من يقول:انه يضمن لكونه مباشرا ، والمباشر ... والذي يظهر لي في ضوء القواعد والجزئيات الفقهية التي ذكرتها فيما قبل -والله سبحانه وتعالى اعلم- ان السائق يضمن الضرر الذي باشره وان لم يكن متعديا لانه قد تقرر باجماع الفقهاء ان المباشر لا يشترط لتضمينه ان يكون متعديا ولكن يجب ان تتحقق منه مباشرة الضرر على الوجه الذي ذكرناه من تفسير القاعدة الثانية، فيجب لتضمينه ان تصح نسبة المباشرة اليه دون مزاحم على وجه معقول، وعلى هذا الاساس لا يضمن في صور الآتية: ...............
٤- اذا ساق انسان سيارة في شارع عام ملتزما السرعة المقررة، ومتّبعا خطّ السير حسب النظام ومتبصّرا في سوقه حسب قواعد المرور، فقفز رجل امامه فجاة فصدمته السيارة رغم قيام السائق بما وجب عليه من الفرملة ونحوها، فان اللجنة الدائمة للبحوث والافتاء فی المملكة العربية السعودية ابدت في هذه الصورة احتمالات مختلفة ولم تبت فيها بشيء و نص قرارها في هذه الصورة كما يلي :.... والذي يظهر لي في هذه الصورة -والله سبحانه اعلم- ان الرجل الذي قفز امام السیارة ان قفز بقرب منها بحيث لا يمكن للسيارة في سيرها المعتاد في مثل ذلك المكان ان تتوقف بالفرملة وكان قفزه فجاة لا يتوقع مسبقا لدى سائق متبصر محتاط فان هلاكه او ضرره في مثل هذه الصورة لا ينسب الى سائق السيارة، ولا يقال: انه باشر الاتلاف فلا يضمن السائق، ويصير القافز مسببا لهلاك نفسه.و ذالك لوجوه .... الخ
 (البحث العاشر ،1 / 316-312 ، معارف القرآن كراتشي)

 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب