سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-149 Fatwa no: 1447-149

اولاد كے زبردستی کرائے ہوئے نكاح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ہمارے جاننے والوں میں ایک لڑکی تھی  اس کے والدین اس کا نکاح ایک جگہ کرنا چاہتے تھے جبکہ لڑکی وہاں نکاح نہیں کرنا چاہتی تھی  اور وہ اپنی مرضی سے کہیں دوسری جگہ نکاح کرنا چاہتی تھی۔لڑکی کے باپ نے اس سے کہا  کہ جہاں میں تمہارا نکاح کرنا چاہتا ہوں تمہیں ادھر ہی نکاح کرنا پڑے گا اور اگر تم نے وہاں نکاح نہیں کیا تو میں خود کشی کرلوں گا۔لڑکی نےنہ چاہتے ہوئے بھی باپ کی خاطر نکاح کرلیا تو آیا اس طرح اپنی بیٹی یا بہن کو نکاح پر مجبور کرنا جائز ہے اور اس باپ نے جو  اس طرح خودکشی کی دھمکی دیکر زبردستی اپنی بیٹی کا نکاح کرایا تو کیا  یہ نکاح شرعا ً  منعقد بھی ہوچکا  ہے یا نہیں؟لڑکی نے عقد نکاح میں باپ کے ہاتھوں مجبور ہوکر قبول کرلیا تھا۔

جواب :

شریعت مطہرہ نے انسان  کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے متعلق تمام فیصلے اپنی مرضی سے کرے خصوصا ًنکاح کے معاملہ میں تو ہر عاقل و بالغ مرد و عورت شریعت کی طرف سے مکمل مختار ہے  کہ وہ بغیر کسی زبردستی و دباؤ کے اپنی پسند و رضامندی سے جہاں اور جس کے ساتھ چاہے نکاح  کرے اور والدین اپنی اولاد کا جدھر نکاح کرانا چاہتے ہیں اگر اولاد بھی بخوشی اس نکاح کیلئے رضامند ہوں تو اچھی بات ہے اور ایسا نکاح باعثِ برکت بھی ہوتا ہے لیکن اگر اولاد اس نکاح کیلئے دل سے رضامند نہ ہوں تو والدین کو اپنی خوشی کی خاطر اولاد کو اس نکاح کیلئے مجبور نہیں کرنا چاہیے خصوصاً موجودہ دور کہ جس میں بکثرت اس بات کا مشاہدہ کیا جاچکا ہے کہ  زبردستی کرایا ہوا نکاح بجائے الفت و محبت کے میاں بیوی کے درمیان  نفرت اور آخر کار جدائی کا سبب بنتا ہے۔
بصورت مسؤلہ باپ کیلئے مناسب نہیں تھا کہ وہ اپنی بیٹی کو اس طرح نکاح کیلئے مجبور کرتا لیکن چونکہ بیٹی نے عقد نکاح  قبول کرلیا تھا  اس لئے مذکورہ نکاح منعقد ہوچکا ہے اور وہ لڑکا اور لڑکی نکاح کے بندھن میں بندھ کر میاں بیوی بن چکے ہیں ۔
في صحيح البخاري:
عن خنساء بنت خذام الأنصارية، أن أباها زوجها وهي ثيب فكرهت ذلك، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم «فرد نكاحه»،
(كتاب النكاح،باب إذا زوج ابنته وهي كارهة فنكاحه مردود،1/18،  دار طوق النجاة)
و في الهندية:
لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج. ولو ضحكت البكر عند الاستئمار أو بعدما بلغها الخبر فهو رضا هكذا ذكر القدوري وشيخ 
الإسلام، كذا في المحيط وهكذا في الكافي.
(كتاب النكاح ، الباب الرابع ،1/287،  دار الفکر)
و في الهداية:
" ولا يجوز للولي إجبار البكر البالغة على النكاح " خلافا للشافعي رحمه الله لهالاعتبار بالصغيرة وهذا لأنها جاهلة بأمر النكاح لعدم التجربة ولهذا يقبض الأب صداقها بغير أمرها.
 (كتاب النكاح، باب في الأولياء والأكفاء،1/191،  دار الفکر)
و في الدر المختار:
(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر . . . . . . الخ
(كتاب النكاح ،3/9،  دار الفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب