سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-147 Fatwa no: 1447-147

اجرت مجہول ہونے کی صورت میں اجارہ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 
میرا ایک قریبی جاننے والا ہے جو کاروبار کرتا ہے،اس کی اپنی ایک دکان ہے  جس کو وہ خود چلاتا ہے،میں اس کے ساتھ  دکان میں کام کرنا چاہتا ہوں ۔اس نے مجھے یہ پیشکش کی ہے کہ تم میرے ساتھ دکان میں کام کیا کرو دکان سے جتنا منافع ہوگا اس میں سے 40 فیصد نفع تمہارا ہوگا اور 60 فیصد میرا ہوگا۔آیا اس طرح کا معاملہ کرنا جائز  ہے؟  اس کے علاوہ میری اس سے اس بارے میں بھی بات ہوئی ہے کہ  وہ مجھے اپنے ساتھ اس دکان(یعنی دکان میں جو مال پڑا ہے) میں آدھے کا شریک بنادے  اور اس صورت میں نفع بھی ہمارے درمیان آدھا آدھا تقسیم ہوگا لیکن چونکہ میرے پاس ابھی نقد پیسہ نہیں ہے تو میں نے اس سے یہ کہا ہے کہ  اس آدھے دکان کی قیمت  میں آہستہ آہستہ ادا کرتا رہوں گا اور یوں ماہانہ جتنا نفع میرے حصے میں  آتا جائے گا اس سے میں کچھ رقم بچا بچا کر اس دکاندار کو اپنے آدھے حصے کی ادائیگی کردوں گا۔اب آپ حضرات سے اس بارے میں رہنمائی درکار ہے کہ آیا مذکورہ معاملہ یعنی  شراکت کا اس ترتیب سے کرنا درست ہے یا نہیں؟

جواب :

پہلی صورت جو آپ نے ذکر کی ہے کہ آپ مذکورہ شخص کے ساتھ دکان میں کام کریں گے یہ عقد اجارہ ہے اور عقد اجارہ میں اجیر(ملازم )کا کاروبار کے نفع اور نقصان کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہوتا چاہے کاروبار میں نفع ہو یا نقصان ، اجیر   صرف متعین اجرت کا مستحق ہوتا ہے بصورت دیگر اجارہ فاسد ہوتا ہے جس کا ختم کرنا واجب ہوتا ہے اور دوسری صورت جو آپ نے ذکر کی ہے وہ شرکت  ہے۔
بصورت مسؤلہ پہلی صورت جائز نہیں کیونکہ اس میں آپ کیلئے اجرت جس کے آپ مستحق ہیں اس کا تعین نہیں کیا گیا اور جو 40 فیصد نفع آپ کے لئے طے کیا گیا ہے اس کے آپ مستحق ہی نہیں ،تاہم اس کے جواز کی صورت یہ ہے کہ 40 فیصد نفع  کو ختم کر کے آپ کیلئے اجرت کی ایک خاص مقدار متعین کی جائے جبکہ دوسری صورت میں اگر وہ واقعی آپ کو مذکورہ ترتیب کے مطابق اپنے کاروبار میں شریک کرنے پر راضی ہے تو یہ جائز ہےبشرطیکہ شرکت کے دیگر اصول کا بھی خیال رکھا جائے ۔

في الدر المختار وحاشية ابن عابدين:
كتاب الإجارة .... (هي) لغة: اسم للأجرة وهو ما يستحق على عمل الخير ولذا يدعى به، يقال أعظم الله أجرك. وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض)....الخ
(كتاب الاجارة ، 6/ 3 ، دار الفكر)
و في الفتاوى الهندية:
الفساد قد يكون لجهالة قدر العمل بأن لا يعين محل العمل وقد يكون لجهالة قدر المنفعة بأن لا يبين المدة وقد يكون لجهالة البدل وقد يكون بشرط فاسد مخالف لمقتضى العقد فالفاسد يجب فيه أجر المثل ولا يزاد على المسمى إن سمى في العقد مالا معلوما، وإن لم يسم يجب أجر المثل بالغا ما بلغ....الخ
(كتاب الاجارة ، الفصل الأول فيما يفسد العقد فيه ، 4/ 439، دار الفكر)
و في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر:
هي عبارة عن عقد بين المتشاركين في الأصل والربح وشرعيتها بالسنة فإن النبي - عليه الصلاة والسلام- بعث والناس يباشرونها فقررهم عليها بإجماع الأمة والمعقول وهي أي الشركة طريق ابتغاء الفضل وهو مشروع بالكتاب وركنها في شركة العين اختلاطهما. .... الخ
(كتاب الشركة ، 1/ 714،  دار إحياء التراث العربي) 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب