سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-150 Fatwa no: 1447-150

اولاد کے ہوتے ہوئے پوتوں کیلئے وصیت کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے دادا ابو 2025 میں فوت ہوئے ہیں جبکہ میرے والد صاحب کا نام وسیم سمندر تھا اور وہ   2016 میں فوت ہوئے تھے ۔ میرے دادا ابو نے مختلف جگہوں پر پراپرٹی بنائی تھی  یعنی کچھ دکانیں اور گھر جو انہوں نے کرایہ پر دی تھیں لیکن ٹیکس سے بچنے کیلئے انہوں نے کچھ پراپرٹی اپنے نام جبکہ باقی پراپرٹی کچھ ایک بیٹے کے نام کچھ دوسرے کے نام اس طرح تمام اولاد کے نام کچھ نہ کچھ پراپرٹی خریدی تھی یعنی ان کی رجسٹریشن ان کی اولاد (میرے والد، چاچے وغیرہ)کے نام تھی۔میرے دادا ابو نے  اپنی وفات سے تقریباً  چار پانچ سال قبل مجھے اور اپنے  تمام بیٹوں (میرے سارے چاچے)کو بیٹھایا اوریہ کہا کہ آپ سب لوگوں کے اخراجات زیادہ ہے جس کا پورا کرنا آپ سب کیلئے مشکل ہے اس لئے آپ میں سے جس کے نام جو جو پراپرٹی ہے وہ میں اس کو دیتا ہوں وہ اسی کی ہے اور اس کا کرایہ بھی اسی کو ملےگا اور وسیم چونکہ فوت ہوچکا ہے اس لئے اس کے نام جو پراپرٹی ہے وہ میں اس کے بیٹے جو یہ بیٹھا ہوا ہے اس کو دیتا ہوں تاکہ یہ اپنے بہن بھائیوں میں اس کو تقسیم کرے۔اس کے علاوہ کچھ پراپرٹی وہ ہے جو میرے نام ہے اور جس کا کرایہ میرے پاس ہی آتا ہے تو وہ بھی میں تم سب میں تقسیم کرتا ہوں۔دادا ابو کی اولاد میں 5 بیٹے(میرے والد وسیم سمندر سمیت) اور 5 بیٹیاں تھیں  اس لئے دادا ابو نے اس کرایہ کو تقسیم کرنے کی اس وقت ایسی ترتیب بنائی کہ اس کرایہ کو 15 حصوں میں تقسیم کیا جس میں سے ہر بیٹے کیلئے  2 حصے اور ہر بیٹی کیلئے ایک حصہ مقرر کیا  اور یہ کہا کہ میرے مرنے کے بعد بھی تم لوگوں نے اس کو ایسے ہی تقسیم کرنا ہے اور وسیم کا حصہ اس کی اولاد کو  دینا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ میرے پاس نقدی رقم بھی پڑی ہوتی ہے جس سے میں کاروبار کرتا رہتا ہوں اور وہ رقم میری زندگی میں تو میں اس سے کاروبار کرتا رہوں گا لیکن میرے بعد وہ رقم بھی تم اسی ترتیب کے مطابق تقسیم کرنا جو ترتیب میں نے کرایہ کے تقسیم کی تم کو بتائی (یعنی ہر بیٹے کو  2 اور ہر بیٹی کو ایک حصہ) اور اس میں بھی  وسیم سمندر کے جو بھی  معاملات میرے ساتھ بنتے ہیں  وہ  انکی اولاد کو دئے  جائیں  جس پہ اس وقت  سب نے حامی بھری ہے  اور چار بھائیوں (میرے چاچے) کے بیچ  میں سارا معاملہ طے پایا جس کے بعد میں نے دادا ابو کی اجازت سے میرے والد کے نام جو دکان وغیرہ تھی اس پر قبضہ کیا اس طرح کہ میں نے دادا سے کہا کہ میں جاکر موجودہ کرایہ دار سے اپنے نام سے ایگریمنٹ کرتا ہوں جس پر میرے دادا ابو نے کہا کہ ٹھیک ہے جاکر کرلو۔میں گیا اپنے نام سے کرایہ دار کے ساتھ ایگریمنٹ کیا ،کرایہ اپنی مرضی کا مقرر کیا  اور پھر دادا ابو کو آکر بتایا کہ میں نے ایگریمنٹ کرلیا اور کرایہ بھی اتنا اتنا مقرر کرلیاجس پر دادا نے کہا کہ ٹھیک ہے ۔اس کے  بعد کرایہ بھی میں وصول کرتا رہا ہوں اور دادا نے کبھی مجھے کسی چیز سے نہیں روکا اور وہ کرایہ آج تک میرے پاس آرہا ہے۔ لہذا  میں اپنے دادا ابو کی زبانی وصیت پر جو انہوں نے  اپنی زندگی میں اپنے  4 بیٹوں  کو بٹھا کر  کی، اللہ اور اللہ  کے حضور کے نزدیک حلف دینے کے لیے بھی تیار ہوں ۔ میرے چاچے میرے والد کے نام کی پراپرٹی اور جو دادا نے اپنی پراپرٹی کے کرایہ کی تقسیم کی تھی اس میں تو کچھ نہیں کہہ رہے یعنی اس میں میرے ساتھ مسئلہ نہیں بنارہے،وہ پراپرٹی جو میرے والد کے نام تھی اور دادا ابو نے ہمیں ہبہ کی تھی وہ  میں استعمال کر رہا ہوں اور جو دادا کے پراپرٹی سے کرایہ آرہا ہوتا ہے اس میں بھی مجھے اپنا حصہ ملتا ہے لیکن جو دادا ابو کے پاس کاروبار کیلئے نقدی پیسہ پڑا تھا جس کے بارے میں انہوں نے اپنی زندگی میں تقسیم کی تھی اور میرے والد کا حصہ بھی مجھے دینے کو کہا تھا اس میں  میرے چاچے اب انکار کررہے ہیں اور اس حوالے سے   اب وہ فتویٰ نکال رہے ہیں کہ باپ کی زندگی میں فوت ہونے والے بیٹے کو میراث میں کچھ نہیں ملتا   ، لہذا ہم اس بچے(مجھے)  کو نقدی رقم نہیں دیں  گے۔ اب آپ اس بات کی رہنمائی فرمائیں کہ میرے دادا نے جو میرے والد کے نام سے رجسٹرڈ جائیدادا، دادا کے اپنے نام کی پراپرٹی   اور ان کے پاس موجود نقدی کا جو میرے لئے کہا تھا ان تینوں چیزوں  میں میرا حق ہے یا نہیں؟ مجھے اس بات پر کاغذی فتویٰ چاہیے جو میں انکے پاس لیجا کر  رکھوں۔ 
تنقیح:سائل نے فون پر بتایا کہ دادا نے اپنی پراپرٹی کے صرف کرایہ کو تقسیم نہیں کیا بلکہ اس پراپرٹی کو تقسیم کرنے کا کہا تھا کہ اس پراپرٹی کو  15 حصوں میں اس کو میرے بعد تقسیم کرنا لیکن چونکہ اس وقت وہ پراپرٹی کرایہ پر دی گئی تھی اس لئے کرایہ کی بات ہوئی جبکہ دادا نے صراحت سے کہا تھا کہ اس پراپرٹی کو میرے بعد بھی اگر کرایہ پر ہی رہنے دو گے تو اچھا ہوگا کیونکہ یہ تم سب کا ذریعہ آمدنی ہوگا لیکن اگر کوئی اس کو بیچنا چاہے تو سب کو اپنا اپنا حصہ اس ترتیب سے دینا ہوگا جو ترتیب میں نے بناکر دی ہے اور وسیم کا حصہ اس کے اس موجود بیٹے کو دینا ہے۔

جواب :

شریعت ِ مطہرہ نے انسان کو اپنے مال میں وصیت کرنا کا حق دیا ہے لیکن من جملہ دیگر شرائط کے وصیت کے درست ہونے کیلئے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وصیت غیر وارث  کیلئے کی ہو اور ایک تہائی کے اندر اندر کی ہو،بصورت دیگر اس وصیت کو پورا کرنا ورثاء پر لازم نہیں ہوتا۔
بصورت مسؤلہ اگر سوال میں ذکر شدہ تفصیل  واقعی حقیقت پر مبنی ہے تو اس صورت میں آپ بہن بھائیوں کو آپ کے دادا ابو کی طرف ملنے والی پراپرٹی (دکان وغیرہ جو آپ کے والد مرحوم کے نام رجسٹرڈ تھی)ہبہ تھا اور جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے کہ  آپ نے دادا کی زندگی میں اس ہبہ پر قبضہ کیا تھا اس لئے ہبہ تام ہونے کی وجہ سے وہ پراپرٹی آپ بہن بھائیوں کی ہے۔اس کے علاوہ آپ کے دادا کی مذکورہ کاروباری رقم اور ان کی وہ پراپرٹی جوانہوں نے کرایہ پر دی تھی ان دونوں چیزوں کا آپ کے دادا کی طرف سے اپنی زندگی میں تقسیم کرنا اور یہ کہنا کہ میرے بعد وسیم سمندر کی اولاد کو ان کے حصے کا کرایہ دیا جائے  اور بیچنے کی صورت میں بھی ان کا حصہ دیا جائے ، یہ درحقیقت ان کی طرف سے آپ بہن بھائیوں کے حق میں  وصیت تھی اور چونکہ یہ وصیت ایک تہائی کے اندر تھی جیسا کہ سوال سے واضح ہے اس لئے ان دونوں چیزوں(دادا کی کاروباری رقم اور ان کے نام کی پراپرٹی) میں بھی آپ بہن بھائیوں کا حصہ ہے البتہ مذکورہ دونوں اشیاء میں  آپ کے دادا کی باقی اولاد کو جو کچھ ملے گا وہ بطور میراث ملے گا جبکہ آپ بہن بھائی کو ملنے والا حصہ بطور  وصیت ہوگا،اس لئے  آپ کے چچوں پر لازم ہے کہ اپنے والد مرحوم کی وصیت پر عمل کر کے آپ کو وہ رقم حوالہ کریں بصورت دیگر وہ گناہ گار ہونگے اور آخرت میں سخت پکڑ ہوگی ۔  
قال تبارك و تعالى:
فَمَنْ بَدَّلَهُ بَعْدَ مَا سَمِعَهُ فَإِنَّمَا إِثْمُهُ عَلَى الَّذِينَ يُبَدِّلُونَهُ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ فَمَنْ خَافَ مِنْ مُوصٍ جَنَفًا أَوْ إِثْمًا فَأَصْلَحَ بَيْنَهُمْ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ   (البقره: 182-181)
و في الهندية:
ثم تصح الوصية لأجنبي من غير إجازة الورثة، كذا في التبيين ولا تجوز بما زاد على الثلث إلا أن 
يجيزه الورثة بعد موته وهم كبار ولا معتبر بإجازتهم في حال حياته، كذا في الهداية.
 (كتاب الوصايا ،الباب الأول،6/ 90 ، دار الفکر) 
و في الدر المختار:
(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به) والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلا لا، فلو وهب جرابا فيه طعام الواهب أو دارا فيها متاعه، أو دابة عليها سرجه وسلمها كذلك لا تصح وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط لأن كلا منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به لأن شغله بغير ملك واهبه لا يمنع تمامها كرهن وصدقة لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية.
 (كتاب الهبة،5/690 ، دار الفكر)                         

 

Mufti

تاریخ جواب: 14 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب