سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-148 Fatwa no: 1447-148

استبدالِ وقف اور وقف كو غصب كرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے علاقے میں ایک مسجد تھی اور سارے نمازی اسی مسجد میں نماز پڑھتے تھے۔پھر علاقے ہی کے ایک آدمی کی زمین تھی اور آج سے کچھ سال قبل اس نے کہا کہ میں اپنی زمین میں سے ایک کنال اور پانچ مرلے مسجد کیلئے قف کرتا ہوں  لیکن جگہ کی نشاندہی  نہیں کی تھی کہ اپنی زمین میں سے کونسی ایک کنال پانچ مرلے اور ایک بندے کو مقرر کر کے کہا کہ آپ پھر اس میں مسجد بنالے۔پھر چند سال ایسے ہی گزرے اور ابھی پچھلے سال ان صاحب نے اپنی زمین میں سے ایک کنال پانچ مرلے کی نشاندہی کر کے کہا کہ یہ جگہ ہے جو وقف ہے لیکن جب پہلے انہوں نے وقف کا کہا تھا اس وقت تو ایک ہی مسجد تھی علاقہ میں لیکن چونکہ ان کی جگہ پر مسجد بننے میں کافی عرصہ تاخیر ہوئی اس لئے اس دوران   ہمارے علاقے میں دو مسجدیں اور  بھی  بن گئیں ۔اب ہمارے علاقے کی موجوده آبادي كے مطابق  یہ تین  مسجدیں  کافی شافی ہیں اور  چوتھی  مسجد کی کوئی ضرورت نہیں ہےاور آئندہ بھی ضرورت نہیں پڑے گی ۔اب ہمارے علاقہ کے قریب کچھ سوسائٹیاں بن رہی ہیں اور سوسائٹی میں لوگ مسجد کیلئے زمین بغیر قیمت کے تو دیتے نہیں تو ہم نے مشورہ کیا کہ چونکہ ہمارے علاقہ میں مزید کسی مسجد کی ضرورت نہیں اس لئے کیوں نہ اس وقف زمین کو بیچ کر سوسائٹی میں مسجد کیلئے جگہ خریدی جائے جس پر انہوں نے کہا کہ اگر مسئلے کے اعتبار سے ایسا جائز ہے تو ٹھیک ہے ایسا ہی کر لیں گےاب ان حالات کے پیش نظر دو مسئلوں کا جواب درکار ہے؛
(1) اس وقف زمین کو بیچ کر اس کی قیمت سوسائٹی یا کسی دوسری جگہ میں مسجد کیلئے زمین خریدنے میں یا پہلے سے بنی ہوئی مسجد میں استعمال کی جاسکتی ہے حالانکہ واقف زندہ ہے اور اگر شرعاً اس طرح کرنا جائز ہو تو وہ اس کیلئے راضی بھی ہے؟
(2) جو زمین وقف کی گئی تھی وہ  زرعی زمین ہے اورواقف اپنے نواسوں کے ساتھ ان کے گھر میں رہتا ہے اور جو جگہ واقف نے وقف کی ہے اس کو ابھی تک واقف کے نواسے واقف کی اجازت سے کاشت کر رہے ہیں اور اس کا غلہ واقف اور نواسے خود بھی استعمال کر رہے ہیں اور جب کبھی اس غلے کو بیچا ہے تو اس کے پیسے بھی واقف اور نواسوں نے استعمال کئے ہیں۔ اس کا کیا حکم ہے؟

جواب :

واضح رہے کہ وقف صحیح اور مکمل ہونے کے بعد موقوفہ چیز ہمیشہ کیلئے واقف کی ملکیت سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں داخل ہوجاتی ہے جس کے بعد اس موقوفہ چیز کو خریدنا ، بیچنا  ، اس میں کسی قسم کا تصرف کرنا یا کسی بھی قسم کا فائدہ اٹھانا جو جہتِ وقف کے خلاف ہوجائز نہیں ،البتہ اگر واقف نے بوقت ِ وقف اپنے لئے یا کسی دوسرے آدمی کیلئے وقف تبدیل کرنے کی شرط لگائی ہو تو اس صورت میں وقف کو تبدیل کرنا جائز ہےیا اس نے کوئی شرط تو نہ لگائی ہو لیکن اس موقوفہ چیز کی منفعت کلی طور پر ختم ہوچکی ہو یعنی اس سے کسی قسم کا فائدہ اٹھانہ ممکن نہ ہو تو اس صورت میں بھی جماعت ِ مسلمین کے مشورہ سے وقف کو تبدیل کرنا جائز ہے۔

بصورت مسؤلہ؛
(1) چونکہ وقف مکمل ہوچکا ہے اور واقف نے بوقتِ وقف استبدال کی شرط نہیں لگائی تھی اور نہ ہی مذکورہ زمین ناقابلِ انتفاع ہےاس لئے اس زمین کو بیچنا جائز نہیں  ۔لہذا فی الحال اس جگہ کے گرد چار دیواری بنائی جائے اور اس کو مصالحِ مسجد میں استعمال کیا جائے اور بعد میں ضرورت پڑنے پر اس میں مسجد بنائی جائے۔
(2)واقف کی جانب سے پچھلے سال زمین کی نشاندہی کرنے کے بعد  وقف مکمل ہوا ہے جس کے بعد واقف کو خود بھی اس سے نفع اٹھانا جائز نہیں تھا اس لئے گزشتہ ایک سال جو اس وقف زمین میں تصرف کیا گیا اس پر واقف اور اس کے نواسے سچے دل سے توبہ و استغفار بھی کریں اور اس ایک سال کا ضمان بھی ادا کریں اور ضمان ادا کرنے کی صورت یہ ہے کہ آپ کے علاقے میں اس طرح اور اس جتنی زمین کی ایک سال کی جتنی اجرت بنتی ہے اتنی رقم اس وقف پر خرچ کردی جائے۔  
الدر المختار:
(و) جاز (شرط الاستبدال به) أرضا أخرى حينئذ (أو) شرط (بيعه ويشتري بثمنه أرضا أخرى اذا شاء.
تحته فی الشامیة:
قوله وجاز شرط الاستبدال:اعلم أن الاستبدال علی ثلاثة وجوه:الاول: أن یشرطه الواقف لنفسه او لغیره او لنفسه وغیره،فالاستبدال فیه جائز علیٰ الصحیح وقیل اتفاقاً،والثانی أن لایشترط سواء شرط عدمه أو سکت لکن صار بحیث لاینتفع به بالکلیة بان لایحصل منه شیئ اصلا،أو لایفی بمؤنته فهو أیضا جائز علی الاصح إذا کان باذن القاضی ورأیه المصلحة فیه،والثالث: أن لایشرطه ایضاً ولکن فیه نفع فی الجملة وبدله خیر منه ریعاً ونفعاً،وهذا لایجوز استبداله علیٰ الاصح المختار . . . . الخ
 (كتاب الوقف ، مطلب في استبدال الوقف وشروطه ، 4/ 384، دار الفكر)
الدر المختار:
(منافع الغصب استوفاها أو عطلها) فإنها لا تضمن عندنا . . . . . (إلا) في ثلاث فيجب أجر المثل على اختيار المتأخرين (أن يكون) المغصوب (وقفا) للسكنى أو للاستغلال (أو مال يتيم) . . . . الخ
 (كتاب الغصب ، 6/ 206، دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب